شکست خوردہ ڈونلڈ ٹرمپ پر جیل کی تلوار لٹکنے لگی


جو بائیڈن سے صدارتی الیکشن ہارنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اب امریکی میڈیا یہ خبریں دے رہا ہے کہ صدارت سے فارغ ہونے کے بعد ان کے جیل کی ہوا کھانے کے قوی امکانات ہیں۔
نومبر 2016 میں حیران کن طور پر امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہونے والے 74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ گزشتہ 4 سال کے دوران اپنے حریفوں اور دشمن ممالک کو بھی آڑے ہاتھوں لے رکھا تھا۔ تاہم اب خبریں ہیں کہ جلد ہی ان کی اپنی مشکلات کا آغاز ہونے والا ہے اور انہیں ممکنہ طور پر جیل کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ کلچر، فیشن اور کرنٹ افیئر کے میگزین وینٹی فیئر کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ طے نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 2021 میں عہدہ صدارت سے الگ ہوتے ہی جیل جائیں گے، تاہم امکانات ہیں کہ ان کے خلاف کچھ سنگین کیسز کی تفتیش ہوگی اور وہ ان میں مجرم ثابت ہونے پر جیل جا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر گزشتہ چار سال کے دوران متعدد کرپشن، ٹیکس چوری، مارکیٹنگ اور بزنس فرانڈ سمیت خواتین کے جنسی استحصال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ سال 2020 کے آغاز میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایوانِ نمائندگان کے کام میں مداخلت کرنے جیسے الزامات کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذہ بھی شروع کیا گیا تھا تاہم وہ اس سے بری ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ علاوہ ازیں صدر مملکت ہونے کی وجہ سے وہ ٹیکس چوری، فراڈ، کرپشن اور خواتین کے استحصال کرنے جیسے مقدمات کی قانونی کارروائی سے بھی بچ گئے اور وہ مزید دو ماہ تک کسی بھی قانونی کارروائی سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن جنوری 2021 میں عہدہ صدارت سے ہٹتے ہی ان کے خلاف قانونی کارروائیوں میں تیزی آنے کے امکانات ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ کرمنل کیسز میں جرائم ثابت ہونے پر انہیں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑ سکتی ہے۔
اسی حوالے سے کرنٹ افیئرز میگزین نیویارکر نے بھی اپنے مضمون میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ٹیکس چوری، فراڈ، کرپشن اور خواتین کے جنسی استحصال سمیت اختیارات کے غلط استعمال جیسے الزامات ہیں اور انہیں ان میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جن قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کریں، وہ انہیں جیل سے بچانے میں کامیاب ہوجائیں تاہم اس کے باوجود انہیں بھاری جرمانوں اور قانونی فیسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پولیٹیکل ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ عہدہ صدارت سے ہٹنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی معاملات کمزور ہوجائیں گے، تاہم یہ بھی رپورٹس ہیں کہ انہوں نے صدارت سے ہٹتے ہی اپنی دولت کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فراڈ، ٹیکس چوری، اختیارات کے غلط استعمال اور خواتین کو جنسی ہراسانی کا شکار بنانے جیسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خبریں ہیں کہ عہدہ صدارت سے الگ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پھر سے شوبز، فیشن، میڈیا انڈسٹری اور ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرکے اپنی دولت بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ عہدہ صدارت سے ہٹنے کے بعد میڈیا کمپنیز کو خریدنے یا ان میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر وہ نئی میڈیا کمپنی بھی متعارف کرا سکتے ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ خبریں ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ صدارت سے الگ ہونے کے بعد قانونی مقدمات کا سامنا کرنے سمیت جیل جانا پڑ سکتا ہے، وہیں یہ خبریں بھی ہیں کہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے بھی ان سے طلاق لینے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ خبریں ہیں کہ میلانیا ٹرمپ شوہر سے کافی تنگ ہیں اور وہ دنوں کو گن گن کر وقت گزار رہی ہیں اور شوہر کے عہدہ صدارت سے الگ ہونے کے بعد ان سے طلاق لے لیں گی۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ ان سے گزشتہ چار سال سے تنگ ہیں اور اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا اعلان ہو چکا ہے امریکی میڈیا میں یہ خبریں دے رہا ہے کہ میلانیا نے اپنے شوہر سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ممکنہ طور پر وہ بہت جلد طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کریں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے درمیان گزشتہ چار سال سے کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وائیٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ میلانیا ٹرمپ شوہر سے طلاق لینے پر غور ر رہی ہیں۔ ماضی میں واہیٹ ہاؤس کے ملازمین کی جانب سے کیے گئے دعووں کو جواز بنا کر بتایا جا رہا ہے کہ دونوں گزشتہ چار سال سے صدارتی ہاؤس میں الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ 2016 سے اب تک دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہیں اور میلانیا ٹرمپ 4 سال سے مجبوری کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوئیں۔ وائٹ ہاؤس کی ایک سابق ملازمہ کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ 2016 سے ایک ہی محل میں رہنے کے باوجود میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ یہ خبریں وائرل ہونے پر تاحال ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کے کسی قریبی شخص یا اہل خانہ نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 3 نومبر 2020 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں شکست ہوئی تھی تاہم اس کے باوجود وہ جنوری 2021 کے وسط تک عہدہ صدارت پر براجمان رہیں گے۔ ان کے بعد ڈیموکریٹک امیدوار 77 سالہ جوبائیڈن عہدہ صدارت سنبھالیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button