چین کا ڈیمیشا بیچ دنیا کے گنجان ترین ساحلوں میں شامل، 1.8 کلومیٹر ساحل پر 2 لاکھ افراد تک کا رش
شینزن میں واقع مشہور عوامی ساحل پر گرمیوں اور تعطیلات کے دوران غیر معمولی ہجوم، حکام نے روزانہ آنے والوں کی تعداد 80 ہزار تک محدود کردی

شینزن (نیوز ڈیسک) چین کے شہر شینزن میں واقع ڈیمیشا بیچ دنیا کے گنجان ترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں صرف 1.8 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر بعض مواقع پر تقریباً 2 لاکھ افراد تفریح کے لیے جمع ہوچکے ہیں۔
جنوب مشرقی چین میں واقع یہ ساحل مقامی شہریوں اور سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔ ہفتہ وار تعطیلات اور گرمیوں کے موسم میں یہاں اتنا رش ہوجاتا ہے کہ ریتلا ساحل بسا اوقات انسانوں کے سمندر کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔
سیاحتی پلیٹ فارمز پر آنے والے بعض افراد نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ شدید رش کے باعث بعض اوقات پانی تک پہنچنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
ڈیمیشا ایک عوامی ساحل ہے اور یہاں داخلہ مفت ہے، تاہم غیر معمولی ہجوم پر قابو پانے کے لیے شینزن انتظامیہ نے حالیہ برسوں میں مئی سے اکتوبر کے دوران روزانہ آنے والے سیاحوں کی تعداد 80 ہزار تک محدود کردی ہے۔
اس عرصے میں ساحل پر جانے کے لیے پیشگی ریزرویشن بھی ضروری قرار دی گئی ہے، جس کے تحت شہریوں اور سیاحوں کو اپنی مقررہ تاریخ سے پہلے بکنگ کروانا ہوتی ہے۔
اگرچہ روزانہ 80 ہزار افراد کی حد بھی خاصی بڑی ہے، تاہم ماضی میں بعض مواقع پر ڈیمیشا بیچ پر ایک ہی وقت میں تقریباً 2 لاکھ افراد موجود رہ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں تیراکی، دھوپ سینکنے حتیٰ کہ آزادانہ چلنے پھرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔
ساحل پر شدید رش کی ایک بڑی وجہ یہاں تک آسان رسائی بھی ہے۔ ڈیمیشا تک متعدد بس سروسز جاتی ہیں جبکہ ایک میٹرو اسٹیشن بھی ساحل کے بالکل قریب واقع ہے۔
مفت داخلے اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کے باعث ڈیمیشا مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سیاحوں میں بھی مسلسل مقبول ہے۔
آن لائن پلیٹ فارمز پر رش سے متعلق شکایات کے باوجود گرمیوں میں ڈیمیشا بیچ کی مقبولیت برقرار رہتی ہے اور یہاں موجود بڑے ہجوم کی تصاویر اکثر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرتی ہیں۔
