امریکی سفارت خانے میں کس دل جلے نے کپتان کے خلاف غصہ نکالا؟

ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں اپنے حریف جوبائیڈن کے ہاتھوں شکست تسلیم نہیں کی تھی کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے نواز لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی ایک عمران خان مخالف ٹویٹ ری ٹویٹ کر دی جس نے اسلام آباد کے سرکاری حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ پھر کچھ ہی دیر میں پاکستانی سوشل میڈیا پر حکومت پاکستان کے ایما پر ‘امریکی سفارتخانہ معافی مانگے’ کا ٹرینڈ چل پڑا۔ چنانچہ امریکی سفارتخانے کو بالآخر احسن اقبال کا وزیر اعظم مخالف ٹویٹ ری ٹویٹ کرنے پر معافی مانگنا پڑ گئی۔
11 نومبر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلات کے مطابق امریکی سفارتخانے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کی ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا گیا۔ اگرچہ بعد ازاں سفارتخانے کی جانب سے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا تاہم اس کے ردعمل میں امریکی سفارتخانے کو شدید تنقید کا سامنا رہا جس کے بعد اسے باقاعدہ معافی مانگ کر پاکستانی سیاست میں اپنی غیر جانبداری ظاہر کرنا پڑی۔ یہ کوئی معمولی ٹویٹ اس لیے نہیں تھا کیونکہ اس میں احسن اقبال نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحریر شیئر کی ہوئی تھی جس کا عنوان ’ٹرمپ کی شکست دنیا بھر کے ڈیموگاگز اور آمروں کے لیے دھچکا‘ تھا۔ احسن اقبال نے اس خبر کو شیئر کرنے کے ساتھ کمنٹ لکھا ہوا تھا کہ ’ہمارے پاس پاکستان میں بھی ایک ایسا ہی شخص ہے۔ اسے جلد باہر نکال دیا جائے گا۔ انشا اللہ۔‘
خیال رہے کہ ڈیموگاگ ایسے سیاسی رہنما کو کہتے ہیں جو دلائل کی بجائے بیان بازی سے لوگوں کی توجہ حاصل کرے۔ احسن اقبال اپنے ٹویٹ میں بظاہر وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کر رہے تھے۔ احسن اقبال نے یہ ٹویٹ 10 نومبر کو کیا لیکن 11 نومبر کو اسے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا گیا جس پر حکومت پاکستان نے اپنی تشویش ظاہر کی۔ مختصر دورانیے کے بعد سفارتخانے نے اپنا یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اس کے بعد سے ’امریکی سفارتخانہ معافی مانگے‘ ٹرینڈ کرنے لگا اور امریکی حکام پر تنقید کی جاتی رہی۔ ان پر جانبدار ہونے کا بھی الزام لگتا رہا۔ امریکی حکام پر تنقید کرنے والوں میں ایک نام انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کا تھا جنھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’امریکی سفارتخانہ اب بھی ٹرمپیئن طرز پر چل رہا ہے جس میں وہ ہماری اندرونی سیاست میں مداخلت کے ساتھ ایک سزا یافتہ مفرور کا ساتھ دے رہا ہے۔‘ انہوں نے مذید لکھا کہ مونرو ڈاکٹرائن کئی صدیوں پہلے ختم ہو چکی ہے! امریکی سفارتخانے کو سفارتی روایات کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر یہ غلط ہے تو ٹویٹ کے ذریعے وضاحت کریں ورنہ معافی کی ٹویٹ جاری کرنا لازم ہے۔‘
اپنے وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے حکومت کی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن عمران غزالی نے لکھا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اسلام آباد کا امریکی سفارتخانہ اپنی ہتک آمیز ٹویٹ پر معافی مانگے کیونکہ امریکی حکام کی جانب سے ایسا رویہ بالکل قابلِ قبول نہیں اور اس حوالے سے تحقیقات ہونی چاہییں۔ تحریک انصاف کے حمایتی بیشتر صارفین کا خیال تھا کہ امریکی حکام نے اس ٹویٹ کے ذریعے پاکستان میں حزب اختلاف کی حمایت ظاہر کی ہے۔ تاہم کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ سفارتخانے کے عملے سے غلطی سے یہ ری ٹویٹ ہوا ہو۔ سلمان رضا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ممکن ہے کہ عملے نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہو، یا پی ڈی ایم کے کسی حامی سے غلطی سے یہ ہوا ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حال میں سفارتخانے کو وضاحت کرنی چاہیے۔
جواب میں متنازع ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کے بعد امریکی سفارتخانے نے باقاعدہ بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی۔ اپنی ٹویٹ میں سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک بغیر منظوری کے رسائی حاصل کی گئی۔ امریکی سفارتخانہ سیاسی پیغامات کی توثیق نہیں کرتا اور نہ ہی انھیں ری ٹویٹ کرتا ہے۔‘ ’اس غیر منظور شدہ پوسٹ کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔‘
لیکن اس معافی کے باوجود وداقی وزیر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’یہ ٹھیک نہیں ہے، خاص کر تاخیر کے بعد۔ آپکا اکاؤنٹ کسی نے ہیک نہیں کیا اور واضح طور پر کسی کے پاس اس کی رسائی تھی جس نے اسے ’منظوری کے بغیر‘ استعمال کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ قابل قبول نہیں کہ امریکی سفارتخانے میں کام کرنے والا کوئی شخص ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو فروغ دے۔‘
تاہم عمران خان کو ناپسند کرنے والے کئی سوشل میڈیا صارفین نے امریکی سفارت خانے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والوں کے بھی عمران خان کے حوالے سے وہی جذبات ہیں جو کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کے ہیں کیونکہ ٹرمپ کو بطور صدر بھگتنے والوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستانی عوام عمران خان کو بطور وزیراعظم کس طرح بھگت رہے ہیں۔
