چوہدریوں نے اپنے باپ کی قاتل پارٹی سے اتحاد کیوں کیا؟

اگرچہ گجرات کا چوہدری خاندان عمر بھر چوہدری ظہور الہیٰ کے قتل کا الزام مرتضیٰ بھٹو کی سربراہی میں کام کرنے والی دہشت گر تنظیم الذوالفقار پر عائد کرتا رہا لیکن جون 2012 میں ان کے بیٹے چوہدری شجاعت حسین اور بھتیجے پرویز الہیٰ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسی دوستی ڈالی کہ چوہدری پرویز الہی ملک کے پہلے ڈپٹی وزراعظم بنا دیئے گئے۔

یاد رہے کہ 25ستمبر 1981 کو جب لاہور میں چوہدری ظہور الہیٰ کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا تو مولوی مشتاق بھی ان کی گاڑی میں موجود تھے جنہوں نے ذوالفقار بھٹو کو بحیثیت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ موت کی سزا سنائی تھی۔ لہذا گجرات کے چوہدریوں کا موقف تھا کہ بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ کی دہشت گرد تنظیم الذوالفقار کی جانب سے مولوی مشتاق کی ٹارگٹ کلنگ کی کوشش کے دوران چوہدری ظہور الہیٰ کو بھی شہید کر دیا گیا۔

چودہری شجاعت حسین اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ‘سچ تو یہ ہے، میں لکھتے ہیں کہ 25 ستمبر 1981 کو ان کے والد چوہدری ظہور الہی اپنے دوست کے گھر سے ماڈل ٹاؤن کی طرف روانہ ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے پراسیکیوٹر ایم اے رحمان ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وہ مولوی مشتاق کو ڈراپ کرنے ان کے گھر جا رہے تھے۔ظہور الہی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ماڈل ٹاؤن موڑ کے قریب ایک کار نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور سامنے آکر گاڑی روک دی۔ کار سواروں نے سٹین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔کار کے اندر دو دستی بم پھینکے جن میں سے ایک ظہور الٰہی کے ڈرائیور نسیم نے اٹھا کر باہر پھینک دیا جبکہ دوسرے کے پھٹنے سے وہ مرگیا۔چودھری ظہور الٰہی کے سینے میں گولی لگی۔مولوی مشتاق حسین کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ ایم اے رحمان بالکل محفوظ رہے۔ شدید زخمی چودھری ظہور الٰہی کو کرسچیئن ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان کے بھائی چوہدری منظور الٰہی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے حق میں نہ تھے لیکن بارک اللہ ایڈووکیٹ اور جسٹس کرم اللہ چوہان کے اصرار پر راضی ہوگئے۔

اس زمانے میں چوہدری ظہور الٰہی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما اور ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر محنت و افرادی قوت رہ چکے تھے چوہدری شجاعت اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حادثے سے تین روز قبل میرے والد نے راجہ ظفر الحق کو بتایا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ الذوالفقار نے مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ اس واقعے کی شام بھٹو کے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو نے مبخنہ طور پر دہلی میں بی بی سی کے نمائندے مارک ٹیلی کو ٹیلی فون کر کے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ان کے بیان کے مطابق ڈاکٹر مصدق اور اقبال نامی شخص نے یہ جان لیوا حملہ کیا تھا۔ لیکن ایئر فورس کے سابق سربراہ اور سیاستدا اصغر خان اپنی کتاب ’مائی پولیٹیکل سٹرگل‘ میں مرتضیٰ بھٹو کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اسطرح کی تنظیموں میں یہ معمول کی بات ہے کہ وہ ان کاروائیوں کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال لیں جو انہوں نے کہ ہی نہیں ہوتیں۔

