پیپلزپارٹی کی سی ای سی سے مثبت رویہ سامنے آیا ہے

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں بڑا مثبت رویہ سامنے آیا ہے۔پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان پیپلزپارٹی کی اس بات پر خراج تحسین پیش کیا گیا کہ ہم جو بھی بات کر رہے ہیں وہ تجاویز ہیں اور حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کی سی ای سی سے بڑا مثبت قسم کا رویہ سامنے آیا ہے وہ بھی ہمارے مدنظر تھا اور اسی کو آگے لے کر پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا اور حتمی فیصلے ہوں گے اور اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا’۔
مریم نواز نے کہا کہ ‘ملاقات میں نواز شریف بھی ویڈیو کے ذریعے شامل ہوئے اور کئی امور زیر بحث آئیں لیکن حتمی فیصلہ یکم جنوری کو رائیونڈ میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ہوں گے جہاں سارے معاملات کو زیر بحث لائیں گے’۔پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘بلاول بھٹو نے جو باتیں کی ہیں وہ اچھی ہیں کیونکہ انہوں نے کہا کہ سی ای سی میں جو سفارشات آئی ہیں وہ پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے اورمشترکہ فیصلہ ہوگا تو ہم اجلاس میں ان کی باتوں پر بحث کریں گے اور پی ڈی ایم مشاورت سے فیصلہ کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مشاورت ہوگی جو سب کا فیصلہ ہوگا ہم سب کا فیصلہ ہوگا کیونکہ انہوں نے بھی یہی کہا ہے تو ظاہر پی ڈی ایم سب کی بات سنے گی اور جو بھی فیصلہ ہوگا باہمی مشاورت سے ہوگا اس لیے پہلے سے قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں ہے’۔
خواجہ آصف کی گرفتار سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی سیاست کا تسلسل ہے، جس طرح موجودہ جعلی حکومت نیب کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے اور ماضی میں بھی اسی طرح گرفتاریاں کی ہیں، چھاپے مارے ہیں اور اور سیاست دانوں کی توہین اور ان کی تذلیل کی ہے پھر میڈیا کے ذریعے اس کا ٹرائل ہوتا ہے اور سچ جھوٹ کا پتہ چلتا ہے جب تک اس کا سیاسی کیریئر میڈیا کے ذریعے تباہ کر دیا جاتا ہے’۔پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ‘اس روش کی ہم مذمت کریں گے اور عملی طور پر ردعمل کے لیے مشاورت کریں گے، ایسا نہیں ہے کہ آرام سے لوگوں کو پکڑتے چلائیں اور ہم خاموش رہیں گے، ہم باقاعدہ مظاہرے اور احتجاج کے لیے تجاویز دیں گے’۔
