چین کی گوشت مارکیٹیں کھل تو گئیں لیکن ویران ہیں

کرونا وائرس کی جنم بھومی سمجھے جانے والے چین کے شہر ووہان میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جانوروں کے گوشت کی منڈیاں کھلنا تو شروع ہوگئی ہیں لیکن کرونا کے خوف کا شکار گاہک ابھی بھی ان مارکیٹوں کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور ان کی زیادہ توجہ سبزی کھانے پر ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز  کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے آفت زدہ شہر ووہان میں کرونا لاک ڈاؤن ختم ہوجانے کے بعد شہر کے مختلف مقامات پر قائم کردہ جانوروں کے گوشت کی مارکیٹیں کھل تو گئی ہیں لیکن ان میں ابھی تک ویرانیوں کے ڈیرے ہیں اور خوفزدہ لوگ گوشت خریدنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ووہان میں یہ مہلک وائرس جانوروں کے گوشت کی مارکیٹ سے پھیلا تھا جہاں پر کتے، بلیاں، سانپ، بندر، چمگادڑ، مینڈک اور چھپکلیاں وغیرہ بیچی جاتی تھیں۔ تاہم اب ان مارکیٹوں میں نہ تو کوئی کاروبار چل رہا ہے اور نہ ہی وائرس کے خوف سے کوئی ان مارکیٹوں کا رخ کررہا ہے۔ ان مارکیٹوں میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے دکانداروں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہمارے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
کرونا وائرس پھیلنے سے پہلے ان مارکیٹوں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ زندہ جانوروں کو گاہکوں کے سامنے ذبح کر کے ان کی کھال اتاری جاتی تھی اور پھر تازہ گوشت کی بوٹیاں بنا کر فروخت کیا جاتا تھا۔  لیکن وائرس پھیلنے کے بعد رواں سال جنوری میں ان مارکیٹوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی چین سے جنگلی جانوروں کا گوشت بیچنے اور ان کی تجارت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب یہ اطلاعات ہیں کہ چین کے کئی بڑے صوبوں میں کتوں کا گوشت بیچنے اور کھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور کتے کو پالتو جانور کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جب اس پابندی کے حوالے سے ایک گوشت مارکیٹ کے دکاندار سے سوال کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ اس نے بھی کتے سانپ اور چمگادڑ کا گوشت بیچنا بند کر دیا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس تنگ بازار میں لوگوں کی آمد سے کیا دوبارہ کرونا وائرس پھیلنے کا امکان نہیں تو اس نے بتایا کہ ’سپر مارکیٹ میں لوگوں کا رش زیادہ ہوتا ہے، یہاں تو پھر بھی گاہک ایک دوسرے سے فاصلے پر ہیں، اگر ہم احتیاط سے کام لیں اور جراثیم سے پاک رہنے پر توجہ دیں، تو معاملہ ٹھیک رہے گا۔‘
یاد رہے کہ چین کی گوشت مارکیٹیں وہاں کے شہریوں کی زندگی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں جہاں تازہ ہر طرح کے زندہ جانور فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں۔ سستا ہونے کی وجہ سے سپر مارکیٹ کے بجائے ان مارکیٹوں سے خریداری کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہاں اشیا سستی کے علاوہ تازہ بھی ہوتی ہیں۔
ایک گوشت فروش نے پابندی کے حوالے سے بتایا کہ کرون وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں موجود ہیں۔ اسکا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور جنگلی حیات کی تجارت پر پابندی کی وجہ سے ان کا کاروبار بے حد متاثر ہوا ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہمارے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
دریں اثنا عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ووہان شہر کے حکام نے شہر کی 425 مارکیٹوں کی صفائی کے لیے 28 ملین ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ گاہکوں کو واپس لایا جا سکے۔ یاد رہے کہ چین نے دو مہینے کی محنت کے بعد کرونا وائرس کا پھیلاؤ روک لیا ہے لیکن اب یہ وائرس یورپ اور امریکا میں میں تابڑ توڑ حملے کرتا ہوا روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگوں کی جان لے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button