پی آئی اے کی خوش قسمت فلائٹ کابل سے کیسے واپس پہنچی؟

پی آئی اے کے کیپٹن مقصود بجرانی کو اندازہ نہیں تھا کہ کابل کی یہ غیر معمولی پرواز ان کی کپتانی کی صلاحیت، ان کے تجربے اور قابلیت سب کو امتحان میں ڈالے گی۔ ان کے بقول ان کی تربیت جنگی زون میں کپتانی کے لیے نہیں ہوئی کہ وہ ہیرو کہلا سکیں۔
کیپٹن مقصود بجرانی پی کے 6252 کے کپتان تھے جس نے کابل ائیرپورٹ پر انتہائی خراب حالات ہونے کے باوجود جرات مندانہ فیصلہ کر کے پرواز اور 170 مسافروں کو بحفاظت اسلام آباد پہنچایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے فرسٹ آفیسر سجاد غنی کی ہوشیاری اور عقلمندی بھی ان کے کام آئی۔
جب کیپٹن بجرانی کابل کے لیے اپنی پرواز لے کر پہنچے اس وقت کابل کی فضا ہیلی کاپٹروں اور امریکی ایئر ٹو ایئر ٹینکر سے بھری ہوئی تھی جو اپنے طیاروں کی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال چکے تھے۔ دوسری جانب مختلف سفارت خانوں سے غیر ملکی عملے کو بذریعہ ہیلی کاپٹرز ہوائی اڈے پر لایا جا رہا تھا اور آگے امریکی فضائیہ اور دوسرے ملٹری طیاروں میں باہر بھیجا جا رہا تھا۔ کپیٹن بجرانی نے معمول کے مطابق مسافروں کو اتارا مگر اس دوران ایئر ٹریفک کنٹرول میں مختلف تبدیلیاں ہوتی رہیں اور گاہے بگاہے ایئر ٹریفک کنٹرولر غائب ہوتا رہا۔ کپتان نے اس دوران ایسے اہم اقدامات کیے جنھوں نے ان کی طیارے کی بحفاظت اڑان میں مدد کی۔ چونکہ پی آئی اے کی کابل کے لیے روزانہ ایک پرواز ہوتی ہے مگر اس دن دو پروازیں تھیں اس لیے پی آئی اے کے بڑے ٹرپل سیون طیارے کو گراؤنڈ کنٹرولر نے ایئر برج دینے کا فیصلہ کیا اور کیپٹن بجرانی کے ایئربس اے تھری ٹوئنٹی طیارے کو تھوڑے فاصلے پر بغیر ایئربرج کے مسافروں کو سوار کروانے کے لیے متبادل جگہ دی۔ اس کے نتیجے میں انھیں نہ صرف مسافروں کو سوار کرنے میں مدد ملی بلکہ آخری وقت تک وہ تمام مسافر طیارے تک لانے میں کامیاب بھی ہو گئے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق اُس وقت ان کے ساتھ ہوائی اڈے پر قطر ایئرویز کا ایک طیارہ، ایئر انڈیا کا طیارہ اور مقامی ایئرلائن ’کام ایئر‘ کے طیارے بھی پرواز کے منتظر تھے۔ اسی دوران امریکی فضائیہ نے ہوائی اڈے کا مکمل کنٹرول لے لیا تھا اور رن وے کے ارد گرد ہیلی کاپٹروں کی پروازیں شروع تھیں جن کے نتیجے میں ٹیک آف کرنے والے طیاروں کو مشکل پیش آ رہی تھی۔ کیپٹن بجرانی اور فرسٹ آفیسر سجاد غنی یہ سب اپنے طیارے سے دیکھ رہے تھے مگر انھیں ابھی تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ چکے ہیں اور کابل بدل گیا ہے۔ یاد رہے کہ فرسٹ آفیسر سجاد غنی نے اپنے طور پر اسلام آباد سے پرواز کے وقت پانچ سو لیٹر اضافی ایندھن لے جانے کا فیصلہ آخری وقت میں کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ذہن میں ویسے ہی خیال آیا کہ ہمیں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ حالات غیر یقینی تو تھے ہی۔‘
