چین نے پاکستان کو قرضوں کے چنگل میں کیسے پھنسایا
کل تک دنیا سے قرض لینے والا چین آج دوسرے ممالک کو قرض دینے والا ایک اہم ملک بن چکا ہے جس کی ایک بڑی مثال پاکستان یے جہاں چینی فنڈنگ سے 27 ارب 30 کروڑ ڈالرز مالیت کے 70 سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے تاہم حکومت پاکستان کے معاشی ماہرین کا موقف ہے کہ چین نے ان قرضوں کے ذریعے پاکستان کو ایسے جال میں پھنسا لیا ہے جس سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ پاکستانی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چين کی جانب سے يقين دہانيوں کے باوجود سی پيک کی تحت طے کيے گئے متعدد منصوبوں پر حکومت پاکستان شدید تحفظات کا شکار ہے کیونکہ یہ سمجھتی ہے کہ زيادہ تر منصوبے چين کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جنکی قیمت پاکستان کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے ميں چينی سرمايہ کاری کے حوالے سے تحفظات بڑھتے جا رہے ہيں ور پاکستان ہی نہيں بلکہ سری لنکا، ملائيشيا اور مالديپ کی نئی حکومتيں بھی سابقہ حکومتوں کی جانب سے چین کے ساتھ طے کردہ معاہدوں کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات رکھتی ہيں۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان بین الاقوامی معاہدوں میں کوئی ترمیم کرنا ممکن نہیں ہے لہذا یہ منصوبے حکومتوں کے لئے ایک کڑوی گولی بن چکے ہیں جسے نگلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت بھی سی پیک پروجیکٹ کے تحت چین سے ملنے والے قرضوں کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے۔ کپتان حکومت کا موقف ہے کہ شاہراہ ریشم جیسے کئی معاہدے درست انداز سے طے نہيں کيے گئے اس لیے وہ پاکستان سے زيادہ چين کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہيں۔ اسی لیے سی پیک کے تحت طے کردہ کئی بڑے منصوبے اس وقت تعطل کا شکار ہیں اور ان پر کام نہیں ہو رہا۔
یاد رہے کہ چین گذشتہ برسوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں قرض فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے۔ لیکن بہت سے چینی منصوبوں کے لیے بھاری سود والے قرضے اور چینی سرکاری کمپنوں کے سستھ طے ہونے والے مبہم معاہدے ان ممالک کو پریشان کر رہے ہیں۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ اور دیگر معاشی طاقتوں کے مقابلے میں ترقیاتی منصوبوں کی مد میں چینی سٹیٹ بینک سے ہائی رسک قرضوں کی صورت میں دگنے پیسے مختلف ممالک پر خرچ کیے ہیں۔ چین کی جانب سے اتنی رقم ادھار دینا حیران کن ہے، کیونکہ کچھ عرصہ قبل تک چین خود بیرونی امداد لیتا تھا مگر اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکی ریاست ورجینیا کی ولیم اینڈ میری یونیورسٹی کی ایڈ ڈیٹا ریسرچ لیب کے مطابق گذشتہ 18 برسوں کے دوران چین نے 165 ممالک کو 13427 انفراسٹریکچر کے منصوبوں کے لیے 843 ارب ڈالرز کے قرض دیے ہیں۔ ان قرضوں میں سے زیادہ کا تعلق چینی صدر شی جن پنگ کے بڑے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ سے ہیں۔ سنہ 2013 سے چین انفراسٹرکچر میں مہارت اور غیر ملکی سرمائے کی مدد سے نئے بین الاقوامی تجارتی راستوں کی تعمیر کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ایڈ ڈیٹا سینٹر کے محققین نے چار برس تک چین کی عالمی سطح پر خرچ کی گئی اور قرض کی مد میں دی گئی رقم کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ چین نے کئی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے جو بھاری قرض دیے تھے، انکی بروقت ادائیگی نہ ہونے پر متعلقہ ممالک کے کئی اثاثے یا تو چینی ملکیت میں چلے گے یا اسے گروی رکھ دیے گے۔ چین اور اس کے ہمسایہ ملک لاؤس کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس کو ایسی ہی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو اب چین کی ملکیت ہے۔
پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا جنھیں چین کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں ڈالرز کا قرض مل رہا ہے۔ چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت سب سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے جن ممالک کو فنڈ دیا ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے. ایڈ ڈیٹا کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کو چین سے ملنے والے قرض کا جائزہ لیا جائے تو سنہ 2000 سے لے کر سنہ 2017 تک چین نے پاکستان کو 34 ارب 40 کروڑ ڈالرز کا قرض دیا ہے جس کا بڑا حصہ ملک میں ترقیاتی کاموں کے لیے مختص ہے۔ ان میں سے 80.4 فیصد فنڈنگ قرض کی صورت میں ہے جو تجارتی شرح یا تقریباً اسی شرح کی بنیادوں پر پاکستان نے حاصل کیا ہے جبکہ پاکستان کو ملنے والی رقم کا صرف 12.1 فیصد حصہ مالی امداد کی صورت میں ہے جسے پاکستان نے واپس نہیں کرنا۔ پاکستان میں چینی فنڈنگ سے 27 ارب 30 کروڑ ڈالرز مالیت کے تحت 71 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پاکستان کو سی پیک منصوبے کے تحت ملنے والے قرض کا 83 فیصد حصہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ان شعبوں کے منصوبوں میں کوئلے سے چلنے والے بجلی پلانٹس، ڈیمز، سڑکوں کی تعمیر اور انڈسٹریل و اکنامک زونز کا قیام شامل ہے۔
