میری اہلیہ کو بالوں سے پکڑ کر 3 گولیاں ماری گئیں،حمید انصاری

نوشہرو فیروز میں قتل ہونے والی پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے شوہر ڈاکٹر حمید انصاری نے کہا ہے کہ میری اہلیہ کو بالوں سے پکڑ کر3 گولیاں ماری گئیں۔ رکن سندھ اسمبلی شنہاز انصاری کے شوہر ڈاکٹر حمید انصاری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ میری بیوی شہناز انصاری کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور ایس ایس پی فاروق احمد کو دھمکیوں کی اطلاع بھی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس اسکواڈ کا مطالبہ بھی کیا تھا اور جہاں چہلم ہو رہا تھا وہاں پولیس نہیں تھی۔
علاوہ ازیں ویڈیو بیان میں حمید انصاری کا مزید کہنا تھا کہ 4 روز قبل بھی ایس ایس پی کو سیکیورٹی کی درخواست دی جس کے ثبوت بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہلیہ کو بالوں سے پکڑ کر 3 گولیاں ماری گئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں ہماری جماعت کی حکومت ہے لیکن بتائیں ہم کہاں جائیں؟
دوسری جانب شہناز انصاری کی جانب سے ضلع نوشہرو فیروز کے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کو لکھا گیا خط بھی سامنے آگیا۔ خط میں مبینہ طور پر شہناز انصاری نے لکھا کہ بہنوئی کے انتقال کے بعد سے اس کا بھائی اور بھتیجا ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں، بہنوئی نے انتقال سے پہلے تمام جائیداد اپنی بیوی اوربچوں کے نام کی تھی۔
خیال رہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں دریا خان مری کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری شدید زخمی ہوگئیں۔ انہیں زخمی حالت میں پیپلز میڈیکل اسپتال نوابشاہ منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری اپنے بہنوئی کے چہلم میں شرکت کرنے آئی تھیں، فائرنگ کا واقعہ زمین کے تنازع پرپیش آیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہناز انصاری کے بہنوئی مرحوم زاہد کھوکر کے بھتیجے نے فائرنگ کی۔
شہناز انصاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button