پی آئی اے کے پائلٹس، افسران کی تنخواہوں میں 10 سے 25 فیصد تک کٹوتی

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے افسران اور پائلٹس کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی تاہم کم درجے اور ایسے ملازمین جو افسر نہیں انہیں اس کٹوتی سے استثنٰی حاصل ہے۔
اس اقدام نے پاکستان ائیر لائنز پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) میں غصے کی لہر دوڑا دی اور تنظیم نے اسے ’غیر منصفانہ‘ اور حکومتی ہدایات کے برخلاف قرار دیا کہ تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ پی آئی اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہوابازی کی صنعت بحران کا شکار ہے اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال میں دنیا کی سب سے منافع بخش ایئر لائنز کےلیے کام کرنے والے افراد بھی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن کووِڈ 19 کے باعث معمول کے آپریشن کے مقابلے میں 10 فیصد رہ گیا ہے اور روزانہ 110 پروازوں کی روانگی کے بجائے 10 پروازیں روانہ ہورہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہمیں ائیر لائن کو متحرک رکھنے کےلیے بہت سے اخراجات کم کرنے پڑے لہٰذا صرف کم درجے اور وہ ملازمین جو افسر نہیں ان کے سوا سب کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔ تنخواہوں میں کٹوتی کے شیڈول کے مطابق ایک سے 2 لاکھ روپے کی تنخواہ میں 10 فیصد، 2 سے 3 لاکھ روپے تنخواہ میں 15 فیصد، 3 سے 5 لاکھ روپے تنخواہ میں 20 فیصد جب کہ 5 لاکھ روپے سے زائد کی تنخواہ میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ ترجمان پی آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور جب تک معمول کے آپریشن بحال نہیں ہوجائیں اس وقت تک کےلیے عارضی طور پر کیا گیا اور دیگر تمام کیڈر کے ملازمین نے اسے قبول کرلیا‘۔
دوسری جانب پالپا کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ’کووڈ 19 کے سلسلے میں 4 اپریل سے چلائی گئی خصوصی پروازوں میں ناقابل قبول حفاظتی اقدامات پر آواز اٹھانے پر ایک قسم کی سزا ہے‘۔ پالپا کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’کسی نوٹی فکیشن کے بغیر قومی ائیرلائن کے پائلٹس کی مجموعی تنخواہوں میں 25 سے 30 فیصد کی کٹوتی غیر منصفانہ اور ان کا مورال کم کرنے کا سبب بنے گی‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹس پہلے ہیں کام کے سخت دباؤ کی صورت حال کے باعث پریشر میں ہیں جو ممکنہ طور پر پرواز کی حفاظت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button