ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘ میں ساس بہو کی سازشیں کیوں غالب رہیں؟

معروف ترک ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘ جوکہ گزشتہ ادوار کی جنگوں کی ترجمانی کرتا ہے، میں بھی ’’ساس بہو‘‘ کی سازشیں غالب رہیں، ڈرامے میں جنگ کم اور ساس، بہو کی مخالفت اور منفی کرداروں کو زیادہ دکھایا گیا۔
معروف اداکار یاسر نواز اور ندا یاسر نے فوچیا میگزین سے بات کرتے ہوئے پاکستانی ڈراما انڈسٹری سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی، دوران پروگرام یاسر نواز نے بتایا کہ انہوں نے جب دانش تیمور کو اپنے کسی ڈرامے میں کاسٹ کیا تو بہت سارے لوگوں نے انہیں منع کیا اور کہا کہ وہ نیا اداکار ہے، پیسے ڈوب جائیں گے لیکن انہوں نے انہیں ہی کاسٹ کیا، کیوںکہ جو کردار انہوں نے لکھا تھا اس پر دانش تیمور ہی فٹ تھے۔
اسی طرح انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے ایک زائد العمر خاتون کو ایک نانی کے کردار کے لیے کاسٹ کیا اور جب وہ آڈیشن دینے آئیں تو ان کے دانت نہیں تھے، یاسر نواز کے مطابق جب خاتون کو کاسٹ کر لیا گیا تو انہوں نے جاکر دانت لگوا لیے اور انہیں فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ٹی وی پر آنے سے قبل دانت لگوا لیے ہیں۔
اداکار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاتون کو کہا کہ انہیں دانت نہیں بنوانے چاہئے تھے، کیوںکہ انہوں نے دانت نہ ہونے کی وجہ سے ہی کاسٹ کیا گیا تھا، یاسر نواز کے مطابق لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی خاتون کو کردار کے لیے کاسٹ کیا۔
ایک سوال کے جواب میں یاسر نواز نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہی سجل علی اور صبور علی کا پہلا آڈیشن کیا تھا اور انہوں نے دونوں بہنوں کو ایک سیریل میں کاسٹ کرنے کا کہا تھا لیکن بعد میں کچھ مسائل کی وجہ سے ان کا وہ سیریل بن نہیں سکا۔
ان کے مطابق ان دنوں وہ اپنے مقبول ڈرامے ’نادانیاں‘ میں مصروف تھے اور بعد میں بیرون ملک چلے گئے، اس لیے انہوں نے سجل علی اور صبور علی سے معذرت کی اور انہیں اجازت دی کہ وہ کسی دوسرے پروجیکٹ کے تحت ڈیبیو کریں، یاسر حسین نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں کامیڈی بلکل ختم ہوچکی اور یہ کہ مزاحیہ ڈرامے بنانا آسان کام نہیں۔
ملکی ڈراموں کی دیگر کہانیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پوری دنیا میں ایک ہی طریقے سے ڈرامے بنائے جاتے ہیں لیکن یہ ڈراما ساز پر ہوتا ہے کہ وہ کہانی کو اچھے اور تخلیقی انداز میں پیش کرے، انہوں نے بھی کچھ گھسے پٹے موضوعات پر ڈرامے بنائے لیکن ان میں انہوں نے تخلیقی کام دکھایا، جس وجہ سے لوگوں کو ان کے ڈرامے نئے لگے۔
انہوں نے بتایا کہ پوری دنیا میں ٹی وی دیکھنے والے افراد کے لیے ایک ہی طریقے سے ڈرامے بنائے جاتے ہیں اور پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ یاسر نواز نے مثال دی کہ جیسے پاکستان میں مقبول ہونے والے ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں بھی جنگوں سے زیادہ ساس، بہو اور رومانس کو دکھایا گیا ہے۔
اسی بات پر ندا یاسر نے دلیل دی کہ اگر ارطغرل غازی میں صرف جنگیں دکھائی جاتیں تو وہ اتنا مقبول نہیں ہوتا، اس میں رومانس، ساس اور بہو کو دکھانے کی وجہ سے وہ کامیاب ہوا۔

Back to top button