پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بزدار کے خلاف دوبارہ متحرک


پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کا ہم خیال گروپ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف دوبارہ متحرک ہوگیا ہے جسکے بعد لاہور میں سیاسی سرگرمیوں میں پھر سے تیزی آرہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں تحریک انصاف کے کلیدی اتحادی چوہدری برادران بھی پہلے سے خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔ حکومت کے لیے پریشان کن امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں ق لیگ نے وزیر اعظم کے عشائیہ میں شرکت سے بھی معذرت کر لی تھی۔ یہی نہیں بلکہ کسانوں کے احتجاج اور گندم کی نئی امدادی قیمت کے حوالے سے بھی ق لیگ اپنی اتحادی تحریک انصاف کی ڈٹ کر مخالفت کرر ہی ہے۔ ان حالات میں تحریک انصاف کے ناراض اراکین کا ایک بار پھر متحرک ہونا بزدار حکومت کی بنیادیں ہلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ خیال رہے کہ پنجاب میں بزدار کی حکومت ق لیگ کی حمایت کی مرہون منت ہے اور اگر چوہدری برادران بزدار کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں تو وہ وزیر اعلی کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں حکومتی جماعت کے کم ازکم 16 ہم خیال ایم پی ایز کی بڑی بیٹھک ہوئی یے جس میں بزدار حکومت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بیٹھک میں بزدار سرکار سے ترقیاتی فنڈزلینےکے لئے بھی دباؤ ڈالنے کافیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہم خیال گروپ کے جن اراکین نے وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف حکمت عملی ترتیب دینے والے عشائیہ میں شرکت ان میں ایم پی اے ملک غضنفر عباس چھینہ ، وہاڑی سے منتخب ہونے والے علی رضا خان خاکوانی اور اعجاز سلطان بندیشہ، لیہ شہر سے تعلق رکھنے والے سردار شہاب الدین سہیڑ، چنیوٹ سے رکن اسمبلی بننے والے تیمور علی لالی، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حلقہ پی پی 118 سے آزاد منتخب ہونے والے بلال اصغر وڑائچ اور راولپنڈی سے منتخب اعجاز خان جازی، شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے جن دیگر اراکین نے اس عشائیہ میں شرکت کی ان میں حلقہ پی پی 92 ضلع بھکر سے منتخب عامر عنایت شہانی، ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سردار محی الدین کھوسہ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے آبائی شہر تونسہ شریف سے منتخب خواجہ داود سلیمانی، وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن کے بھائی وسیم افضل چن، ضلع ساہیوال منتخب بزرگ سیاستدان علی اصغر خان لاہڑی، ضلع سرگودھا سے تیسی بار منتخب ہونے والے چوہدری فیصل فاروق چیمہ، پی پی 71 حافظ آباد شہر سے منتخب احسن جہانگیر بھٹی اور جھنگ سے منتخب کرنل ر غضنفر علی قریشی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی مامون جعفر تارڑ اور احمد پور شرقیہ سے منتخب ایم پی اے صاحبزادہ گزین عباسی سمیت چار ایم پی ایز اپنے حلقوں میں مصروفیت کے باعث اس اجکاس میں شریک نہ ہوسکے۔ لاہور میں ہونے والی میٹنگ کے دوران تونسہ شریف سے منتخب تحریک انصاف کے رکن اسمبلی خواجہ داؤد سلیمانی نے بزدسر حکومت کے خلاف سے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی نامزدگی کے لیے تائید کرنے والوں میں میں پہلا نام داؤد سلیمانی کا تھا تاہم عثمان بزدار کے وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور اور کئی ماہ تک بول چال بھی بند رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم خیال ایم پی ایز کے اکٹھ میں پنجاب کی سیاسی صورتحال، آئندہ برس مارچ میں ہونے جارہے سینٹ انتخابات اور اراکین اسمبلی کے حلقوں کے مسائل زیر بحث آئے۔ اس عشایئے میں پی ٹی آئی کے ہم خیال اراکین اسمبلی نے گروپ کو مزید منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھڑا جلد دوبارہ میٹنگ کرے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ہم خیال اراکین پر مشتمل یہ گروپ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے پہلے بھی ملاقاتیں کر چکا ہے تاہم ہر بار انہیں ایڈجسٹ کرنے کی یقین دہانی کے باوجود مطمئن نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان خان کے معاملے پر بھی ہم خیال گروپ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا ساتھ دیا تھا تاہم بعد ازاں بار پھر اس کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہو گئے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں اس دھڑے کا دوبارہ منظم ہونا بزدار حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے فاروڈ بلاک یا ہم خیال دھڑے کی تازہ سرگرمیوں سے متعلق سنیئر وزیر عبد العلیم خان نے بھی وزیراعظم کو آ گاہ کر دیا یے۔ کپتان نے 11 نومبر کو عثمان بزدار سے اسلام آباد میں میٹنگ کرکے معاملات کو سلجھانے کی ہدایت کی تاہم اگر ہم خیال دھڑے کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو نہ صرف بزدار کی کرسی خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ سینیٹ انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button