چین میں کورونا وائرس سےہلاکتوں کی تعداد500کےقریب پہنچ گئی

چین میں نووول کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 500 کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 24 ہزارسے تجاوز کرگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق چین کے صوبے میں مزید 65 ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 490 تک پہنچ گئی ہے۔ چینی حکام کی جانب سے کورونا وائرس کو روکنے کی کوششوں کے تحت صوبہ ہوبے سے دورمزید شہروں کی جانب سے پابندیاں نافذ کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔
دیگر کئی ممالک سے کورونا وائرس کے کیسزسامنے آئے ہیں جو چین سے نہیں تھے جس کی وجہ سے عالمی تشویش میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 3 ہزار7 سو11 افراد کو لے جانے والے بحری جہاز ہر10 لوگوں میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد انہیں جاپان کے ساحل پر قرنطینہ کردیا گیا۔ گزشتہ روزہانگ کانگ میں ایک سابق مسافر میں مرض کی تصدیق کے بعد جاپانی حکام نے بحری جہاز میں سوارتمام افراد کے ٹیسٹ کا آغاز کیا۔
صوبہ ہونے میں گزشتہ ہفتے سے 5 کروڑ60 لاکھ افراد کو قرنطینہ کردیا گیا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت ووہان صحت کی ہنگامی صورتحال کا مرکز ہے۔ شنگھائی کے جنوب مغرب سے175 کلومیٹرزکے فاصلے پرواقع شہرہانگژو میں چین کی سب سے بڑی آن لائن کاروباری کمپنی علی بابا کے قریب گلیوں کوسبزرنگ کی باڑسے بلاک کردیا گیا ہے۔
دنیا کی اہم ترین کمپنیوں میں سے ایک علی بابا بظاہربند معلوم ہوتی ہے جبکہ ڈیلیوری مین سامان پہنچانے کے لیے قریبی رہائشی علاقوں میں آجارہے ہیں ، کئی افراد کو باہرجاتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔ علی بابا ان 3 اضلاع میں سے ایک میں واقع ہے جہاں رواں ہفتے 30 لاکھ افراد کوہدایت کی گئی تھی کہ ہر گھر میں سے صرف ایک شخص کو ہر2 روز بعد ضرورت کی اشیا خریدنے کے لیے باہرجانے کی اجازت ہوگی۔
صوبہ ژجیانگ کے 3شہروں تائیژو، ونژواورننگبو کے کچھ حصوں میں اسی طرح کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس سے ایک کروڑ80 لاکھ افراد متاثرہورہے ہیں۔ چین کے شمالی مشرقی صوبے ہیلونگجیانگ اورمشرقی ساحل پردو شہروں میں بھی حکام کی جانب سے ایسی پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں۔
ہوبے کی سرحد پرواقع صوبے ہینان کے شہر ژومادیان کے ایک ضلع میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر5 روز بعد ہرگھرسے صرف ایک شخص کوباہرنکلنے کی اجازت ہوگی جبکہ ہوبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے آگاہ کرنے والے مقامی افراد کے لیے نقد انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
