کامیڈی کہنے کا مطلب تھا، آئی جی کو کیسے اٹھایا جاسکتا ہے

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے کامیڈی کہنے کا مطلب تھا، آئی جی کو کوئی کیسے اٹھا سکتا ہے، مزار قائد واقعے کی ایک اور بھی درخواست تھانے میں پڑی ہوئی ہے، یہ درخواست مزار قائد انتظامیہ نے دی، ہمارا مطالبہ ہے اس پر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جو کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ جس طرح کہانی پیش کی جارہی ہے، کیسے ممکن ہے کسی صوبے کے آئی جی کو کوئی اٹھا کر لے گیا ہو، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ واقعے کی انکوائری ہوئی اور جن پر الزام تھا ان کے خلاف کاروائی ہوگئی ہے۔ لیکن ایک درخواست مزار قائد کی انتظامیہ کی طرف سے بھی گئی ہوئی ہے، حلیم عادل کی درخواست الگ ہے، مزار قائد میری وزارت کے نیچے آتا ہے۔ اس درخواست میں ہے کہ یہ مزار قائد پر آئے، ہلڑبازی کی، جنگلے کراس کیے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ مزار قائد انتظامیہ کی درخواست پر جو بھی قانونی کارروائی بنتی ہے وہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو بربادی کرکے گئے ہیں، اس کو ہم ٹھیک کررہے ہیں، اگر میں بربادیاں گنوانا چاہوں تو بہت زیادہ ہیں۔ اگر آپ تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں وہ آپ کا آئینی حق ہے، اگر استعفے دینا چاہتے ہیں تو ہم ضمنی انتخابات کروا دیں گے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتحاد چلنے والا نہیں ہے۔ان کا بیانیہ مختلف ہے۔ پیپلزپارٹی صوبے میں حکمرانی کررہے ہیں جب کہ یہ سڑکوں پر ہیں، ان کا ایک لیڈر باہر بیٹھ کر بیان بازی کررہا ہے۔ زرداری نے بڑی چالاکی سے اٹھارویں ترمیم میں سارے اختیارات حاصل کیے، وہ اس حکومت کو انجوائے کررہے ہیں۔ جب کہ یہ سڑکوں پر آگئے ہیں۔