پولیس کی جانب سے اس کیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ واردات میں استعمال ہونے والی دونوں گاڑیاں چوری شدہ تھیں۔بالآخر پولیس نے عبدالرزاق جھرنا نامی نوجوان کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اس نے الذوالفقار سے اپنی وابستگی اور کابل میں دہشت گردی کی ٹریننگ لینے کا اعتراف بھی کیا۔چوہدری شجاعت حسین اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’ان کی والدہ نے انہیں پتا لگانے کا کہا کہ پولیس نے واقعی اصل قاتل گرفتار کیا ہے یا خانہ پری کے لیے کسی بے گناہ کو پکڑ لیا ہے۔والدہ کے حکم پر وہ اپنے ساتھیوں سمیت اسے ملنے تھانے چلے گئے۔ گفتگو میں اس سے پوچھا کہ اگر اس نے قتل نہیں کیا تو بتا دے تاکہ اسے رہا کروایا جائے۔ چودھری شجاعت حسین کے بقول نوجوان نے اعتماد سے جواب دیا کہ ’میں نے اپنا کام کر دیا ہے۔ مجھے پھانسی نہیں ہو گی۔ میرے لوگ مجھے رہا کروا لیں گے۔ لیکن کچھ عرصے بعد اس کی سزائے موت پر عمل درآمد ہو گیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی لالہ اسد پٹھان کراچی میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ ماضی میں الذوالفقار سے منسلک رہنے اور ضیاءالحق پر قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش کے الزام میں آٹھ برس جیل کاٹنے والے آصف بٹ کا کہنا ہے کہ چوہدری ظہور الہٰی کی گاڑی پر حملے کا مقصد مولوی مشتاق کی جان لینا بتاتے ہیں۔ان کے مطابق اس کام کے لیے تین افراد کا گروپ تشکیل دیا گیا تھا جن کا سربراہ لالہ اسد پٹھان تھا۔ لالہ اسد نے 25 ستمبر کو مولوی مشتاق کا حساب بےباک کرنے کا فیصلہ کیا۔عبدالرزاق جھرنا لالہ اسد کی خواہش پر ان کے ساتھ ہو لیا۔آصف بٹ کے بقول ان چاروں میں سے کوئی بھی مولوی مشتاق کی شکل سے واقف تھا اور نہ ہی چوہدری ظہور الٰہی کو پہچانتا تھا۔ لالہ اسد پٹھان نے کلاشنکوف کے فائر کھول دیے جس سے چوہدری ظہور الٰہی اور ان کا ڈرائیور نسیم راہی ملک عدم ہوئے۔

یاد رہے کہ چودھری ظہور الٰہی اپنے دور کے نامور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے ایک پولیس کانسٹیبل سے قومی سطح کے رہنما تک کا سفر بڑی کامیابی سے طے کیا۔ایک صدی قبل گجرات کے علاقے نت میں جنم لینے والے چودھری ظہور الہٰی جوڑ توڑ اور دھڑے بندی کی سیاست کے بادشاہ مانے جاتے تھے۔قیام پاکستان سے قبل پولیس کی نوکری سے فراغت حاصل کر کے اپنے بھائی چوہدری منظور الٰہی کے ساتھ مل کر کاروبار کا آغاز کیا ۔تقسیم ہند کے بعد میلا رام مل کی الاٹمنٹ نے ان کی معاشی اور سماجی حیثیت دو چند کر دی جس کے بعد ان کی اگلی منزل ضلع گجرات کی سیاست میں نمایاں ہونا تھا۔چوہدری ظہورالہیٰ نے ایک عام آدمی کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا۔ انہوں 1950ء میں میدان سیاست میں قدم رکھا تو چند ہی برسوں میں ملکی سیاست میں بلند مقام پیدا کر لیا۔وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانےلگے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان کا شمار ملک کے نمایاں کاروباری خاندان کے طور پر ہونے لگا۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد سے ان کے اولاد نے انکی پرو اسٹیبلشمینٹ سیاست آگے بڑھائی ہے۔

چالیس برس قبل چوہدری ظہور الٰہی کے قتل سے ان کے خاندان اور پیپلز پارٹی میں نفرت اور مخالفت کی دیوار کھڑی ہو گئی تھی ۔چوہدری خاندان پیپلز پارٹی کو نیچا دکھانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ لیکن 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں پرویز الٰہی کے ڈپٹی وزیراعظم بننے سے عداوت کی یہ دیوار گر گئی۔ آج بھی چوہدری برادران اور آصف علی زرداری کے درمیان حکومت اور اپوزیشن میں ہونے کے باوجود خوش گوار مراسم قائم ہیں۔

Back to top button