’’گوری کے والد نے شاہ رخ خان کو گھر سے کیوں نکالا‘‘

بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کو گوری خان سے شادی کرنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنا پڑے، معمولی ٹی وی اداکار کی حیثیت سے جب شاہ رخ، گوری کا رشتہ مانگنے ان کے گھر گئے تو گوری کے والد نے انہیں سخت الفاظ میں ڈانتے ہوئے گھر سے باہر نکال دیا، شاہ رخ خان اور گوری نے دھمکی دے دی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے شادی تو وہ ایک دوسرے سے ہی کریں گے۔ اس عرصے میں انہوں نے خود کو کورٹ میرج کے لیے رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا۔ گوری کے والدین نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور پھر 25 اکتوبر 1991 کو واقعی دونوں کی شادی ہو گئی۔گوری اور شاہ رخ کے پیار کی کہانی قریبی دوستوں کے علم میں تھی اور پھر یہ بات دھیرے دھیرے گوری کے گھر والوں تک بھی پہنچ گئی۔ دونوں کم عمری سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور سماج کی ہر دیوار پار کرنے کی آگ دلوں میں لگی تھی مگر شاہ رخ خان کے ساتھ ایک تو یہ مسئلہ تھا کہ وہ ٹی وی فنکار تھے اور دوسرا مسلمان۔اب شاہ رخ خان کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ انہیں اس عرصے میں فلم ’دیوانہ‘ میں بھی شامل کر لیا گیا۔ ہدایت کار راج کنور کی ’دیوانہ‘ میں اس وقت کے سپر سٹار رشی کپور اور دیویا بھارتی شامل تھے۔ فلم کے پوسٹرز جب مختلف مقامات پر لگے تو ’راجو بن گیا جینٹلمین‘ کے فلم ساز جی پی سپی تو خاصے غصے میں آگئے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ خان کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں اور وہ اس فلم ’دیوانہ‘ میں ایک معمولی سا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شاہ رخ خان اداکاری کرنے کے ساتھ ساتھ محبت کو پانے کی ایک جنگ گوری کے گھر والوں سے لڑ رہے تھے۔ گوری کی والدہ نے بیٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کی ناکام کوشش کی لیکن گوری بھی ضد پر اڑی رہیں۔شاہ رخ خان اور گوری نے دھمکی دے دی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے شادی تو وہ ایک دوسرے سے ہی کریں گے۔ اس عرصے میں انہوں نے خود کو کورٹ میرج کے لیے رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا۔ گوری کے والدین نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور پھر 25 اکتوبر 1991 کو واقعی دونوں کی شادی ہو گئی۔اس وقت تک شاہ رخ خان کی کوئی فلم سینیما گھروں کی زینت نہیں بنی تھی۔ شادی کے بعد ایک طویل عرصے تک وہ عزیز مرزا کے فلیٹ میں گوری کے ساتھ رہے جب کہ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اپنی شادی پر انہوں نے ’راجو بن گیا جینٹلمین‘ میں استعمال ہونے والے کوٹ پتلون کا ہی استعمال کیا۔ گوری کے والدین نے بھی بحالت مجبوری اس شادی کو قبول کیا تھا، حالانکہ وہ کسی صورت شاہ رخ خان کو اپنا داماد ماننے کو تیار نہیں تھے۔شاہ رخ خان کی ’دیوانہ‘ اور ’راجو بن گیا جینٹلمین‘ ساتھ ساتھ بن رہی تھیں۔ جو فلم ’دیوانہ‘ شاہ رخ خان نے بعد میں سائن کی تھی وہ پہلے نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔ 25 جون 1992 کو جب ’دیوانہ‘ کی نمائش ہوئی تو شاہ رخ خان نے گوری کے والدین اور ماما سے بھی خصوصی طور پر یہ فلم دیکھنے کی گزارش کی۔بمبئی کے سینیما گھر میں جب گوری کا پورا خاندان پہنچا تو انٹرول تک انہیں اپنے داماد کی ایک جھلک بھی نظر نہ آئی لیکن پھر انٹرول کے بعد شاہ رخ خان کی انٹری ہوتی ہے۔ موٹرسائیکل پر یار دوستوں کے ساتھ جب وہ مشہور گیت ’کوئی نہ کوئی چاہئے پیار کرنے والا‘ گاتے ہوئے نمودار ہوئے تو پورے سینیما گھر میں جیسے بجلی کی لہر دوڑ گئی۔ فلم بینوں کا ایسا جوش و خروش تھا کہ گوری کے گھر والے دم بخود رہ گئے۔فلم ’دیوانہ‘ میں سائیڈ ہیرو ہونے کے باوجود شاہ رخ خان کی اداکاری کا ہر جانب چرچا تھا۔ وہ سپر سٹار بن رہے تھے اور یہی سب کچھ دیکھ کر گوری کے والدین نے دل سے شاہ رخ خان کو اپنا داماد تسلیم کر ہی لیا۔ فلم ’دیوانہ‘ کے بعد شاہ رخ خان کی ’راجو بن گیا جینٹلمین‘ بھی کھڑکی توڑ کامیابی سے دوچار ہوئی۔ پھر تو شاہ رخ خان کے دور کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔

Back to top button