چین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی رقم کا 90 فیصد حصہ قرض ہے اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کا 95.2 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کا 73 فیصد حصہ قرض ہے۔ چین نے پاکستان کو اوسط قرضے 3.76 فیصد کی شرح سود پر دیے ہیں جن کی بشمول سود مکمل ادائیگی 13 برس اور دو ماہ میں ہونی ہے اور اس قرض کی ادائیگی کا عمل قرض ملنے کے بعد چار برس اور تین ماہ بعد شروع ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چین کی طرف سے ترقیاتی امداد کا نصف حصہ پاکستان میں ایکسپورٹ بائر کریڈٹ کی شکل میں آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ چینی اداروں نے پاکستان کو آلات اور اشیا ان اداروں سے خریدنے کے لیے قرض دیا ہے جن کی منظوری چینی حکام نے دی ہے۔ سی پیک سے قبل سنہ 2002 سے 2012 کے دوران ، چین سے 84 فیصد قرضہ پاکستان میں مرکزی حکومتی اداروں کو دیا گیا تھا۔ لیکن چین نے سی پیک کے منصوبے کے اعلان کے بعد حکمت عملی بدلتے ہوئے وفاقی حکومت کے علاوہ بھی حکومتی اداروں کو قرض دیا۔
اییڈ ڈیٹا کا کہنا ہے کہ چین کے قرض کا چالیس فیصد اب سرکاری کمپنیوں، ریاستی بینکوں، خاص مقاصد کی گاڑیوں، مشترکہ وینچرز اور نجی شعبے کے اداروں کو دیا جا رہا ہے۔ اور ان میں سے زیادہ تر حکومت کی بیلنس شیٹ میں ظاہر نہیں کیا جاتا ہے۔ تاہم چین نے اکثر اداروں کو یہ قرض نادہندگی کی صورت میں حکومت کی ضمانت پر دیا ہے یعنی اگر وہ ادارے یہ قرض ادا نہ کر سکیں تو حکومت پاکستان انکی ادائیگی کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گی۔ جبکہ بعض معاملات میں قرض کی ادائیگی کی باضابطہ ضمانت کی بجائے حکومت قرض دینے والوں کو معاہدے کے تحت ایک خاص فیصد تک ادائیگی کرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ اس قسم کی ضمانت ‘خفیہ قرض’ کی ایک صورت ہوتی ہے۔ ایڈ ڈیٹا کے مطابق سی پیک کے تحت چین نے پاکستان کو بھی ایسا ہی خفیہ قرض دیا ہوا ہے۔ چین کی طرف سے پاکستان کو ملنے والے قرضے کا دو تہائی حصہ چین کے ایگزم بینک سے ملا ہے جبکہ 8.4 فیصد چائنا ڈویلپمنٹ بینک اور 6.5 فیصد انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سے حاصل کیا گیا ہے۔ ایڈ ڈیٹا کے مطابق چین کے دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی سی پیک کے تحت ہونے والی معاہدوں کی شرائط بھی عام نہیں کی گئی ہیں۔
لہازا سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کو بھی چین کو قرض واپسی کے معاملے پر لاؤس جیسی صورتحال کا سامنا تو کرنا پڑ جائے گا۔ حکومت کے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری امداد کی شکل میں نہیں بلکہ کمرشل شرائط پر دیے گئے قرضوں کی شکل میں ہے۔ سی پیک کی مد میں پاکستان کو چین کی جانب سے دی گئی 90 فیصد رقم قرضوں کی شکل میں ہے اور پاکستانی حکومت پر ذمہ داری ہے کہ وہ ان قرضوں کو سالانہ 3.76 فیصد کی اوسط سود کے ساتھ ادا کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار اور قرضوں میں تناسب جو کہ سرکاری طور پر 92 فیصد دکھایا جاتا ہے، وہ ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان نے چینی سرمایہ کاروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے سرمائے پر منافع ضرور دیں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ منصوبے توقعات کے مطابق آمدنی نہیں پیدا کر پاتے، تو حکومت پاکستان کو ان قرضوں کی ادائیگی کرنی ہوگی تاکہ سرمایہ کاروں سے کیے گئے وعدے پورے کر سکیں۔ لیکن کیونکہ یہ تمام معاہدے ڈالر کرنسی میں کیے گئے ہیں، اور روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے، لہازا مقامی کرنسی میں قرض کی ادائیگی کا بوجھ بھاری ہوتا جائے گا اور مجموعی قرضوں کا حجم بڑھتا جائے گا۔ یعنی کہ پاکستان چین کے ہاتھوں قرضوں کے ایسے چنگل میں پھنس گیا ہے جس سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔
