پی ٹی آئی کے حامیوں کو ’’یوتھیا‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟


پاکستان میں ہمیشہ سے سیاسی جماعتوں کے ووٹرز کا کوئی نہ کوئی نام رکھنے کی روایت رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ووٹر کو جیالا کہا جاتا ہے۔ جیالے کے لغوی و مروجہ معنوں پر کسی قسم کا بھی اعتراض نہیں ہوتا، اس لئے پیپلز ہارٹی کا ووٹر خود کو جیالا کہلوا کر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح نون لیگ کے حمایتیوں کو ایک زمانے میں متوالہ کہا جاتا تھا لیکن تحریک انصاف کے زور پکڑنے کے بعد سے نون لیگ والوں کا نام پٹواری پڑ گیا۔ پٹواری نام ڈالنے کے پیچھے تحریک انصاف والوں کا یہ الزام تھا کہ نواز لیگ والے اپنے جلسوں میں سرکاری ملازمین کو زبردستی بلاتے ہیں۔ گویا کہ پٹواری کوئی گالی نہیں بلکہ ایک سرکاری عہدے کا نام ہے ہے۔ اس کے علاوہ نون لیگ والوں کو پیار سے نونیا بھی کہا جاتا ہے۔

اسی طرح تحریک انصاف کے حامی شروع میں انصافی کہلائے جو اب بگڑ کر انساپی ہو چکا ہے۔ مگر عمرانڈوز سے بھی زیادہ تکلیف دہ لفظ ‘یوتھیا’ ہے جو کہ اب ہر کوئی شیر مادر کی طرح حلال سمجھ کر بولتا ہے۔ یہ لفظ انگلش اور اردو کے دو الفاظ کا ناجائز ملاپ ہے۔ کیونکہ عمران خان کے ووٹرز زیادہ تر نوجوان تھے۔ اس حوالے سے انگلش کا لفظ یوتھ لے لیا گیا، پھر ایک گندی گالی ‘چوتیا’ لے کر یوتھ کو اس گالی کی مناسبت سے ‘یوتھیا’ بنا دیا گیا۔ اسکے علاوہ تحریک انصاف کے حامیوں کو قوم لوط کے وزن پر قوم یوتھ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن لفظ یوتھیا تحریک انصاف والوں کے لئے زبان زد عام ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر یوتھیوں کے حوالے سے بے شمار مٹیریل موجود ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یوتھیا کون ہوتا ہے۔ آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں کہ یوتھیا کسے کہا جاتا ہے؟

تحریک انصاف سے سیاسی مخاصمت رکھنے والوں کے مطابق یوتھیا وہ ہے جو نوازشریف اور آصف زرداری کو سائیکل پر دفتر جاتے دیکھنا چاہتا ہے لیکن وہ خود خوش اور مطمن ہے کہ عمران خان ہیلی کاپٹر پر دفتر جاتا ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جسے نوازشریف اور آصف زرداری کی سیکیورٹی اور پروٹوکول برا لگتا ہے، اور ایسا کرنا اسے قومی خزانے پر ڈاکہ لگتا ہے لیکن وہ عمران کے بے مثال پروٹوکول اور سیکیورٹی کو ضروری سمجھتا ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہوتا ہے جسے بلاول بھٹو اور آصف زرداری کا ملک ریاض کے طیارے میں سفر کرنا برا لگتا ہے جبکہ عمران خان اور پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو پرویز الہی کا اسی طیارے میں سفر کرنا جائز نظر آتا ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو نوازشریف اور آصف زرداری کی ٹیکس ایمنسٹی کو برا اور چوروں ڈاکووں کی سکیم سمجھتا ہے جبکہ عمران خان کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور اس سے فائدہ اٹھانے والی ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو حق ہر سمجھتا ہے۔

