چینیوں پر حملوں کے بعد سی پیک پر سرمایہ کاری میں کمی


حکومت پاکستان کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں تیزی لانے کے دعوؤں کے باوجود سٹیٹ بینک آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کمی جبکہ امریکہ کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجہ پاکستان میں مختلف مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں پر ہونے والے دہشت گردی حملے ہیں جن کے بعد سے تقریبا تمام بڑے پروجیکٹ پر کام رکا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے جس میں بڑی سڑکوں، بجلی گھروں، ریلوے لائن اور صنعتی زونز کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ نواز کے دور میں سی پیک کے منصوبے پر کام شروع ہوا تھا۔ اسکے تحت بہت سارے منصوبوں کا افتتاح کیا گیا اور کچھ مکمل بھی ہوئے تاہم تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے سی پیک سست روی کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کی جانب سے جہاں سی پیک منصوبے پر وفاقی حکومت کی جانب سے کام کو سست کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب سی پیک کے حوالے سے غیر جانبدار مبصرین اور معاشی تجزیہ کاروں کی رائے بھی اپوزیشن کے الزامات سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چینی سرمایہ کاری میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں جاری انفراسٹرکچر اور توانائی کے بہت سارے منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جو منصوبے زیر تکمیل بھی ہیں ان کی مد میں سرمایہ کاری پہلے ہی موصول ہو چکی ہے۔ جبکہ دوسری جانب مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں سی پیک کے تحت کسی بڑے منصوبے کا آغاز نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی پیک پر کام سست روی کا شکار ہے انھوں نے کہا کہ ان قیاس آرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لیکن ان کا یہ دعوی سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے غلط ثابت ہوتا ہے۔ سٹیت بینک کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس دورانیے میں پاکستان میں چین کی جانب سے آنے والے سرمائے کی مالیت صرف دس کروڑ ڈالر رہی جو گذشتہ سال کے اسی دورانیے میں بیس کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔ اسی طرح موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی میں امریکہ کی جانب سے پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری کی مالیت دس کروڑ ڈالر سے زائد رہی جبکہ گذشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں صرف دو کروڑ ڈالر لگائے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں چین سے آنے والی لگ بھگ تمام تر سرمایہ کاری سی پیک کے منصوبوں کے تحت ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گذشتہ تقریباً دو سال میں چین سے پاکستان میں آخری بار سب سے زیادہ سرمایہ کاری دسمبر 2019 میں کی گئی تھی اور اس کا حجم تیس کروڑ ڈالر تھا۔
اس کے بعد اس سرمایہ کاری میں بتدریج کمی آنا شروع ہوئی اور مختف مہینوں میں تھوڑے بہت اضافے اور کمی کے بعد یہ مجموعی طور پر 20 کروڑ سے کم ہی رہی۔ اگرچہ کورونا وائرس کے اثرات نے بھی چینی سرمایہ کاری کو متاثر کیا تاہم ان اثرات کے زائل ہونے کے بعد بھی یہ سرمایہ کاری دوبارہ اپنی بلند سطح پر نہیں پہنچ سکی۔ اپریل 2020 میں یہ فقط اسی لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئی تھی جس کی وجہ بنیادی وجہ کورونا وائرس تھی تاہم ستمبر 2020 میں اس کے حجم میں کچھ بہتری ہوئی اور یہ تیرہ کروڑ ڈالر تک پہنچی۔
موجودہ سال کے پہلے مہینے (جنوری) میں اس کا حجم پانچ کروڑ ڈالر رہا جو رواں مالی سال کے پہلے مہینے (جولائی) میں مزید کم ہوا اور گذشتہ ماہ یعنی ستمبر کے مہینے میں سرمایہ کاری کا مجموعی حجم فقط ڈھائی کروڑ ڈالر رہا۔ ڈارسن سکیورٹیز میں معاشی امور کے تجزیہ کار یوسف سعید نے بتایا کہ چینی سرمایہ کاری زیادہ تر سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں میں آ رہی تھی جن میں سے بہت سارے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر شعبہ جاتی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ اس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر اکرام الحق کی رائے ہے کہ اس سرمایہ کاری میں کمی کے پس پردہ سکیورٹی کے خطرات بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چینی انجینیئرز پر ہونے والے حملوں نے بھی اس سلسلے میں کردار اد ا کیا ہے۔
پاکستان کے سابقہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ زیادہ تر چینی سرمایہ کاری سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں میں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کا تھا جن میں اکثر نواز لیگ کے دور میں ہی مکمل ہو گئے تھے۔’دوسرا مرحلہ صنعتی زون کا ہے جس میں تاحال کام شروع نہیں ہو سکا۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ چینی سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ یہی ہے کہ ان صنعتی زونز پر کوئی کام نہیں ہوا اور تحریک انصاف کے دور میں ان منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہوا یا جان بوجھ کر اس پر کام نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا ہمارے منصوبے کے مطابق نو صنعتی زونز پر 2020 کا کام شروع ہونا تھا تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ان میں سے ایک کا بھی سنگ بنیاد تک نہیں رکھا جا سکا۔ ‘جب ان منصوبوں پر کام کا آغاز ہی نہیں ہو گا تو لازمی طور پر چینی سرمایہ کاری کم ہو گی۔’
انھوں نے بتایا کہ اسی طرح ریلوے کے شعبے میں ایم ایل ون کے منصوبے پر سنہ 2017 میں دستخط ہوئے تھے لیکن اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ احسن اقبال نے کہا ہمارے دور میں سی پیک منصوبوں پر 75 ہزار چینی کام کر رہے تھے لیکن گوادر، کوئٹہ، کراچی اور داسو میں چینی شہریوں پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بھی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بنے۔
تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ایک جانب جہاں چینی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے وہیں پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے پر تجزیہ کار یوسف سعید نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے آئل، گیس یا کمیونیکشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی ہو گی۔
اُن کے مطابق یہ سرمایہ کاری شاید ایک ٹائم کے لیے ہوئی ہو گی جو امریکی کمپنیوں کی جانب سے کچھ شعبوں میں وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری کے رحجان کے دیرپا ہونے کے بارے میں یوسف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں کوئی مستند رائے اس وقت نہیں دی جا سکتی۔
سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت پر امریکہ کی جانب سے دباؤ تھا کہ اگر وہ سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار سست کریں تو اس کے بدلے میں پاکستانی حکومت امریکہ سے کچھ حاصل کر پائے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں ایک جانب چینی سرمایہ کاری کم ہوئی ہے تو دوسری جانب اب امریکہ بھی پاکستان پر اعتبار نہیں کر رہا۔ ڈاکٹر اکرام الحق نے امریکہ کی جانب سے سرمایہ کاری کے سوال پر کہا کہ افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان اب سرمایہ کاری کے لیے کوئی مثالی ملک نہیں ہے۔ انھوں نے معاشی اعشاریوں میں گراوٹ کے ساتھ خطے کی صورتحال اور پاکستان کے اندرونی مسائل کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میں امریکی سرمایہ کاری کیا آئے گی بلکہ چینی سرمایہ کاری بھی کم ہو رہی ہے۔
معاون خصوصی خالد منصور سے جب پوچھاگیا کہ کیا موجودہ حکومت کے آنے کے بعد امریکہ کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار کو سست کیا گیاہے؟ تو انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کے دعوے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی آدمی تو نہیں ہیں مگر یہ بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کے امریکہ اور چین دونوں سے بہتر سفارتی تعلقات ہیں۔

Back to top button