کیا کپتان کی ATM نوٹ نکالنے کی بجائے نوٹ کھینچ رہی تھی؟

شوگر سکینڈل میں الزامات کا شکار جہانگیر ترین ماضی میں وزیراعظم عمران خان کی اے ٹی ایم کہلاتے تھے۔ تاہم جب اس اے ٹی ایم نے نوٹ نکالنے کی بجائے نوٹ کھینچنا شروع کئے تو کپتان نے اسے کباڑ خانے میں پھینکنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اے ٹی ایم کو بھی نوٹوں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کپتان کے لئے جہاز چلانا ہو یا اس کا کچن چلانا ہو، پیسے تو لگتے ہیں۔
یاد رہے کہ جہانگیر ترین نے عمران خان کی تحریک انصاف اس وقت جوائن کی جب 30 اکتوبر2011 میں مینارِ پاکستان لاہور پر جلسہ کر کے پارٹی نے اپنی مقبولیت کو ٹیسٹ کیا۔ کئی دوسرے لوگوں کی طرح ترین نے بھی پارٹی میں شمولیت تب اختیار کی جب عمران خان نے پارٹی کے دروازے ’الیکٹیبلز‘ اور لوٹوں کیلئے کھول دیئے اور ان کا ماضی کا ریکارڈ بھلا دیا۔ انھوں نے سٹیٹس کو پر بھی اپنا بیانیہ نرم کیا ۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ایف آئی اے کی رپورٹ پبلک کرنا ایک بولڈ فیصلہ ہے لیکن اب تو خود حکومت کی طرف سے یہ بیان آگیا ہے کہ ایف آئی اے شوگر سکینڈل کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی بلکہ لیک ہوئی ہے اور تفصیلی رپورٹ 25 اپریل کو سامنے آئے گی۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے یہ دعوی کیا تھا کہ انھوں نے ایف آئی اے رپورٹ دیکھی ہے اور چینی اور آٹا بحران میں جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار ملوث نہیں ہیں۔ حیرانی کی بات ہے اس وقت حکومت نے حتمی رپورٹ جاری بھی نہیں کی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا حقیقی امتحان اب سے 25اپریل کے درمیان ہے، جب حتمی رپورٹ کو فارنزک کے بعد جاری کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم خسرو بختیار کو مستعفیٰ ہونے کا کہیں گے اور جہانگیرخان ترین کے ساتھ سیاسی اور سماجی دوری اختیار کریں گے یا ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر انھیں بچا لیں گے۔ ابھی فوری طور پر تو وزیراعظم نے خسرو بختیار کی وزارت بدلی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ ماضی میں اعظم خان سواتی، بابراعوان اور علیم خان کی طرح کے کئی پارٹی رہنماؤں کو الزامات لگنے کے کچھ عرصہ بعد پارٹی میں دوبارہ اہم رول دے دیا گیا تھا۔
جہاں تک جہانگیر ترین کا تعلق یے تو وہ ماضی میں وفاداریاں تبدیل کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی میں شمولیت کے فورا بعد ہی عمران کے قریب آگئے تھے، وافر دولت کے ساتھ ایک امیر خاندان سےتعلق رکھنے والے ترین شاہ خرچ بھی تھے اور کپتان کو ہر طرح سے خوش رکھتے تھے لہذا وہ جلد ہی پارٹی میں ایک اہم کردار بن گئے اور وزیراعلیٰ پنجاب کےممکنہ امیدوار بھی۔اس سے پارٹی میں ان کے اور ایک نئے امیدوار شاہ محمود قریشی کے درمیان ایک تنازع بھی پیدا ہو گیا۔
عمران خان نے جہانگیر خان کو پہلا کام جو دیا وہ پارٹی کو بلدیاتی سطح پر منظم کرنےکا تھا کیونکہ وہ پارٹی میں 2012 اور 2013 کے درمیان الیکشن کرانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تاہم عمران کو جہانگیر ترین کے بارے میں پہلا دھچکہ اس وقت لگا جب جسٹس(ر) وجہیہ نے مبینہ دھاندلی کی اپنی رپورٹ میں ترین سمیت عمران خان کے کچھ پسندیدہ افراد کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔ لیکن آخر میں وجیہہ الدین پر ہی ایک تعصبانہ رپورٹ جاری کرنےکا الزام عائد کر دیا گیا، جو پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا۔ انھوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ بعد ازاں الیکشن ہوئے تو پارٹی مختلف گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی جن میں سب سے تگڑا گروپ جہانگیر ترین کا تھا۔
ترین کا مضبوط ہونا ایک اور کھلاڑی شاہ محمود قریشی کو ناپسند تھا جن کے ان سے پرانے اختلافات تھے جو کہ 2018 کے انتخابات کے بعد مزید بڑھ گئے تھے جب شاہ محمود قریشی نیشنل اسمبلی کی سیٹ جیت گئے لیکن صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے۔ ان کے قریبی حلقوں کا خیال تھا کہ جہانگیر ترین اور ان کے آدمی اس ہار کے پیچھے ہیں کیونکہ ترین کی عدالت کے ہاتھوں نااہلیت کےبعد شاہ محمود وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار تھے۔پارٹی کے اندر بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر پارٹی متحد ہوتی اور اس کے اندرتقسیم نہ ہوتی تو پنجاب میں الیکشن کا نتیجہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوسکتا تھا۔
تاہم ایف آئی اے شوگر سکینڈل کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بعد پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ بالآخر جہانگیرترین گروپ کو شاہ محمود قریشی اور اسد عمر گروپ کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہوگئی ہے۔ تاہم جہانگیر کے ترین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے انہیں بلاوجہ شوگر سکینڈل میں ملوث کیا اور عمران سے دور کرنے کی کوشش کی ہے وہ دراصل وزیراعظم کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ پی ٹی آئی کے جنوبی پنجاب کے ووٹ بینک کو خراب کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کپتان کا اقتدار قائم ہے۔
دوسری طرف کپتان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے نہ تو کبھی اصولوں پر سمجھوتا کیا ہے اور نہ ہی کبھی کسی ذاتی مفاد کی خاطر کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوئے ہیں۔ جہاں تک بات رہی جنوبی پنجاب کے ووٹ بینک کی تو وزیراعظم پہلے ہی کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے اقتدار کی قربانی دینا پسند کریں گے۔
