پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری قاتلانہ حملے میں جاں بحق

نوشہروفیروزمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ شہنازانصاری اپنے بہنوئی زاہد کھوکھر کے چہلم میں شرکت کے لئے نوشہروفیروز کے علاقے دریا خان مری پہنچیں جہاں ان کے بھتیجے نے ان پر فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں شہناز انصاری شدید زخمی ہوگئیں اور انہیں فوری طور پر نواب شاہ اسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم پی اے شہناز انصاری کے جسم میں تین گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں. ذرائع کے مطابق قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والی ایم پی اے شہناز انصاری بہنوئی کے چالیسویں پر موجود تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایم پی اے کے بہنوئی کا اپنے بھائیوں کیساتھ ملکیت کا تنازعہ تھا۔ خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ مرحوم بہنوئی ڈاکٹر زاہد کھوکھر کے بھائیوں نے ایم پی اے کو گاؤں آنے سے منع کررکھا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہناز انصاری کے بہنوئی مرحوم زاہد کھوکر کے بھتیجے نے فائرنگ کی۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہناز انصاری کے قتل پر مذمت کا اظہار کیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہناز انصاری ایک بہترین سیاسی کارکن اور پارٹی کا اثاثہ تھیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہناز انصاری کے قتل کی خبر سن کر صدمے میں ہوئی، اس قتل کی فوری تحقیقات کی جائیں اور شہناز انصاری کے قاتلوں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں شہناز انصاری کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی نوشہروفیروز سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے ایم پی اے شہناز انصاری کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے.
ادھر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ پولیس آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق آئی جی سندھ سید کلیم امام نے مذکورہ واقعے پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بینظیرآباد سے تفصیلات طلب کیں۔ سید کلیم امام نے ہدایت دی کہ واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری طور پر کارروائی عمل میں لائی جائے اور واقعاتی اور عینی شواہد کی مدد سے تفتیش اور تحقیقات کے عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے ہدایت دی کہ مقتولہ کے اہل خانہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کو موثر بنایا جائے۔
علاوہ ازیں سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے پیپلزپارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی کی قاتلانہ حملے میں موت پر اظہار افسوس کیا۔ایک بیان میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہناز انصاری کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ فوری طلب کرلی ہے۔
شہناز انصاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button