پی ڈی ایم کا اجلاس آج، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےلیے ناموں پر غور ہوگا

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مشترکہ امیدواروں کے ناموں پر غور سمیت متعدد سیاسی امور زیر غور آئیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سمیت اپوزیشن کے مرکزی رہنما شرکت کریں گے جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں پی ڈی ایم کی جانب سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مشترکہ امیدواروں کا اعلان متوقع ہے جب کہ اپوزیشن حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کرے گی اور لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان 26 مارچ سے حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرچکے ہیں جب کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے اور دھرنے سے متعلق تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد سیاسی صورت حال کا جائزہ لے گی جب کہ پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے مشاورت کے علاوہ ضمنی انتخابات سے متعلق بھی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ سینیٹ انتخابات کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اگلا سیاسی میدان 12 مارچ کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کےلیے سجے گا۔ حکومت نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنا امیدوار بنایا ہے اور اس سلسلے میں سیاسی رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ اتوار کو بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ق کے چوہدری برادران سے ملاقات کی تھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو چوہدری برادران سے ملاقات میں یوسف رضا گیلانی کےلیے چیئرمین سینیٹ کا ووٹ مانگا تھا تاہم حکومتی اتحادی ہونے کے باعث مسلم لیگ ق نے چیئرمین سینیٹ کےلیے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینے سے معذرت کر لی۔ دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے چوہدری مونس الٰہی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ کےلیے مسلم لیگ ق سے ووٹ مانگا ہے یا مسلم لیگ ق نے انہیں کوئی پیش کش کی ہے۔ پیر کو اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری صرف چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button