چین نے دوستی نبھا دی،2.3 ارب ڈالراسٹیٹ بینک کو موصول ہوگئے

دوست ملک چین نے ایک بار پھر اپنی دوستی بنھاتےہوئے پاکستان کی ہچکولے کھاتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے2.3 ارب ڈالر دیئے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چینی کنسورشیم کا تقریباً 2.3 ارب ڈالر کا قرض اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا اس رقم سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ تمام بجٹ کی کاروائی بہت خوش اسلوبی سے ہوئی ہمیں ارکان نے بہت اچھے مشورے دیئے گئے ہیں، بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے گندم و کپاس اور نوجوانوں کی طرف توجہ دلائی گئی، ہم نے کھل بنولہ پر ٹیکس ہٹا دیا ہے، زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزارروپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا، خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی، بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

وزیر خزانہ نے کہا اتحادی جماعتوں نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر ملکی معیشت بچائی ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام معطل تھا، ہم آئی ایم ایف سے بات چیت میں قریب پہنچ چکے ہیں، ہم نے ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگائے بلکہ امراء پر ٹیکس لگائے ہیں، میں نے اپنے وزیر اعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر ٹیکس لگائے ہیں، میری اپنی کمپنی 20 کروڑ روپے اضافی ٹیکس دے گی،90 لاکھ دکانوں میں 25 لاکھ دکانوں پر فکس ٹیکس لگائیں گے، سونے کے کاروبار میں 30 ہزار دکانوں میں سے 22 ہزار رجسٹرڈ ہیں، ہر سونے کی 3 سو سکوائر فٹ دکانوں پر 40 ہزار فکسڈ ٹیکس لگا دیا ہے۔

مفتاح اسماعیل قومی اسمبلی میں نے بتایا کہ ہم آمدن پر ٹیکس لگارہے ہیں، ہمارے اقدامات سے مہنگائی نہیں بڑھے گی، 80 لاکھ لوگ بے نظیر سکیم میں رجسٹرڈ تھے، 40 لاکھ میسیج کرچکے ہیں ، آٹا گھی چینی سارا سال سستا دیا جائے گا، یوٹیلیٹی سٹورز پر ایک آمدن کی حد مقرر کی جارہی ہے۔

Back to top button