‏یوتھیا وہ ہے جسے ن لیگ کے ہر پروجیکٹ میں کرپشن نظر اتی ہے لیکن وہ عمران خان کی جانب سے قومی خزانے سے چالیس ارب نکال کر ملک ریاض کے اکاونٹ میں ڈال دینے کو بالکل بھی کرپشن نہیں سمجھتا۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو چاہتا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف بیرونی دوروں پر کمرشل فلائٹ کی اکانومی کلاس میں سفر کرے لیکن وہ بطور وزیر اعظم عمران خان کے ہر بیرونی دورے کے لئے خصوصی طیارے کے استعمال پر خوش ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ہر منصوبے کا مکمل آڈٹ چاہتا ہے لیکن وہ پشاور میٹرو اور مالم جبہ کیسز پر مستقل عدالتی حکم امتناع رہنے پر خوش ہوتا ہے۔

‏یوتھیا وہ ہے جسے 27 ارب روپوں والے لاہور میٹرو بس پراجیکٹ اور 45 ارب والے پنڈی میٹرو پراجیکٹ میں تو کرپشن نظر آتی ہے لیکن 100 ارب والا پشاور میٹرو پراجیکٹ صاف اور شفاف نظر آتا ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جس کے خیال میں عمران خان کا ایبسلیوٹلی ناٹ کہنا بہادری اور جرات کا اظہار ہے جبکہ نواز شریف کا امریکی صدر کا لالچ و دباو مسترد کر کے ایٹمی دھماکے کر دینا معمولی بات ہے۔

‏یوتھیا وہ ہے جس کے خیال میں پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل کا وفاقی وزیر صحت بننا اس عہدے کی بےتوقیری جب کہ عثمان بزدار جیسے کا وزیراعلی پنجاب بننا اس عہدے کی عظمت و وقار میں اضافے کا باعث ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جس کے خیال میں احسن اقبال کا نارووال سپورٹس کمپلیکس میں وفاقی بجٹ سے پیسہ لگانا کرپشن کی بدترین مثال ہے اور عمران خان کا ملک ریاض کے اکاونٹ میں چالیس ارب روپے ڈلوانا ایک جائز عمل ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ نواز شریف فوج کی سیاسی مداخلت پر تنقید کرے تو وہ مودی کا یار ہے، سی آئی اے اعر موساد کا ایجنٹ ہے لیکن اگر عمران فوج اور اس کے سربراہ کو گالی دے کرے تو یہ جمہوریت کی سربلندی و سویلین بالادستی ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو موروثی سیاست کی بدترین مثال ہیں جبکہ مونس الہٰی، زین قریشی، حماد اظہر، اور پرویز خٹک کے بچے موروثی سیاست کی بہترین مثال ہیں۔

‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ سابق وزرائے اعظم کا توشہ خانہ سے تحائف خریدنا کرپشن کی بدترین مثال ہے جبکہ عمران کا توشہ خانہ سے تحائف خریدنا اس کا قانونی حق ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی ماڈل ٹاون رہائش گاہ کی سیکیورٹی پر پولیس اہلکار کگانا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے جبکہ بطور وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ رہائشگاہ پر مسیک ہزار پولیس اہلکار لگانا اس کا حق ہے اور اس کی سیکیورٹی کے لئے ضروری ہے۔
‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کا سرکاری ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر صوبے کا دورے کرنا وسائل کا ضیاع ہے لیکن بغیر عہدے کے پختونخواہ کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنا عمران خان کے لئے حلال ہے ہے۔ ‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ لیگی اور پیپلزپارٹی کے وزرا کا سرکاری رہائشگاہیں استعمال کرنا سرکاری وسائل پر ڈاکہ ہے جبکہ عمرانڈو وزرا کا حکومت سے نکل جانے کے باوجود سرکاری رہائشگاہیں استعمال کرنا ان کا حق ہے، ‏یوتھیا وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ پیپلزپارٹی کا بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کے مترادف ہے جبکہ عمران خان کا اسی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدل کر "احساس” کے نام سے چلانا فلاحی ریاست بنانے کے مترادف ہے، چنانچہ ثابت ہوا کہ لفظ چوتیا کے وزن پر عمرانڈوز کو یوتھیا کہنا اتنا غلط نہیں۔

Back to top button