ڈرامہ ’صنف آہن‘ میں سندھی لڑکی کا کردار کیوں نہیں؟

ڈرامہ صنف آہن


پاک فوج کی بنائی گئی ڈرامہ سیریلز ہمیشہ توجہ کا مرکز بنتی ہیں، آئی ایس پی آر کے بنائے ہوئے تازہ ڈرامے ’’صنف آہن‘‘ کو بھی کافی پسند کیا جا رہا ہے، تاہم کچھ شائقین کا اعتراض ہے کہ اس میں سندھی لڑکی کی نمائندگی نہیں کی گئی۔ ڈرامے کی کہانی پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو فوج میں جانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ اس ڈرامے میں سندھی لڑکی نہ ہونے کا اعتراض تب سامنے آیا جب حال ہی میں شہریار منور نے اپنے فیس بک پیج پر ’’صنف آہن‘‘ میں اپنے کردار میجر اُسامہ کی جھلکیاں شیئر کیں۔ اس پر لوگوں نے ان کی تعریفیں کیں اور ساتھ میں کچھ کرداروں کے موجود نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا۔ ایک مداح نے شہریار کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ ’صنف آہن‘ ڈرامے میں کسی سندھی خاتون کا کردار کیوں نہیں ہے؟ اس ہر داکار نے مداح کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ان کا یقین ہے کہ ڈرامے کے تمام خواتین کردار پورے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی سب سے اچھی بات ہے۔تاہم بعض مداحوں نے انہیں دلیل دی کہ وہ درست فرما رہے ہیں کہ ڈرامے کی تمام خواتین پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں مگر ساتھ ہی انہیں علاقائی نمائندگی کے طور پر بھی دکھایا گیا ہے۔
ایک مداح نے شہریار منور صدیقی کو مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ ڈراما سازوں کو ’صنف آہن‘ میں سندھی عورت کا کردار لازمی دینا چاہئے، لوگوں کی جانب سے ڈرامے میں سندھی عورت کا کردار نہ ہونے کا شکوہ کرنے کے بعد شہریار منور نے اپنی طویل پوسٹ میں اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ڈراما شائقین قومیت کے بجائے علاقائیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
شہریار منور نے اپنی پوسٹ میں ’صنف آہن‘ میں بلوچ لڑکی کا کردار ادا کرنے والی رمشا خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ لوگوں کے تبصرے پڑھ کر حیران رہ گئے اور ان کی منفی ذہنیت سے مایوس بھی ہوئے۔ اداکار نے مداحوں کو مشورہ دیا کہ وہ علاقائیت، مذہب، رنگ و نسل کی سوچ سے بڑھ کر پاکستان کو ایک اکائی کے طور پر دیکھیں، علاقائیت کو فوقیت دینے والے افراد کے لیے لکھا کہ وہ عوام میں انتشار پھیلانے سے قبل چیزوں کا بخوبی جائزہ لیں اور لوگوں تک اصل حقائق و پیغام کو پہنچائیں۔ تاہم وہ صارفین کے اس اعتراض کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پائے کہ اس ڈرامے میں سندھی عورت کا کردار کیوں نہیں۔
خیال رہے کہ ’صنف آہن‘ کو ’اے آر وائی ڈیجیٹل‘ پر نشر کیا جا رہا ہے جوکہ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے فوجی بننے کی داستان پر مبنی ہے۔ صنف آہن میں پشتون اور بلوچ لڑکی کے کرداروں کو کافی سراہا جا رہا ہے جبکہ ڈرامے میں مسیحی لڑکی سمیت شہری لڑکیوں کے کرداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی 6 خواتین کے گرد گھومتی ہے جو کہ بڑی مشکلوں سے فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اپنے علاقے میں ہیرو کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ڈرامے میں سائرہ یوسف، کبریٰ خان، رمشا خان، سجل علی، یمنیٰ زیدی اور دنانیر مبین سمیت دیگر اداکار شامل ہیں، اس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہیں اور اسے ہمایوں سعید کی اہلیہ نے پروڈیوس کیا ہے۔

Back to top button