کہانی کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بتانا ضروری یے کہ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اپروچ کنٹرول گذشتہ دو دہائیوں سے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے آپریٹ کیا جاتا ہے جو کہ افغانستان کی ایئر سپیس کو ورچوئلی وہاں سے ریڈار اور دوسرے آلات کی مدد سے مینیج کرتے ہیں۔ یہ کنٹرول امریکی فضائیہ کے زیرِ انتظام رہا ہے۔ اس کی مدد ہوائی اڈے کا ٹاور کنٹرول کرتا ہے جو ائیر پورٹ اور اس کے آس پاس کی فضا اور آلات کی نگرانی کرتا ہے اور ہوائی اڈے کو مینیج کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروازوں کو اترنے اور پرواز کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
پی آئی اے کے دونوں پائلٹس سے بات کر کے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے پر اس دوران مواصلات کا مکمل بریک ڈاؤن ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق گراؤنڈ کنٹرول بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ کابل پر حملہ ہو گیا ہے اور وہ صرف عسکری طیاروں کو اڑنے اور اترنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
پی آئئ کے پائلٹس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس دوران بار بار ٹاور سے پوچھتے رہے کہ کیا کرنا ہے مگر ٹاور انھیں مکمل طور پر نظر انداز کرتا رہا اور چند بار صرف یہ جواب دیا کہ وہ ملٹری طیاروں کے ساتھ مصروف ہے اس لیے کوئی جواب نہیں ہے۔ کپتان بجرانی نے بتایا کہ اس دوران طویل دورانیے کے بلیک آؤٹ تھے، ’کوئی جواب ہی نہیں تھا کنٹرول ٹاور سے اور کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ طیارہ ہوائی اڈے پر ایک جزیرے کی طرح ہوتا ہے جس کی مدد گراؤنڈ کنٹرول اور ٹاور کنٹرول کرتے ہیں۔‘ ڈھائی گھنٹے کی بجائے چھ گھنٹے کے بعد پی آئی اے کے ٹرپل سیون کو ایئر ٹریفک کنٹرولر نے پرواز کی اجازت دی جو کہ تقریباً ایک گھنٹے تک رن وے کے قریب انتظار کرتا رہا۔ اس کے بعد قطر ایئرویز کے طیارے کو نکلنے کی اجازت ملی اور وہ پرواز کر کے چلا گیا۔ کپتان بجرانی نے بتایا کہ اس دوران ہم نے بار بار ٹاور کنٹرول اور گراؤنڈ کنٹرول سے پوچھا کہ پش بیک کی اجازت دیں۔ فرسٹ آفیسر سجاد کے مطابق چوتھی یا پانچویں بار اجازت ملی کہ انھیں ہولڈنگ پوائنٹ پر جانے دیا جائے مگر ان کے مطابق پرواز کی اجازت نہیں ملی اور جواب ملا کہ ٹاور پر حملہ ہو رہا ہے، پہلے ٹاور کہتا تھا کہ آس پاس حملے ہو رہے ہیں مگر اب اس نے کہا کہ ٹاور پر حملہ ہو رہا ہے۔
ہولڈنگ پوائنٹ رن وے کے کنارے پر وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے مڑ کر طیارہ رن وے پر آتا ہے اور پھر رن وے پر دوڑتا ہے۔ طیارہ کنٹرول ٹاور کی اجازت کے بغیر رن وے پر نہیں آ سکتا۔
