چین میں پھنسےپاکستانیوں کےویزامیں توسیع

چین میں پھیلتےکورونا وائرس کے سبب پروازوں کی معطلی کے باعث ارومچی شہر میں پھنسے والے پاکستانی طلبہ اور کمیونٹی کے ایک گروپ کے ویزا میں چینی حکام نے 11 دن کی توسیع کردی۔
ذرائع کے مطابق جب تک اسلام آباد اورارومچی کے درمیان پروازیں بحال نہیں ہوتیں تمام افراد کو ہوٹل، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس بارے میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک سینئرعہدیدار کا کہنا تھا کہ بیجنگ اورارومچی میں موجود انتظامیہ مکمل تعاون کررہی اوراس بات کو یقینی بنارہی کہ ارومچی میں پھنسے تمام پاکستانیوں کوخوراک، صحت اور دیگرسہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ارومچی میں پاکستانیوں کے ساتھ سفارتخانے کےحکام رابطے میں ہیں اوراب تک ‘ان افراد کو کوئی مشکل اور پریشانی درپیش نہیں ہے’۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا پرکچھ طلبہ نے ان لوگوں کو مدد فراہم کرنے پر پاکستانی سفارتخانے اور چینی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ جمعہ کو شمال مغربی چینی علاقے سنکیانک میں ارومچی ایئرپورٹ پر 150 کے قریب پاکستانی 4 دن سے پھنسے ہوئے تھے اور انہوں نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں وہاں سے واپس لائے۔
ایک ویڈیو پیغام میں طلبہ اور تاجروں نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ سے نہیں جاسکتے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے ویزے ختم ہوچکے ہیں جبکہ نہی ہی وہ پاکستان آسکتے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان نے چین سے پروازوں کو معطل کردیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک پی ایچ ڈی اسکالر طارق رؤف نے کہا تھا کہ ‘ہم سب پاکستانی کمیونٹی ارومچی میں کھڑے ہیں جو مختلف شہروں سے آئے ہوئے ہیں، کوئی دو، تین سے بیٹھے ہیں اور پروازیں بھی معطل ہیں’۔
چین میں زیر تعلیم طارق رؤف نے ذرائع کو ایک ویڈیو پیغام بھیجا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہم پاکستانی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یہاں سے نکالے، یہ ہمارا آئینی حق ہے’۔
واضح رہے کہ چین میں مہلک کورونا وائرس سے اب تک 259 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 11 ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں، اس کے علاوہ امریکا نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پاکستان نے بھی عارضی طور پر چین سے پروازوں کو معطل کردیا تھا۔ کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز (وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔
تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس ‘نوول کورونا وائرس’ ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔
