نواب قصوری کے قتل اور بھٹو کے جوڈیشل مرڈر کی کہانی


46 برس قبل، 10 اور 11 نومبر 1974 کی درمیانی شب، ایک مارک ٹو کار لاہور کے علاقے شادمان کالونی میں ایک گھر کے باہر سڑک پر نمودار ہوئی۔ اس گاڑی میں چار لوگ سوار ہیں جو شادمان کالونی سے ماڈل ٹاؤن میں واقع اپنے گھر کی جانب طرف جا رہے ہیں۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا ہے اور ہر طرف ہُو کا عالم اور اندھیرا ہے۔ نوجوان احمد رضا قصوری اس کار کو ڈرائیو کر رہے ہیں جبکہ ان کی برابر کی نشست پر اُن کے والد یعنی نواب محمد احمد خان قصوری بیٹھے ہیں۔ عقبی نشستوں پر احمد خان قصوری کی اہلیہ اور سالی موجود ہیں۔یہ سب لوگ شادمان کالونی میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت سے واپس لوٹ رہے ہیں۔جیسے ہی گاڑی شادمان کالونی سے کچھ فاصلے پر واقع شاہ جمال کے گول چکر پر پہنچتی ہے تو اس پر تین اطراف سے مسلح حملہ آور گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
کئی گولیاں گاڑی کو آ کر لگتی ہیں۔ احمد رضا قصوری گاڑی روکنے کی بجائے سر نیچے کر کے اسے چلاتے رہتے ہیں تاکہ اسے دور لے جائیں۔ اسی اثنا میں ڈرائیو کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے محمد احمد خان قصوری گاڑی چلانے والے اپنے جوان بیٹے کے کندھے پر آن گرتے ہیں۔ محمد احمد خان کے سر میں گولیاں لگ چکی تھیں اور وہ اپنے ہی خون میں لت پت ہو چکے تھے۔ وہ گاڑی دوڑتے ہیں اور گلبرگ کے ایک ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ اس وقت تقریباً رات کے پونے ایک بج چکے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ جاتے ہیں اور آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور اسی دوران تین، چار سو پولیس اہلکاروں کی ٹرکوں میں سوار نفری بھی ہسپتال پہنچ جاتی ہے۔ ایس ایس پی لاہور، ڈی آئی جی لاہور سردار محمد عبدالوکیل خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور بھی اطلاع ملنے پر فوری ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ایک طرف آپریشن چل رہا ہے اور دوسری طرف پولیس اہلکار احمد رضا خان کے پاس جاتے ہیں تاکہ ابتدائی معلومات لے کر قانونی کارروائی شروع کی جا سکی۔ اُس وقت کے ایس ایچ او تھانہ اچھرہ عبد الحئی نیازی نے ایف آئی آر کے لیے درخواست لکھنا شروع کی۔ ابتدائی معلومات کے اندارج کے بعد جب بات ’آپ کو کسی پر شک ہے‘ کی ہوئی تو احمد رضا قصوری نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیا۔ انھوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ دراصل یہ ذوالفقار علی بھٹو نے کروایا ہے جو انھیں مروانا چاہتے ہیں تاہم والد صاحب حادثاتی طور پر فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام سُن کر ایس ایچ او کے ہاتھ سے پینسل نیچے گر گئی اور وہ چونک کر کہنے لگا کہ ایف آئی آر وزیر اعظم پر درج کروانی ہے آپ نے؟ جواب ملا: جی ہاں۔ احمد رضا قصوری بولے ’کیونکہ بھٹو مجھ پر پہلے بھی کئی حملے کروا چکے ہیں۔ جب ذمہ دار وہی ہیں تو پھر پرچہ بھی انھی کے خلاف کٹے گا۔‘
تقریبا صبح کے تین بج چکے تھے اور ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ ڈاکٹر نے آ کر احمد رضا خان کو بتایا کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ دوسری طرف پولیس نے کہہ دیا کہ وہ درخواست لکھ کر دے دیں تاکہ وہ ایف آئی آر درج کریں۔ تقریبا رات تین بج کر 20 منٹ پر احمد رضا قصوری نے اپنے ایک ہمسائے کی مدد سے درخواست تحریر کی اور خود پر ہوئے ماضی کے حملوں کا ذکر بھی کیا اور اپنے والد کے قتل کا الزام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر لگایا۔ پھر بالآخر تین ماہ بعد فروری میں ذوالفقار علی بھٹو کو قصوری کے والد کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا۔
لیکن اکتوبر 1975 میں اس کیس کے تحقیقاتی افسر ملک محمد وارث کی سفارشات پر کیس یہ کہہ کر داخل دفتر کر دیا گیا کہ ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ جیسے ہی پانچ جولائی 1977 کو ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا تب سے اس کیس پر تنازعات کی وہ گرد پڑنی شروع ہوئی جو آج تک چھٹنے کا نام نہیں لے رہی اور وہ تنازعات ملک کی سیاسی، قانونی اور عدالتی تاریخ کا آج بھی ایک آسیب کی طرح پیچھا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
11 نومبر کی تاریک رات کو ہونے والی قتل کی اس واردات کے اصل محرکات پر کبھی روشنی پڑے گی، یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔ ضیا مارشل لا کے نفاذ کے فوری بعد وفاقی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئی پیرا ملٹری فورس یعنی فیڈرل سکیورٹی فورس کے ہاتھوں مبینہ سیاسی قتل اور اغوا جیسے سنگین معاملات کی تفتیش ایف آئی اے کے حوالے کی۔
مارچ 1975 میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الخالق نے اس شک کا اظہار کیا کہ فیڈرل سکیورٹی فورس نواب محمد احمد خان کے قتل میں ملوث ہو سکتی ہے اور اسی شک کی بنیاد پر 24 اور 25 جولائی 1977 کو یعنی مارشل لا کے ٹھیک 20 دن بعد فیڈرل سکیورٹی فورس کے سب انسپکٹر ارشد اقبال اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر رانا افتخار احمد سے اس کیس کے متعلق تفتیش شروع ہو گئی اور دونوں کو اس کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ پھر جیسا کہ ہوا کرتا ہے ویسے ہی 26 جولائی 1977 کو مجسٹریٹ ذوالفقار علی طور کے سامنے یہ دونوں اہلکار اپنے جرم کا اعتراف کر لیتے ہیں جس کے بعد ڈائریکٹر آپریشنز و انٹیلیجنس میاں محمد عباس اور انسپکٹر غلام مصطفی کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے اور وہ سب بھی حسب توقع مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ انسپکٹر غلام حسین بھی ملزمان میں شامل تھے لیکن بعد میں وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ مسعود محمود جنھیں مارشل لا کے نفاذ کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا وہ بھی قید کے دو ماہ بعد بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اس کیس میں تین ستمبر 1877 کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھٹو کی گرفتاری کے دس روز بعد جسٹس کے ایم اے صمدانی نے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر جسٹس صمدانی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا اور تین دن بعد بھٹو کو دوبارہ اسی کیس میں مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔اسی دوران ہائی کورٹ میں نئے ججز تعینات ہوئے اور مولوی مشتاق حسین کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا، جن کا تعلق جنرل ضیا الحق کے آبائی شہر جالندھر سے تھا۔ 11 ستمبر 1977 کو کیس کا نامکمل چالان مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور 13 ستمبر کو سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی درخواست پر کیس لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
کیس کا حتمی چالان 18 ستمبر کو ہائی کورٹ میں داخل کروا دیا جاتا ہے جس کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوتا ہے جس میں استغاثہ نے 41 گواہان کو پیش کیا۔ یہ ملک کی عدالتی تاریخ کا غالباً واحد کیس ہے جس میں ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ بن گئی۔ دوران ٹرائل میاں محمد عباس اپنے اعترافی بیان سے یہ کہتے ہوئے مُکر گئے کہ ان کا پہلا بیان مجسٹریٹ کے سامنے دباؤ کے تحت لیا گیا تھا۔ انھوں نے بیان دیا کہ اسے ایسی کسی سازش کا علم نہیں اور نہ ہی انھوں نے وعدہ معاف گواہ غلام حسین یا فیڈرل سکیورٹی فورس کے کسی بھی اہلکار کو اس مقصد کے لیے کوئی اسلحہ مہیا کرنے کی ہدایات دیں تھیں۔ غلام مصطفی، ارشد اقبال اور رانا افتخار احمد اپنے اعتراف جرم پہ قائم رہے کہ انھوں نے اس رات حملہ اپنے سینیئرز غلام حسین اور میاں محمد عباس کے کہنے پر کیا تھا جس سے احمد رضا خان کے والد کی موت ہوئی تھی۔
دو مارچ 1978 کو ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے اور 18 مارچ کو کیس کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے جس میں ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شواہد کی موجودگی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سکیورٹی فورس مسعود محمود کے ساتھ مل کر احمد رضا قصوری کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی اور فیڈرل سکیورٹی فورس کے حملے کے نتیجے میں ہی ان کے والد محمد احمد خان قصوری مارے گئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اس کیس میں موت کی سزا سنائی گئی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزمان نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جہاں پر نو ججز تھے۔ ایک جج جولائی 1978 میں ریٹائر ہو گئے جبکہ ایک بیماری کی وجہ سے رخصت پر بھیج دیے گئے۔ باقی سات ججز نے فروری 1979 کو اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔ سات میں سے چار ججز نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ تین نے ذوالفقار علی بھٹو کو الزامات سے بری کر دیا۔سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل 1979 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ اور بات کے تاریخ کی عدالت نے بھٹو کے قتل کو جوڈیشل مردر قرار دیا۔
ضیاء دور میں یہ عمومی تاثر تھا کہ فوجی جنتا نے نواب محمد احمد خان کے قتل کو بھٹو سے جان چھڑوانے کے لیے استعمال کیا اور احمد رضا قصوری ضیا کے آلہ کار بنے۔ لیکن قصوری اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کیس کو دوبارہ کھولنے اور پیروی کرنے کے لیے اسے اس وقت کی فوجی قیادت نے کہا تھا۔ تاہم وہ یہ مانتا ہے کہ مارشل لا لگنے کے بعد یہ کیس دوبارہ کھلا تو اس وقت کی مارشل لا حکومت اس کیس میں فریق بن گئی تھی۔ احمد رضا قصوری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 1976 میں اس نے بیگم نصرت بھٹو کو یقین دہانی کروائی تھی کہ بھٹو کے خلاف کیس اس نے غصے میں درج کروایا تھا اور وہ اسے واپس لینے جا رہے ہیں۔ تاہم انہیں ضیا جنتا نے ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔
کیا ذوالفقار علی بھٹو نے معاملات سلجھانے کی کوشش کی، اس کے جواب میں احمد رضا قصوری بتاتے ہیں کہ انھوں نے سنہ 1976 میں اپنی اہلیہ نصرت بھٹو کو ان کے گھر بھیجا تھا۔ ’میں نے انھیں بڑی عزت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ میری بہنوں کی طرح ہیں اور یقین دلایا تھا کہ وہ ماضی کے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔‘ تاہم انھوں نے کیس واپس نہیں لیا۔ قصوری نے بی بی سی کیو بتایا تھا کہ سات جنوری 1977 کو جس روز نئے الیکشن کروانے کے لیے بھٹو نے اسمبلی توڑی تھی تو اس وقت انھوں نے اسے ایف آئی آر واپس لینے کے لیے آخری بار کہا تھا۔ لیکن ’میں نے کہا کہ سر میں اس بیان پر دستخط کر دیتا ہوں لیکن جب یہ خبر چھپے گی تو اس سے میرا امیج بُری طرح متاثر ہوگا۔ برادری والے بھی سوالات کریں گے کہ تم نے کیا ذلالت کی۔ عوام کی فکر نہیں کہ کیا کہیں گے لیکن اپنی برادری کی فکر ہے۔ اس کے بعد نہ مجھے بھٹو نے کیس واپس لینے کو کہا اور نہ ہی میں نے ایسا کیا۔
تاہم تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ ویسے بھی بھٹو کی شہادت کے بعد جج مولوی مشتاق نے یہ بیان دیا تھا کہ یہ فیصلہ انھوں نے غصے میں دیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور اس بینچ کے ممبر نسیم حسن شاہ نے بھی اپنی کتاب اور بعد ازاں جیو ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دباؤ میں دیا تھا۔‘ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں فیصلے کی اپیل کے وقت نو ججز تھے، ایک ریٹائر ہو گئے، ایک کو بیماری کا بہانہ بنا کر چھٹی پر بھیج دیا گیا اور پھر سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں چار ججز کے فیصلے سے بھٹو کی پھانسی کی توثیق کردی۔ چار ججز نے سزائے موت کو برقرار رکھا جبکہ تین ججز نے بھٹو کو بری کر دیا تھا اور اس طرح کے منقسم فیصلے میں کبھی سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی لہذا آج سب لوگ اسے جوڈیشل مرڈر قرار دیتے ہیں۔
آصف زرداری نے 2008 میں صدر پاکستان بننے کے بعد سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کیا تھا تا کہ بھٹو کیس کے فیصلے کا دوبارہ سے جائزہ لیا جاسکے اور تاریخ کو درست کیا جاسکے۔ آصف زرداری کا اب بھی یہی موقف ہے کہ جب تاریخ کی عدالت نے ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دے کر شہید کا درجہ دے دیا تو دنیا کی عدالت میں بھی ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button