اس اثنا میں پائلٹس نے آپس میں گفتگو کی اور اپنے پاس دستیاب آپشنز پر بات کی۔ فرسٹ آفیسر سجاد غنی نے بتایا کہ اس موقع پر ’میں نے کہا کہ اب واپس ٹارمیک پر نہیں جایا جا سکتا کیونکہ وہاں اب کچھ نہیں ملے گا‘۔ دونوں پائلٹس نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ذہن میں یہ بھی خیال آیا کہ وہ مسافر جو ان کے ساتھ ہیں انھیں اب واپس ٹارمیک پر لے جانا درست نہیں ہو گا اس لیے انھوں نے ہولڈنگ پوزیش پر جمے رہنے کا فیصلہ کیا۔
کپتان بجرانی نے بتایا کہ ’اسی دوران ٹاور اور ایئر ٹریفک کنٹرولر غائب ہو گیا اور ہمیں یہ تسلی ہوئی کہ اب وہ گراؤنڈ پر رابطہ نہیں کر سکتا، اب ہم نکل سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اپنے فرسٹ آفیسر سجاد غنی سے کہا کہ ہم فارمیشن پرواز کریں گے۔‘۔دراصل فارمیشن برواز جنگی طیارے کرتے ہیں جب وہ اکٹھے آگے پیچھے دو یا تین ایک ہی رن وے سے پرواز کرتے ہیں۔ جب کپتان مقصود بجرانی نے دیکھا کہ امریکی فضائیہ کا ایک بڑا بوئنگ سی 17 طیارہ پرواز کر رہا ہے اور اس کے پیچھے دو چھوٹے چھوٹے طیارے رن وے پر آئے ہیں تو انھوں نے فوری طور پر عملے سے کہا کہ ’تیاری پکڑیں نشستوں پر بیٹھیں اور سیٹ بیلٹ لگائیں، ہم ٹیک آف کے لیے تیار ہیں۔ ہم جا رہے ہیں۔‘
کیپٹن بجرانی نے بتایا کہ ’میں نے جلدی سے دوسرا انجن بھی سٹارٹ کیا اور طیارے کو تیزی سے رن وے پر لایا اور ان چھوٹے طیاروں کے پیچھے پوری رفتار سے دوڑا دیا۔‘ اس سے قبل قطر سے اپروچ کنٹرولر نے کہا کہ ’جو بھی کرنا ہے آپ اپنے رسک پر کر لیں۔ جواب میں کیپٹن نے کہا کہ ہم پرواز کر رہے ہیں تاکہ سب کو پتا چل جائے اور خبردار ہو جائیں۔‘
کیپٹن بجرانی نے بتایا کہ ’یوں ان دو چھوٹے طیاروں کے پیچھے پیچھے ہم نے اپنے طیارے کو لگایا تاکہ کم سے کم رن وے استعمال کر کے پرواز کر سکیں اور یوں ہم محو پرواز ہوئے۔‘ اس دوران فرسٹ آفیسر نے کپتان کو یہ بھی بتایا کہ اضافی ایندھن کے باوجود ایندھن کم ہو رہا ہے کیونکہ گھنٹے تک طیارہ ایک انجن اور اے پی یو یعنی جنریٹر پر چلتا رہا، جس میں بہت سا ایندھن استعمال ہوا۔
جواب میں کپتان بجرانی نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم ایندھن کی ایمرجنسی کا اعلان کر کے پشاور اتر سکتے ہیں‘ مگر 45 منٹ کی پرواز کے لیے ان کے پاس منزل پر پہنچنے پر بھی کافی ایندھن بچ گیا تھا۔
فرسٹ آفیسر سجاد کے مطابق جیسے ہی طیارے نے پرواز کی تو انھیں فضا میں درجنوں طیارے اور ہیلی کاپٹر نظر آئے۔ یہ ایک اضافی چیلنج تھا جس کے لیے ان کو اپنے آلات کی مدد اور نظر کا استعمال کر کے پرواز کرنی تھی جیسا کہ پرانے زمانے میں کی جاتی تھی مگر موسم کا صاف ہونا مددگار رہا اور یوں یہ ڈرامائی پرواز اسلام آباد واپس پہنچی۔
جب ایئر مارشل ارشد ملک سے پوچھا کہ پرواز کو یوں اڑانا کیا رسک تھا؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم نے ایک بہت کیلکولیٹڈ رسک لیا۔ ہم نے ایئرسپیس کا جائزہ لیا، پاک فضائیہ سے انٹیلیجنس لی اور ساری صورتحال کو دیکھا کہ بہت سے طیارے ہوائی اڈے اور فضا میں ہیں، جس سے تسلی ہوئی اور ہمیں لگا کہ ہم ا یسا کر کے بہت زیادہ رسک نہیں لے رہے جو کہ درست فیصلہ ثابت ہوا۔‘
