ڈونکی کا خطرناک روٹ کونسے ممالک سے گزرتا ہے؟

ڈنکی ایسے افراد کیلئے امید کی کرن ہے جوکہ محدود وسائل میں یورپ جانے کی ٹھان لیتے ہیں، پرخطر راستوں کے ذریعے امریکہ، کینیڈا، اور دیگر یورپی ممالک کا رخ کرنے والے نوجوان موت کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال سینکڑوں نوجوان اپنے خوابوں کو آنکھوں میں سجائے سمندر کی اتہا گہرائیوں میں چلے جاتے ہیں۔شاہ رخ خان کی حالیہ ریلیز ہونے والی فلم ’’ڈنکی‘‘ بھی ایسی ہی کہانی پر مبنی فلم ہے، جس میں کچھ دوست اکٹھے ڈنکی کے ذریعے یورپ کے سفر پر نکلتے ہیں، شاہ رخ خان نے فلم کو ایسا ’سفر قرار دیا ہے جس میں آپ غیر روائتی انداز میں دوستی، مزاح اور المیے جو زندگی کا حصہ ہیں اور گھر اور خاندان کی یاد کے تجربے سے گزریں گے۔’ڈنکی فلائٹس‘ یا ’ڈنکی روٹ‘ پنجابی لفظ ’ڈنکی‘ پر مبنی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے ’ایک جگہ سے دوسری جگہ چھلانگ لگانا۔‘یہ لفظ بذات خود ایک غیر قانونی طریقے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں لوگ دوسرے ممالک میں متعدد بار رکتے ہوئے غیر معروف راستے پر سفر کر کے کسی دوسرے ملک کی سرحد پار کرتے ہیں۔مثال کے طور پر جب لوگ یورپی یونین شینگن ممالک کے سیاحتی ویزے کی درخواست دیتے ہیں تو اس ویزے پر وہ 26 ممالک کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، یورپی یونین کے زون میں پہنچنے کے بعد ’کنسلٹنٹس‘ یا ’ایجنٹس‘ برطانیہ میں غیر قانونی داخلے میں مدد کرتے ہیں۔یہ ’ایجنٹس‘ لوگوں کو ان کے پسندیدہ ملک میں سمگل کرنے کے لیے عام طور پر بہت زیادہ پیسے لیتے ہیں اور بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض ایجنٹس لوگوں کو خطرناک طریقوں کی پیشکش کرتے ہوئے قانونی طریقہ اختیار کر رہے ہوں۔ایجنٹس جعلی دستاویزات سے لے کر شپنگ کنٹینرز کے ذریعے لوگوں کو سمگل کرنے سمیت مختلف خدمات کی پیشکش کر سکتے ہیں جوکہ زندگی اور موت کا کھیل ہوتا ہے۔بہت سے خطرات ہوتے ہیں جن میں قید، ملک بدری اور یہاں تک کہ موت بھی آڑھے آتی ہے۔اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فروری 2019 سے مارچ 2023 کے درمیان غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک لاکھ 49 ہزار انڈین شہریوں کو حراست میں لیا گیا جن میں زیادہ تر کا تعلق انڈین صوبے گجرات اور پنجاب کے ساتھ تھا۔قبل ازیں رواں سال ہریانہ کے ضلعے کیتھل سے تعلق رکھنے والے ایک 32 سالہ شخص مبینہ طور پر ’ڈنکی روٹ‘ سے امریکہ لے جانے کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس وقت متاثرہ شخص کے بھائی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا: ’ہم نے آڑہتی (کمیشن ایجنٹ) سے پیسے ادھار لے کر انہیں (ایجنٹ کو) پیشگی 25 لاکھ روپے (تقریبا 23645.85 پاؤنڈ) دیے۔ ملکت کو قازقستان کے راستے ترکی لے جایا گیا لیکن گوئٹے مالا پہنچنے کے بعد ان کا فون بند ہو گیا۔‘اخبار کے مطابق بھائی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی موت کے بارے میں پتہ چلا اور یہ قتل لگتا ہے۔ ایجنٹ نے ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے جو لوگ کسی بھی طرح سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ایجنٹ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دھندے میں میں بہت سے لوگ ہیں۔ فلم ’ڈنکی‘ کے ہدایت کار راجکمار ہیرانی ہیں، فلم کے اداکاروں میں تاپسی پنو، وکی کوشل اور بومن ایرانی شامل ہیں۔ ابھیجیت جوشی، راج کمار ہیرانی اور کانیکہ ڈھلوں فلم کی کہانی کے شریک مصنفین ہیں۔

Back to top button