پی ڈی ایم عمران کو اقتدار سے کیوں نہیں نکالنا چاہتی؟

لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفے دینے کی بڑھکیں مارنے والے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے اگلے سال 23 مارچ کو صرف ایک مہنگائی مارچ کے اعلان کے بعد یہ تاثر مزید پختہ ہوگیا ہے کہ عمران مخالف قوتیں اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ قائم رکھنے کے لئے ہلکے پھلکے احتجاجی مظاہروں سے آگے جانے کو تیار نہیں ہیں۔ وجہ شاید یہ ہے کہ حکومت کو فوری گھر بھجوانا نہ تو ان کے بس کی بات ہے اور نہ ہی یہ ان کا ایجنڈا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت جس شدید ترین معاشی بحران میں گر چکا ہے اس کو حل کرنا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں لہذا بہتر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ اس معاشی بحران کو وہی بھگتے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ تاہم ناقدین کے خیال میں اس بحران کو حکومت نہیں بلکہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں اور ان کی نظریں اپوزیشن کی جانب ہیں جو ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن دئیے جا رہی ہے لیکن عملی طور پر کچھ کرتی دکھائی نہیں دیتی۔
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے اگلے سال 23 مارچ کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی مبصرین کی رائے میں تحریک انصاف کی حکومت کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ لاحق نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد عمران مخالف تحریک تو چلا سکتا ہے اور وقتی طور حکومت کو تنگ بھی کرے گا مگر ایسے کسی احتجاج کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت عمران کو نکال کر موجودہ حکومت اپنے گلے ڈالنا ایک عذاب بن جائے گا اور ڈیڑھ سال بعد ہونے والے الیکشن میں ناکام معیشت کا خمیازہ اس جماعت کو بھگتنا پڑے گا جو اقتدار میں ہو گی۔
اس معاملے پر سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن حکومت کو پریشان کرنے کی اپنی کوشش کر رہی ہے۔ 23 مارچ کو احتجاج کے اعلان پر حکومت کے حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوہا اچھی طرح سے گرم ہے۔ لوگوں میں بیزاری ہے، معاشی صورتحال بھی سنبھلنے میں نہیں آ رہی۔ ضمنی بجٹ بھی آنے والا ہے، ان سب چیزوں نے اپوزیشن کے احتجاج کے لیے ماحول پیدا کر دیا ہے۔ شامی کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں احتجاج کرنے والی اپوزیشن ایک بڑا اجتماع کرے گی۔ یہ تو نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں حکومت چلی جائے گی مگر لڑکھڑاتی ضرور نظر آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں حکومتوں کو گرانا آسان نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بڑی تحریک چلی مگر حکومت کو ختم فوج نے کیا۔مجیب شامی کا خیال ہے کہ اپوزیشن کتنا بھی بڑا ڈیڈلاک کیوں نہ پیدا کر دے حکومت کو گھر جانے پر مجبور نہیں کر سکتی اور اب بھی صرف وزیر اعظم چاہیں تو اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔ انکا۔کہنا تھا کہ یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ اپوزیشن اپنی تحریک سے حکومت کو رخصت کر دے گی مگر یہ ضرور ہے کہ ناک میں دم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز لیگ نے انقلاب کو کس وجہ سے سرد خانے میں ڈال دیا؟
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن اویس توحید کہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کا قیام جس زور شور سے ہوا تھا اب وہ کافی کمزور اور کنفیوژن کا شکار نظر آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے اتحاد سے نکلنے کے بعد اب پی ڈی ایم حکومت کو تنگ تو کر سکتی ہے مگر یہ حکومت گرانے والا اتحاد نہیں رہا خصوصاً جب پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ نہیں۔ اویس توحید کہتے ہیں کہ ’پی ڈی ایم کے لیے عوام کو ساتھ ملا کر انقلابی تحریک چلانا ممکن نہیں جس سے حکومت کو بڑا خطرہ ہو۔ اپوزیشن اتحاد کا مقصد بظاہر اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان حکومت میں دراڑ ڈالنا تھا۔ ان کے مطابق ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 2028 تک بندوبست نہ کر لے اس لیے پی ڈی ایم تشکیل دیا گیا۔‘ اویس توحید کو لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں الگے عام انتخابات کے لیے تیاری کر رہی ہیں نہ کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حکمران جماعت بھی دھند میں سیاسی کمندیں اچھال رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف بھی دھند میں سفر کر رہی ہے اور دھند کافی گہری ہے۔ کوئی چیز یقینی نہیں کیونکہ اگلا سال ریٹائرمنٹ اور نئی تقرریوں کا سال ہے۔

Back to top button