چترال میں لکڑی کی سمگلنگ میں ملوث گدھے عدالت میں پیش

چترال کے اسسٹنٹ کمشنر نے ٹمبر یا لکڑی کی سمگلنگ میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے پانچ گدھوں کو بھی عدالت میں طلب کر لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ آئندہ ان گدھوں کو سمگلنگ کی کارروائیوں کا حصہ نہ بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ چترال اور دیگر شمالی علاقوں میں ٹمبر سمگلنگ کے لیے گدھوں کا استعمال کیا جاتا ہے، چنانچہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اسے روکا جائے کیونکہ ٹمبر کے جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
20 اکتوبر کو چترال کے علاقے دروش کے اسسٹنٹ کمشنر توصیف اللہ کی عدالت میں پانچ گدھے پیش کیے گئے جن پر الزام تھا کہ وہ چترال کے جنگلات سے ٹمبر یا لکڑی کی سمگلنگ میں ملوث تھے، اسسٹنٹ کمشنر نے ان پانچ گدھوں کو ٹمبر سمگلنگ کیس میں مال مقدمہ کے طور پر طلب کیا تھا اور اطمینان کے بعد گدھے اور ٹمبر کے سلیپر محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا۔ اے سی چترال نے بتایا کہ گدھے مجسٹریٹ کی عدالت میں اس لیے پیش کیے گئے تاکہ یہ اطمینان کیا جا سکے کہ وہ بحفاظت ہیں اور انھیں کسی اور کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنانا تھا کہ کہیں گدھے دوبارہ سمگلنگ میں تو استعمال نہیں ہو رہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ دروش کے علاقے میں ٹمبر سمگلنگ کی اطلاع پر کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر کی زیر قیادت چھاپے کے دوران تین گدھے پکڑے گئے جن کے ساتھ ٹمبر کے سلیپر باندھے گئے تھے، اس کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتار ہوا اور دو فرار ہوئے۔ اس واقعے کے دو روز بعد پھر شکایت موصول ہوئی کہ گدھوں کے ذریعے لکڑی کی سمگلنگ اب بھی جاری ہے، جس پر ایک مرتبہ پھر کارروائی کی گئی اور تین گدھے مزید پکڑے گئے، جن کے ساتھ ٹمبر کے سلیپر بندھے ہوئے تھے، چنانچہ عدالت نے فاریسٹ حکام کو تمام گدھے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کل کتنے گدھے ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہی گدھے پھر سے ٹمبر کی سمگلنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ آج عدالت میں ان گدھوں کو دیکھا گیا جن میں ایک گدھا پچھلی واردات میں بھی استعمال ہوا تھا۔ توصیف اللہ نے بتایا کہ ان گدھوں کو چونکہ سرکاری تحویل میں رکھنا اور ان کی دیکھ بھال اور ان کی خوراک کا انتظام کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے محکمہ جنگلات کے لوگ عام طور پر گدھے سپر داری پر کسی ذمہ دار شخص کے حوالے کر دیتے ہیں۔ گرفتار گدھے بھی ایک آرا مشین کے مالک کو سپر داری پر دیے گئے تھے جس نے انہیں دوبارہ سے ٹمبر چوری کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گدھوں کو جب راستے کا علم ہوجاتا ہے تو وہ خود ہی منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ کسی انسان کا ہونا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ اس لیے اکثر اس طرح کی سمگلنگ کے لیے گدھوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ در اصل گدھوں پر ایک یا دو لکڑی کے ٹکڑے باندھے جاتے ہیں اور انکے ذریعے بڑے پیمانے پر سمگلنگ نہیں ہوتی، ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر ٹمبر کی سمگلنگ ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے جس کے لیے دوسرے راستے استعمال کیا جاتے ہیں۔
