چاند کا تھوکاہمیشہ منہ پر آتا ہے

تحریر: نیلم احمد بشیر
ایک کوتاہ نظر، کم علم، کم ظرف سرکاری عہدے دارنے نامور صحافی اور دانشور پروفیسر وارث میر پر غدار وطن ہونے کی تہمت تو لگادی لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ چاند کا تھو کا اپنے ہی منہ پر آکر گرتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی، اس بیان کے ردعمل میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں نے وارث میر کو ایک محب وطن قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں متفقہ قراردادیں منظور کرڈالیں۔

سچ تو یہ ہے کہ تاریخ، تہذیب تمدن،ادب اور دیگر علوم جانے بغیر انسان کا دماغ محض ایک کھو کھلا ڈبہ بن کر رہ جاتاہے، نہ اس میں روشنی کی کسی کرن کا گزرہوتا ہے اورنہ کسی نئے اچھوتے خیال کے جنم کا امکان رہتاہے۔ افسوس کہ ہمارے حکمران ٹولے نے ہمیشہ نالائق اورسفارشی افراد کو ہی حکومتوں میں بڑے عہدے دیے کیونکہ یہ درباری ہاں میں ہاں ملانے اور تالیاں بجانے کاکام بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔ان کا اپنا کوئی نکتہ نظر تو ہوتا نہیں کیونکہ یہ لطفِ علوم سے نا آشنا اور بے بہرہ ہوتے ہیں۔
2013 میں سابقہ پنجاب حکومت نے لاہور میں ایک انڈر پاس کا نام وارث میر کے نام پر رکھا تھا مگر 2020 میں بزدار حکومت نے بے وجہ اس انڈر پاس سے ان کا نام ہٹا دیا جوکہ ایک گری ہوئی حرکت تھی لیکن شاید حکمرانوں کواس بات کا ادراک نہیں کہ سڑکوں، عمارتوں اور پلوں سے بڑے لوگوں کے نام مٹانے سے تاریخ کھرچی نہیں جاسکتی۔ وارث میر کا نام پاکستانی تاریخ میں ایک ترقی پسنداور جمہوریت پسند دانشور کے طور پر کندہ ہے اور ایک نگینے کی طرح ہمیشہ چمکتارہے گا۔

میرے لیے پروفیسر وارث میر یو ں محترم ہیں کہ وہ میرے ابا احمد بشیر کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ یہ وہ خاص لوگ تھے جنہیں دنیا کی چاہ نہیں تھی۔وارث میر اپنے اصولوں کے ساتھ کمٹڈ اور پاکستان کے سچے عاشق تھے، میرے ابا بھی ایک انتہائی مخلص اور نظریاتی طور پر ایماندار آدمی تھے لہٰذا ان کے دوست بھی ان کا ہی عکس تھے۔ یہ دونوں دوست وطن پرست، دیوانے، مستانے اور کسی بھی خوف اور خطرے کو خاطر میں نہ لانے والے نڈر کردارتھے۔ آج کے دور کے صحافیوں میں سودا بازی، مفاہمت، مصالحت، ذاتی تشہیر، جھوٹ اور ریاکاری کا جو چلن ہے ایسا اُس دورکے نظریاتی صحافیوں میں نہیں تھا۔

ہماری صحافت کے حالات تو اتنے ابتر ہوچکے ہیں کہ آج کا میڈیا سکہّ پھینک اور تماشہ دیکھ کے مصداق سرکاری درباروں اور امراء کے خلوت کدوں میں عریاں رقص کرنے والی رقاصہ بن چکا ہے۔ پیسے دو اوراپنی مرضی کا تجزیہ اور خبرلے لو۔ پلاٹ،مکان، جہاز، فارم ہاؤس، کیش کچھ بھی بطور نذرانہ پیش کرو اور میڈیا کو رام کرلو۔ آج کے زمانے میں رزق حلال کمانا ایک فرسودہ اور مسترد شدہ خیال سمجھا جانے لگا ہے۔ آج احمد بشیر اور وارث میر جیسے کمٹڈ اور نظریاتی دانشور زندہ ہوتے تو بے وقوف سمجھے جاتے کیونکہ یہ لوگ تمام عمر قلم فروشی سے انکاری رہے۔
میرے پاس پروفیسر وارث میر کے حوالے سے زیادہ تر باتیں اور یادیں اپنے ابا کے حوالے سے ہیں میں نے پہلی مرتبہ ان کو تب دیکھا جب ہم سب خاندان والے 1986 میں ایک جلوس کی شکل میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر انہیں ویلکم کرنے لا ہور کے مال روڈ پر کھڑے ہوئے تھے۔ تب وارث میر بھی وہاں موجودتھے اور ابا کو اس بات کی بہت خوشی تھی کہ وہ پی پی پی کی پذیرائی کرنے آئے ہیں۔ ہم تب پی پی پی کو ایک نجات دہندہ سمجھتے تھے لیکن یہ اور بات کہ ہمارے یہ سپنے ٹوٹ کر بکھر گے اور روٹی کپڑا اور مکان سمیت بھٹو کا کیا ہوا کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔
وارث میر اکثر ابا کے پاس ہمارے گھر آتے تھے۔ ابّا آواز لگاتے، ”چائے بھجواؤ، میرا یار وارث میر آیا ہے۔“ دونوں کی خوب بیٹھک جمتی، ملکی حالات پر تبصرے ہوتے۔ میں بھی تاریخ کے ان متوالوں کے آس پاس ہی منڈلاتی رہتی کیونکہ مجھے بھی ان کی سیاسی اور علمی بحث میں دلچسپی ہوتی تھی۔
ابا بتاتے تھے کہ وارث میر پہلے نظریاتی طور پر دائیں بازو کے قریب تھے۔ دھیرے دھیرے جب ان پر دائیں بازو خصوصا جماعت اسلامی کی کار گذاریوں کے چھپے ہوئے اسرار کھلنا شروع ہوئے تو وہ رائٹسٹ حلقوں سے بد ظن ہوگئے۔ وہ اپنے مذہبی سوالات کا پٹارا اٹھا کر احمد بشیر کے پاس لے آتے اور سوالات کرنے لگتے۔ ابا انہیں مدلل، منطقی، مضبوط جوابات دیتے توان کی تشفی ہو جاتی۔ پھروارث میر کا جماعت اسلامی سے مستقل بیر پڑ گیا۔ وہ جماعت اسلامی اور جمیعت والوں کی پنجاب یونیورسٹی میں دھونس، دھاندلی اور غنڈہ گردی سے نالاں ہو چکے تھے۔ انہوں نے جماعت کی موقع پرستی اور سیاسی عزائم کو اپنی تحریروں سے بے نقاب کرنا شروع کردیا جبکہ میاں طفیل محمد اس وقت جنرل ضیاء کے پٹھو کا کردار ادا کررہے تھے۔
جماعت اسلامی ضیاء الحق کی لاڈلی اور بگڑ ی ہوئی بیٹی کی طرح تھی۔احمد بشیر اور وارث میر دونوں اس کے مکروہ سیاسی کردار کے سخت ناقد تھے۔ وارث میر کے قلم کی کاٹ میں تیزی آئی تو جماعت والوں نے انکے خلاف محاذ کھول دیا اور انہیں تنگ کرنے لگے۔ وارث میر کو اس بات کا بھی بہت رنج تھا کہ جنرل ضیاء الحق ترقی پسند اورلبرل دانشورں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انہیں پاکستان کی نظریاتی سیم اور تھور قرار دیتے تھے۔ ضیاء کے نزدیک چند گنے چنے درباری لکھنے والے ہی محب وطن تھے جن کا قلم اس کی بجائی ہوئی بین پرتھرکنا جانتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ضیاءالحقی سوچ، دقیانوسی خیالات اور فرسودہ افکار کو بنیاد بنا کر ناول،ٹی وی ڈرامے اور کہانیاں لکھ رہے تھے۔ یہی لوگ حکومتی تمغوں اور مراعات کے قابل قرار پائے۔ انہی درباریوں نے جنرل ضیاء الحق سے فیض پایا اور خاطر خواہ اجر کمایا۔
جب وارث میرکی آزاد پرواز اور تحریروں کی کاٹ بڑھی تو جماعت اسلامی کی جانب سے انہیں احساس دلایا گیا کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں ۔مگر وارث میر مستقل مزاجی سے حق اورسچ لکھتے رہے۔ چنانچہ ایک روز ان کی زندگی میں ایک مستقل پریشانی آگئی جب ان کے ایک بیٹے کو جماعت اسلامی نے قتل کے ایک چھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا جس سے وارث میر کا پورا خاندان بکھر کر رہ گیا، ان کے دل کا قرار اور ذہنی سکون چھن گیا اور وہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلارہنے لگے۔
اسی دوران ضیاء الحق کے صحافتی گماشتوں کی جانب سے وارث میر پر پاکستان سے غداری کا بھی الزام لگادیا گیا کیونکہ وہ مشرقی پاکستان کے باسیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کے دوٹکڑے ہوں۔ وہ مغربی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور موقع پرست سیاستدانوں کی جانب سے مشرقی پاکستان کے ساتھ کی گئی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو غلط اور بے جا سمجھتے تھے جس کا نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی صورت میں سامنے آیا۔
وارث میر کی وفات کے 26 برس بعد بنگلہ دیش حکومت نے انہیں فیض احمد فیض اور حبیب جالب کے ساتھ بعد ازمرگ ”فرینڈز آف بنگلہ دیش“ ایوارڈ سے نوازا تو رجعت پسند طبقہ اور مخالفین دوبارہ اشتعال میں آگئے اور بدلہ یوں لیا کہ ان کے نام سے منسوب وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا کہ شاید یوں کشمیر آزاد ہو جائے۔اس پر مزید طرہ یہ کہ حکومتی وزیر فیاض چوہان نے وارث میر کو غدار بھی قراردے دیا۔ تاہم چاند کا تھوکا منہ پر آیا اور حکومتی وزیر کی جانب سے 23 مئی 2020 کو دیے گئے فتوے کے ردعمل میں سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں نے جون 2020 میں وارث میر کے حق میں متفقہ قرارداد یں پاس کر کے انہیں تاریخ کا ایک بڑا کردار بنادیا۔ سچ تو یہ ہے کہ وارث میر آج بھی اپنے ترقی پسند نظریات اور تحریروں کی وجہ سے زندہ ہیں اورلوگ عزت سے ان کا نام لیتے ہیں۔
