پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

تحریر: ہما میر

”منصب تو ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی، یہ شرط ہمیں منظور نہ تھی بس اتنی سی مجبوری تھی“ پروفیسر وارث میر کے اس پسندیدہ شعر سے تحریر کا آغاز کر نے کا مقصد ایک سچے اور جرأت مند دانشور اور صحا فی کی سوچ اور فکر کا وہ پہلو سامنے لانا ہے جو آج بھی بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ پروفیسر وارث میر، اپنی ذات میں ایک انجمن اور علم و دانش اورتحقیق وجستجو کا منبہ تھے۔ انھوں نے ہمیشہ حق کی آواز بلند کی۔ وہ اپنے قلم کی طاقت سے ظالم، آمرانہ اور جابر قوتوں کے سامنے ڈٹ گئے۔ وارث میر کی کسی بھی دور کی تحریریں اٹھا کر دیکھ لیں، وہ ان کی سچائی، دیانت اور فکری ارتقاء کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کو انھوں نے ہمیشہ مقدم جانا۔ وہ کہتے تھے، لکھنے والے کا قلم عوام کی امانت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاالحق کے آمرانہ اور گھٹن زدہ دور میں عام لوگوں، خصوصاً عورتوں کے حقوق کے لئے وہ نہ صرف اپنے قلم سے مردانہ وار لڑے بلکہ اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔
وارث میر کی اس دور کی تحریریں ببانگِ دہل یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ایک بیباک اور نڈر صحافی، استاد اور دانشور ہی نہیں، ایک مصلح اور راہنما بھی تھے، وہ جو دوسروں کی بھلائی کو اپنی ذات سے مقدم سمجھتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل علم و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور بلاشبہ قوم کی درست سمت میں راہنمائی کرنے اور سچائی پر ڈٹے رہنے والے اہل علم و دانش ہی اس کڑے امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں۔ پروفیسر وار ث میر جرأت مند صحافی، اورعظیم دانشور ہی نہیں اعلیٰ پائے کے استاد بھی تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ تھے، انھوں نے تقریبا ً 25سال صحافت پڑھائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام معروف اخبارات و جرائد میں ان کی انتہائی فکرانگیز، بیباک اور تاریخی اہمیت کی حامل تحریریں بھی باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ دانشور، استاد اورمحقق ہونے کی حیثیت سے انھوں نے کئی ممالک کے دورے بھی کئے۔ انھوں نے کئی عالمی
کانفرنسوں میں شرکت کے دوران سیاسی، سماجی، ادبی، دینی اور دیگر موضوعات پر جو مقالے پڑھے، وہ آج تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔
پرو فیسر وارث میر ایک سچے اور باکمال لکھاری تھے، تحقیق اور جستجو ان کی تحریروں کے بنیادی جزو تھے۔ ان کے اسی وصف کی وجہ سے اوائل عمری میں ہی ان کا شمار دانشوروں کی صفِ اوّل میں ہونے لگا۔ انہوں نے اپنے مختصر عرصہ حیات میں بےشمار متنوع موضوعات، جن میں سیاست، آمریت، مذہب، فلسفہ، تعلیم، نفسیات، تاریخ، سائنس، ادب، عورتوں کے حقوق اور آزادی کی تحریکوں پر بڑی تفصیل اور بیباکی سے لکھا۔ ان کی تمام تحریریں منطق، جدت اور استدلالِ رائے پر مبنی ہیں جبکہ تازگی اور ہمیشگی ان کی تحریروں کا خاصہ رہی ہے۔ دراصل انھوں نے اپنے قاری کی فِکری تربیت، ایک سچے اور محبِ وطن رہبر کی حیثیت سے کی ہے۔ وہ لوگوں میں جمہوریت اور مختلف سماجی رویوں کے حوالے سے شعور اور آگہی پیدا کرنے کے متمنی تھے۔ ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطے وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ قرآن پاک مسلمانوں کو حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کا پیغام دیتا ہے، اور یہ کہ زندگی کے مسائل کے حوالے سے اللہ کا پیغام ہی فطرتِ انسانی اور حقائق سے قریب تر ہے۔ وہ مسلمانوں کو سائنسی اندازِ فکر اپنانے کے ساتھ ساتھ مذہب کومضبوطی سے تھامنے اور کائنات کے اسرار و رموز اور زندگی کی حقیقتوں کو تلاش کرنے کا درس بھی دیتے تھے۔
وارث میر کی تحریروں کا بغور مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ وہ شاہ ولی اللہ، علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کی روشنی میں پاکستان کو ایک لبرل ڈیموکریٹک ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔پروفیسر وارث میر مشکل سے مشکل حالات میں بھی سچائی کا علم اٹھائے اور خاص طور پر آنے والی نسلوں کو حق بات پر ڈٹے رہنے کا پیغام دیتے ہوئے
اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انتہائی سادہ اور قلندرانہ طبیعت کے مالک، پروفیسر وارث میر نے زندگی کے ہر پہلو کو بہت حساسیت کے ساتھ جیا، انھیں یقین تھا کہ سچ ہمیشہ اور ہر زمانے میں ہی زندہ رہتا ہے۔ یہ ان کی جابر سلطان کے سامنے کلمہء حق کہنے کی جرأت اور سچ کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے کا ہی ثمر ہے کہ 1988 میں ان کی وفات کے بعد، نہ صرف انھیں انسانی حقوق کا خصوصی ایوارڈ دیا گیا بلکہ 2012 میں، انھیں بعد از مرگ، پاکستان کے اعلیٰ ترین سِول ایوارڈ ”ہلال امتیاز“ سے بھی نوازا گیا۔ 2013 میں بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے اُن کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ”فرینڈز آف بنگلہ دیش“ ایوارڈ دیا گیا۔ یہ تمام اعزازات گواہ ہیں کہ سچ ہر زمانے میں زندہ رہتا
ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ وارث میر نے لندن میں حصول تعلیم کے لئے قیام کے دوران، 1978 میں ہونے والی ایک سرجری سے پہلے اپنے بچوں کو تاکید کی تھی کہ ”وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں گے“ اور آج اللہ تعالیٰ نے ان کی ہونہار اور فرمانبردار اولاد کو یہ توفیق دی ہے کہ وہ اپنے والد محترم کی خواہش کو پوری سچائی اور جرأت مندی سے پورا کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ وارث میر کے تین صاحبزادے صحافت کے پیشے سے منسلک ہیں اور اپنے والد کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مئی 2020 میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر فیاض چوہان نے اپنے کپتان کو خوش کرنے کے لیے پروفیسر وارث میر پر غداری کے بے بنیاد الزامات عائد کر دیے۔ وزیر موصوف اپنی کم علمی اور بغضِ معاویہ میں یہ بھی بھول گئے کہ بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے محسنِ صحافت پروفیسر وارث میر پر جس ایوارڈ کے وصول کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہ ان کی وفات کے چھبیس برس بعد دیا گیا اور اس کی وجہ وارث میر کی جانب سے مشرقی پاکستان میں نہتے عوام کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کرنا تھا۔
بہرحال اس الزام کے ردعمل میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھ اورپنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر وارث میر کے حق میں قراردادیں منظور کیں اور ان پر لگائے گئے غداری کے فتوے سختی سے مسترد کر دیے۔
پنجاب اسمبلی، سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین نے وارث میر کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نہ صرف انکو ہدیہ تبریک پیش کیا بلکہ صحافت، جمہوریت اور انسانیت کی بقاء کے لئے وارث میر کی جدوجہد اور بے لوث خدمات کو سلام بھی پیش کیا۔ اس طرح اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button