چوہدری نثاروزيراعظم یا وزیراعلیٰ بننے کے خواہش مند تھے

مسلم ليگ ن کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی مياں جاويد لطيف نے چوہدری نثار سے متعلق نئے انکشافات کئے ہیں اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی دھرنے میں چوہدری نثار علی خان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار خان وزيراعظم يا وزيراعلیٰ بننا چاہتے تھے، اس وجہ سے انہوں نے اٹھارويں ترميم ميں بھی رخنہ ڈالا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے نوازشريف کو تیسری دفعہ وزیراعظم بننا تھا،چوہدری نثار نہيں چاہتے تھے کہ نوازشريف دوبارہ وزيراعظم بنيں۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان نے پی ٹی آئی کے دھرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، دھرنے کے دوران چوہدری نثار نے اعتزاز احسن پر جان بوجھ کر الزامات لگائے، الزمات کے بعد پیپلزپارٹی نے سوچ لیا تھا کہ وہ پارليمنٹ اجلاس سے اٹھ جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چوہدری نثار کے انکار کے بعد راجہ ظفر الحق کو معافی مانگنے کو کہا گيا۔
جاويد لطيف نے بتایا کہ نوازشریف نے پارليمنٹ میں پیپلزپارٹی کی طرف داری کی،مسلم ليگ ن مولانا فضل الرحمن کے مارچ میں ساتھ ديتی تو بہتر تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ ميں شرکت کا نوازشريف کا فيصلہ نہيں مانا گيا، جو غلط تھا۔
جاوید لطیف نے بتایا کہ حکومت نوازشریف کو بيرون ملک رکھنا چاہتی ہے، یہ ان کی خواہش ہے، نوازشریف واپس ضرور آئيں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے سرپرست کو مطمئن کریں گے تو بچیں گے، اب نیب کے سرپرست عمران خان ہیں، اس ليے عمران خان کو مطمئن کرنا پڑے گا ليکن عمران خان کو مطمئن کرنے کا فارمولا ہمارے پاس نہيں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button