کرونا پھیپھڑوں اور دل کے علاوہ دماغ پربھی حملہ کرتا ہے

کرونا وائرس سے ہونے والی اموات پر تحقیق کے دوران سب سے پہلے یہ انکشاف ہوا تھا کہ یہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا کر نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے۔ پھر پتہ چلا کہ کرونا دل کے پٹھوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ کرونا کا وائرس دماغ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور متاثرہ انسان خے اعصابی نظام کو مفلوج کر دیتا یے۔
چین میں ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے سنگین کیسز میں فالج اور دیگر دماغی مسائل زیادہ عام ہو جاتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران کرونا وائرس کے 214 سنگین کیسسز کو دیکھا گیا جن کا علاج وبا کے آغاز میں چین کے شہر ووہان میں ہوا تھا اور ڈاکٹروں نے 36 فیصد سے زائد یا ہر 3 میں سے ایک مریض میں دماغی مسائل کی علامات کو دریافت کیا۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ کئی بار یہ علامات کووڈ 19 کی روایتی علامات جیسے بخار، کھانسی وغیرہ کے بغیر ہی ظاہر ہوئیں۔ ووہان کے یونین ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر بو ہو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں طبی ماہرین نے دماغی علامات کو بھی کرونا وائرس کی ممکنہ نشانی کے طور پر دریافت کیا ہے۔ یہ شبہ کے کرونا وائرس دماغ اور مرکزی اعصابی نظام میں مداخلت اور متاثر کرتا ہے، نیا نہیں۔ اس بیماری کی ایک اہم علامت کی نشاندہی سونگھنے کی حس سے محرومی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس اعصابی نظام پر اثرانداز ہوتا ہے۔
چین کی تحقیقی ٹیم نے ووہان کے 3 ہسپتالوں میں 200 زائد مریضوں کے علاج کے نتائج کا جائزہ لیا۔ ان تمام مریضوں میں مرض کی شدت بہت زیادہ تھی اور ان کا علاج 16 جنوری سے 19 فروری کے دوران ہوا تھا اور ان کی اوسط عمر 53 سال تھی۔ ان افراد کے دماغی یا مرکزی اعصابی نظام کے متاثر ہونے کی علامات پر توجہ دینے سے تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ یہ مسائل اس وقت زیادہ عام ہوتے ہیں جب بیماری کی شدت بڑھتی ہے، جبکہ کچھ کیسز میں کووڈ 19 کی روایتی علامات نظر نہیں آئیں۔ کچھ کیسز میں یہ دماغی یا اعصای مسائل جان لیوا ثابت ہوا، کم از کم ایسے 6 کیسز ایسے تھے جن میں فالج یا برین ہیمرج کا مشاہدہ ہوا۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے سنگین کیسز میں حالت خراب ہونا دماغی مسئلے جیسے فالج کا نتیجہ ہوسکتی ہے جو کہ اموات کی شرح بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہسپتال آنے والے متعدد مریضوں میں ذہنی الجھن، سرچکرانے یا سردرد کی شکایات بھی دیکھی گیں جبکہ چکھنے یا سونگھنے کی حس سے محرومی کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معمر مریض، جو پہلے ہی کسی دائمی مرض کا شکار ہوتے ہیں، ان میں دماغی مسائل کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ مگر محقین کا کہنا تھا کہ یہ نئے کورونا وائرس سے دماغ پر مرتب اثرات کے حتمی نتائج نہیں، درحقیقت اس حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کی مکمل تصدیق کی جاسکے۔
