چلبلی متھیرا کی پسند کی شادی اور طلاق کیسے ہوئی؟


معروف ماڈل اور چلبلی اداکارہ متھیرا نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی شادی بچانے کے لیے تمام تر جتن کیے اور شوہر کی مار بھی برداشت کی لیکن پھر 2018 میں انکا صبر جواب دے گیا اور انہوں نے طلاق حاصل کر لی حالانکہ انکا ایک بیٹا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی شوق سے اپنا گھر برباد نہیں کیا۔ میں نے تو شادی بچانے کے لیے نہ صرف گھر کے کام کیے بلکہ شوہر کی بھی خدمت کی۔ میں نے تشدد بھی برداشت کیا اور تضحیک بھی لیکن صبر کی ایک حد ہوتی ہے، لہذا جب میری بس یو گئی تو میں نے طلاق حاصل کرلی۔
متھیرا نے حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام پہلی بار اپنی طلاق سے متعلق کھل کر بات کی، تاہم اس کے باوجود انہوں نے کئی باتوں کو ذاتی مسئلہ قرار دے کر انہیں خفیہ رکھنا ہی پسند کیا۔ زمبابوے میں پیدا ہونے والی متھیرا نے اپنے خاندان سے متعلق بھی گفتگو کی، اور کہا کہ وہ خود ایک عوامی شخصیت ہیں مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے خانگی معاملات کو پرائیویٹ رکھا اور وہ ان سے متعلق باتیں نہیں کر سکتیں۔ اداکارہ کے مطابق پاکستانی معاشرہ اتنی برداشت ہی نہیں رکھتا کہ وہ اپنے خاندان کی تمام باتیں باہر لے آئیں۔ متھیرا نے کہا کہ اگر وہ اپنے والدین اور گھر کے کلچر کی باتیں باہر لے آئیں گی تو صرف 10 فیصد لوگ انکا ساتھ دیں گے، باقی 90 فیصد ان پر ملامت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہیں زبان اور یہاں کی روایات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا رہا۔
متھیرا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کسی بھی شخص کو ’جانو‘ یا ’ڈارلنگ‘ کہہ دو تو وہ اس کا مطلب ہی غلط سمجھا جاتا ہے اور فوری فری ہو جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ لباس کے معاملات کو بھی نہیں سمجھ پاتے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ بھی عام شوبز خواتین کی طرح ٹی شرٹ پہنتی ہیں مگر ان کے ٹی شرٹ پہننے سے لوگوں کو مسئلہ ہو جاتا ہے اور ان کے جسم سے متعلق نازیبا باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ابتایا کہ وہ پاکستانی فیشن ڈیزائنرز کا لباس پہنتی ہی نہیں ہیں۔ متھیرا نے اپ ی شادی سے متعلق بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہوں نے شوہر سے جذباتی پیار کیا اور اپنے پیار و شادی کو بچانے کے لیے انہوں نے تشدد اور تضحیک بھی برداشت کی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوہر سے اتنا پیار کیا کہ وہ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں تھیں کہ انکے شوہر ان سے پیار ہی نہیں کرتے۔۔انہوں نے شادی شدہ زندگی پر بات کرتے ہوئے شوہر کے والدین اور خصوصی طور پر والدہ کے رویے پر بات کی اور کہا کہ ماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ بیٹے کی شادی کا مطلب اسے کھو دینا نہیں ہوتا۔
متھیرا نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر مائیں اس خوف کا شکار ہیں کہ شادی کے بعد وہ بیٹے کو کھو دیں گی لیکن ایسا نہیں ہوتا اور جب مائیں اسی خوف کا شکار بن جاتی ہیں تو وہ مسائل پیدا کرنے لگتی ہیں۔
اداکارہ کے مطابق جب انہوں نے محبت کی شادی کی تو گھر کے ہر طرح کے کام بھی کیے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ وہ شادی کو بچانے کے لیے ہر کام کریں گی مگر بالآخر انکی طلاق ہوگئی۔
انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کی طلاق کس وجہ سے ہوئی، تاہم انہوں نے بتایا کہ شادی کو بچانے کے لیے وہ تشدد اور تضحیک بھی برداشت کرتی رہیں اور ایک طرح سے وہ ذہنی غلامی کا شکار بن چکی تھیں۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی تعلق یا رشتہ نہیں چل رہا اور اس میں ذلالت آچکی ہے تو اسے ختم کردیں، ایسا نہ سوچیں کہ تعلق ختم کرنے سے زندگی ختم ہوجائے گی۔ متھیرا کے مطابق طلاق ہوجانا یا پھر دوسری شادی کرنا غلط کام یا گناہ نہیں ہے مگر تشدد یا تضحیک برداشت کرنا غلط ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ طلاق کے بعد ان کی مالی حالت خراب ہو گئی تھی اور لوگوں سے شوبز میں کام مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی گئی۔ متھیرا نے بتایا کہ مالی مشکلات کے دنوں میں وہ کئی دن تک بھوکی رہتی تھیں اور صرف دن اور رات میں ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارا کرتی تھیں جب کہ ایک سے دوسری جگہ جانے کے لیے وہ رکشوں میں سفر کرنے سمیت پیدل جایا کرتی تھیں۔ خیال رہے کہ متھیرا 2004 میں افریقی ملک زمبابوے سے پاکستان آئی تھیں، ان کی پیدائش اور پرورش زمبابوے میں ہوئی تھی، ان کے والد زمبابوے کے نامور سیاستدان ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق پاکستان سے ہے اور والدہ کی طلاق ہونے کے بعد زمبابوے سے پاکستان آ کر انہوں نے ٹی وی انٹرٹینمنٹ شوز سے میزبانی کا آغاز کیا۔بعد ازاں انہوں نے ماڈلنگ شروع کی اور اگست 2014 میں پنجابی گلوکار کار فلنٹ جے سے شادی کر لی، تاہم چار سال بعد 2018 میں ان کی طلاق ہوگئی تھی۔ انہیں ایک بیٹا بھی ہے۔

Back to top button