کابل ایئرپورٹ پر تین دھماکے ،73افراد ہلاک

کابل ائیرپورٹ کے باہر یکے بعد دیگرے ہونے والے تین دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی جبکہ 140 زخمی ہوئے، 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔ دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم داعش خراسان نے قبول کرلی۔پہلا دھماکہ ایئر پورٹ کے باہر بیرن ہوٹل کے سامنے ہوا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، سکیورٹی اہلکار حالات سنبھالنے کے لئے کوشاں تھے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے جس میں افغانستان سے باہر جانے کی کوشش کرنے والے نشانہ بن گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پہلا دھماکہ ائیرپورٹ کے باہر بیرن ہوٹل کے سامنے ہوا، کچھ دیر بعد ائیرپورٹ کے گیٹ پر دوسرا دھماکہ ہوا جہاں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ جائے وقوعہ پر دل دہلا دینے والے مناظر تھے، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو وہاں سے نکالا۔
خیال رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے دور ہٹ جائیں کیونکہ وہاں داعش کے دہشتگرد حملے کا خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن، لندن اور کینبرا نے ایک قسم کا انتباہ جاری کیا تھا، اس میں افغان شہریوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس وقت دھماکے کی جگہ پر لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال بہت بگڑتی جا رہی ہے، ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔
افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن قریب ہے، وقت کم ہے لیکن افغانستان سے نکلنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ الرٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے چلے جائیں اور سکیورٹی خطرات کے باعث وہاں جانے سے گریز کریں۔
برطانوی وزارت خارجہ نے بھی کہا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا شدید خطرہ ہے، برطانوی شہری دیگر ذرائع سے انخلا ممکن بنائیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں سیکیورٹی امریکی فورسز کی ذمہ داری تھی۔ طالبان اپنے لوگوں کی سیکیورٹی پر توجہ دے رہے ہیں۔ شرپسندوں سے پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر پہلا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی اہلکار اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جب کہ دوسرا دھماکا ایبے گیٹ کے قریب ہی بارون ہوٹل کے باہر ہوا۔
اس سے قبل امریکا اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک نے دہشت گردی کے پیش نظراپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ سے دوررہنے کی سخت ہدایت جاری کی تھیں۔
کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم ازکم 12 فوجی ہلاک ہوئے، امریکی فوجی حکام نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل امریکا سمیت تمام غیر ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو ملک سے لے جانے سے گریز کریں جب کہ افغان عوام کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔
