پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کی ناکامی کا خدشہ لاحق

سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے آغاز پر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر کھلے عام حملہ آور ہو کر ایک بڑی غلطی کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں مارچ ناکام ہونے کے قوی امکانات پیدا ہو گے ہیں اور اس بات کا ادراک خود پی ٹی آئی کے سربراہ کو بھی ہو چکا ہے۔ اسی لیے اب کپتان کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں شدت آتی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے ٹرک پر عمران کے دائیں بائیں کھڑے ہونے والے ان کے ساتھی کپتان کے کھلے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں اپنا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرویز خٹک اور شیخ رشید کی جانب سے عمران کو اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں نرمی پیدا کرنے کی تجویز دی گئی تھی جو سختی سے رد کر دی گئی کیونکہ عمران کے خیال میں ان کا یہی بیانیہ فوج کو ان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کردے گا۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس اور شہباز شریف کی جانب سے واضح اعلان کے بعد اب اب کسی قسم کے مذاکرات کا امکان ختم ہوچکا ہے۔یاد رہے کہ عمران خان کا دوسرا لانگ مارچ 28 اکتوبر کو لاہور سے شروع ہو کر وقفوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب گامزن ہے۔ اس سے پہلے وہ رواں سال 25 مئی کو پشاور سے روانہ ہوئے تھے۔ مگر اُن دنوں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، جبکہ اس بار ان کی اپنی حکومت ہے، اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ کا آغاز پشاور کی بجائے لاہور سے کیا۔ اس مرتبہ بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ مطالبات وہی ہیں جو 25 مئی والے احتجاج کے وقت تھے۔ پی ٹی آئی نے جو پہلا شیڈول جاری کیا تھا اس کے مطابق لانگ مارچ کے قافلے نے 4 نومبر کو سلام آباد پہنچنا تھا۔ لیکن اب شیڈول میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور عمران نے اعلان کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ 8 9 روز بعد اسلام آباد پہنچے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی جانب سے ان کے مطالبات مسترد کیے جا چکے ہیں اور اور مذاکرات ہوتے نظر نہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد کے چاروں اطراف ان کی حکومتیں ہیں، اس لیے انہیں نہ صرف مالی وسائل کی پریشانی نہیں بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے اسلام آباد پہنچنے کی امید بھی ہے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ لانگ مارچ میں اپنی تقاریر کے دوران اب حکومت کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ کُھل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کی تقاریر میں زیادہ جارحانہ انداز ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد آیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کا باضابطہ طور پر کسی پریس کانفرنس میں اچانک موجود ہونا اور کُھل کر بولنا پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ یہ پریس کانفرنس نہ صرف اچانک بلائی گئی تھی بلکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ اس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود ہوں گے۔ یہی سبب تھا کہ پریس کانفرنس کے بعد بہت سارے صحافی اپنے سینیئرز سے پوچھتے نظر آئے کہ کیا ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس کی ہے؟ 2014ء میں ہونے والے لانگ مارچ کے وقت پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور وہ اسٹیبلشمنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان اور ان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے پیچھے وہی ہیں۔ لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں۔
پچھلے دھرنے میں تو یہ کزنز امپائر کی انگلی اٹھنے کے انتظار میں بھی تھے۔ پھر انہیں فوجی قیادت کی جانب سے بلاوا بھی آیا تھا جس پر وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملنے بھی گئے تھے۔ تاہم اس کے باوجود عمران کا کوئی مطالبہ تسلیم نہ ہوا اور انہیں اپنا 124 روز کا دھرنا بغیر کسی نتیجے کے ختم کرنا پڑا تھا۔ یہ اور بات کے بعد ازاں پروجیکٹ عمران خان کے خالقوں نے نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے بطور وزیراعظم نااہل کروا کے 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو وزیر اعظم بنا دیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ مسئلہ یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ خود ایک پریس کانفرنس نے اپنی غلطی تسلیم کر کے آئندہ سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ لہٰذا اس بار نہ تو طاہرالقادری جیسا کوئی کزن عمران کے ساتھ کھڑا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت کی جانب سے مذاکرات کے لیے بلاوے کا امکان ہے۔ ویسے بھی خان کو فوجی ترجمانوں کی پریس کانفرنس میں جس طرح دھتکارا گیا ہے، اس کے بعد انہیں جلدی معافی ملنے کا امکان بھی کم ہی ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا لانگ مارچ اسلام آباد ہی جائے گا یا پھر پھر راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا رخ بھی کر سکتا ہے۔ ایک اور سوال یہ یے کہ اگر لانگ مارچ نے اسلام آباد کی ریڈ زون کا رخ کیا تو کیا انتظامیہ اسے روک پائے گی؟ اس دوران اگر مزاحمت ہوئی تو کتنا جانی و مالی نقصان ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو حکومتی عہدے دار آپس میں ایک دوسرے سے کررہے ہیں۔
یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا یہ لانگ مارچ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود نتائج دے سکتا ہے؟ اگر اس لانگ مارچ میں گولی چل گئی تو کتنا جانی نقصان ہوسکتا ہے اور کیا مارشل لا بھی لگایا جاسکتا ہے؟ ایک اور سوال یہ یے کہ کیا پرویز الہیٰ کی جانب سے عمران کی مالی اور سیاسی حمایت اسلام آباد پہنچنے تک جاری رہے گی؟ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ بھی جائے تو کتنے دن رکنا ہے؟ کیا سرد راتوں میں لوگوں کو ٹھہرانا اتنا آسان ہوگا، خصوصاً اس صورت میں جب اس بار ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی نہیں۔ پھر مالی طور پر مستحکم وہ شخصیات بھی نہیں جو اخراجات پورے کیا کرتی تھیں۔
سب سے بڑی بات یہ کہ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ جائے اور اس کے باوجود بھی انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہوسکے تو عوام کو کیا بتایا جائے گا؟ کیا اس بار بھی عمران خان کو 25 مئی جیسی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یہ اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران کے ساتھیوں کے لیے کیا ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کا بوجھ اٹھانے رکھنا ممکن ہو گا؟ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کا فوج سے خاندانی تعلق رہا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت تحریک انصاف کے اہم حلقوں میں ایک دوسرے سے پوچھے جا رہے ہیں لیکن ان کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
