10 فیصد سپر ٹیکس کا نفاذ سٹاک مارکیٹ کو لے ڈوبا


وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر پر ٹیکس لگانے کے اعلان کے بعد حالیہ دنوں میں بہتری کے آثار دکھانے والی پاکستانی سٹاک مارکیٹ دھڑام سے نیچے آ گری ہے اور 2000 پوائینٹس گرنے کے بعد شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بڑی صنعتوں پر ٹیکس لگانے کا مقصد غربت کو کم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ جن بڑی صنعتوں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے ان میں سیمنٹ، سٹیل، آئل اینڈ گیس، بینکنگ انڈسٹری، آٹو موبیل انڈسٹری، فرٹیلائزر انڈسٹری، سگریٹ انڈسٹری اور شوگر انڈسٹری شامل ہیں۔ حکومتی فیصلے کے مطابق سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک، 20 کروڑ سے زائد آمدن پر دو، 25 کروڑ سے زائد پر تین اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر چار فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

حکومتی فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ ہم اصلاحات کر کے الیکشن کی طرف چلے جائیں جبکہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم سخت فیصلے کریں اور ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دے کر سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ضمیر کی آواز یہ تھی کہ آسان فیصلے کرنا قوم کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ سیاست نہیں بلکہ ریاست کو بچانے کا وقت ہے۔ لہذا ہم نے جرأت کے ساتھ آگے بڑھنے اور ڈوبتی معیشت کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ جمعے کو سٹاک ایکسچینج میں کاروبار دو ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ٹیکس میں اضافہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھا جارہا ہے۔ جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان ظفر پراچہ نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت ٹیکسز میں اضافے اور آمدنی بڑھانے کے لیے لارج ٹیکس سکیل پر سپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کیمیکلز، بینکنگ، سیمنٹ، تیل و گیس، سگریٹ، آٹو اور ایوی ایشن کے شعبے براہ راست متاثر ہوں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’آئی ایم ایف کی شرائط پر آج منی بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کا منفی اثر مارکیٹ میں نظر آیا ہے۔ جو سپر ٹیکس لگایا ہے اس کی وجہ سے مارکیٹ دو ہزار سے زائد پوائنٹس نیچے آئی ہے۔ نئے سرمایہ کاروں کو اس سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایس ای سی پی سمیت دیگر ذمہ داران کو دیکھنا ہوگا کہ مارکیٹ میں ایسے منفی اثرات کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔‘

سپیکٹرم سکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ عبدالعظیم کا کہنا ہے کہ ’رواں ہفتے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت اور چین سے ڈالر ملنے کی اطلاعات کے بعد ناصرف روپے کی قدر میں بہتری دیکھنے میں آرہی تھی بلکہ سٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان دیکھا جارہا تھا لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں اضافے کی خبروں سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نظر آیا اور مارکیٹ جمعہ کے روز 2 ہزار پوائنٹس تک نیچے آگئی۔‘ واضح رہے کہ کاروباری ہفتے کے آخری مارکیٹ 2 ہزار 53 پوانئٹس کی کمی کے ساتھ 40 ہزار 663 پر بند ہوئی۔

Back to top button