چاقو کے وار کی مبینہ کوشش پر اسرائیلی فورسز نے خاتون کو قتل کردیا
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا کہ شمالی مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے ایک لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس نے مبینہ طور پر رات گئے گرفتاری کی کارروائی کے دوران ان پر فائرنگ کی تھی۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں قبطیہ سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ خاتون اسلام کی تیسری مقدس ترین جگہ مسجد الاقصیٰ کے کمپاؤنڈ سے نکل رہی تھیں جہاں انہوں نے افسران پر حملہ کیا۔
پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی مغربی کنارے کے برکین گاؤں میں بھی اسرائیلی فوجی اور بارڈر پولیس ‘مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور اسلحہ تلاش کرنے کے لیے ایک آپریشن کر رہی تھی’۔
پولیس نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک مسلح شخص نے فورسز پر فائرنگ کی جو کہ جھڑپ کے دوران گاؤں میں کام کر رہے تھے۔
فلسطینی گروپ اسلامک جہاد نے کہا کہ ہلاک ہونے والا شخص ان کے فوجی ونگ کا رکن تھا۔
پولیس نے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی اسرائیلی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
یروشلم میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز مسجد الاقصیٰ کے ہر داخلی دروازے پر تعینات ہیں جو یہودیوں کے ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے جو یہودیت کا مقدس ترین مقام ہے۔
یہ کمپاؤنڈ مشرقی یروشلم میں واقع ہے، اس شہر کا فلسطینی سیکٹر جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کیا گیا جسے کبھی عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔
