جسٹس عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ پر اعتراض کیوں کیا؟

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے ایک سنیئر جج نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو چارج شیٹ کرتے ہوئے ان کے تقرر کو غیر آئینی قرار دےدیا ہے اور کہا ہے کہ آئین پاکستان میں انتظامیہ کو عدلیہ سے مکمل لاتعلق رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ رجسٹرار جواد پال پہلے وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں تعینات تھے اور انہیں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا قریبی ترین شخص کو مار کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف ازخود نوٹس لینے کے پیرامیٹرز طے کرنے کی غرض سے تشکیل دیئے گئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی سماعت سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 25 اگست کو چیف جسٹس گلزار احمد کے نام ایک خط لکھا تھا۔ اپنے خط میں جہاں جسٹس عیسی نے آزادی صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے سدباب کے حوالے سے اپنے دو رکنی بینچ کے حکمنامے کو معطل کرنے کو غیر آئینی قرار دیا وہیں انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے تقرر کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔ جسٹس عیسی نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار ایک سرکاری ملازم ہے لیکن وہ خود کو منصف اور آئینی ماہر سمجھتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے صحافیوں کی پٹیشن کا رجسٹرار نے فوری نوٹس لیا اور 6 صفحات پر مبنی ایک نوٹ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو بھجوا دیا۔ معزز جج نے لکھا کہ بطور ایک سرکاری ملازم رجسٹرار سپریم کورٹ نے انتظامیہ سے تعق رکھنے والے اہنے کولیگز کو بچانے کے لئے نوٹ چیف جسٹس کو بھجوانے میں غیر معمولی پھرتی دکھائی حالانکہ آئین کا آرٹیکل 175 کہتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ میں کوئی قربت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ایگزیکٹو یعنی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کو بطور رجسٹرار سپریم کورٹ لگانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس عیسی نے اپنے خط میں کہا کہ سرکاری ملازم کو رجسٹرار مقرر کرنا موجودہ افسران کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ڈیپوٹیشن پر گئے اپنے ملازمین کو واپس بلوالیا ہے لیکن بدستور ایک سرکاری ملازم بطور رجسٹرار سپریم کورٹ کام کر رہا ہے۔ جسٹس عیسیٰ کے بقول رجسٹرار سپریم کورٹ اس سے قبل وزیراعظم آفس میں کام کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ ایگزیکٹو سے آیا ہوا ایک سرکاری ملازم جب سپریم کورٹ کا رجسٹرار بنتا ہے تو حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لئے بعض کیسز جلد از جلد لگوا دیتا ہے اور جن کیسز سے حکومت کو نقصان کا خدشہ ہو، رجسٹرار انہیں بلاوجہ لٹکا کر حکومت کو فائدہ پہنچاتے یے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جواد پال کو یکم اگست 2021 کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار تعینات کیا تھا۔ وہ اس سے قبل وزیر اعظم کے دفتر میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری تعینات تھے اور سول بیوروکریسی اور دیگر امور دیکھتے تھے۔ وزیر اعظم دفتر کے سینئر افسران کی فہرست کے مطابق جواد پال، وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے اور انہیں ایڈیشنل سیکریٹری ون تعینات کیا گیا تھا۔اس سے قبل جواد پال نے بطور چیف کمشنر اسلام آباد خدمات سر انجام دیں اور بعد ازاں اسٹیبلشمینٹ ڈویژن میں تعینات ہوئے۔ جواد کی تعیناتی کے حوالے سے اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس کے گریڈ 21 کے افسر جواد پال کو وزیر اعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر تعینات کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت انہیں اس عہدے پر تین سال کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم اگست 2021 کو ہوگا۔ رجسٹرار کے تقرر پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی تاہم حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ قانون کے مطابق مجاز اتھارٹی ایک افسر کو اس کے اگلے گریڈ پر تعینات کر سکتی ہے۔ قانونی حلقوں کو اس تعیناتی پر یہ اعتراض ہے کہ آئین کی رو سے رجسٹرار سپریم کورٹ کا تعلق اور بیک گراونڈ عدلیہ سے ہونا چاہیے لیکن حکومت نے ایک بیوروکریٹ رجسٹرار ریٹائرڈ فلائٹ لیفٹیننٹ خواجہ داؤد احمد کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد ایک اور بیوروکریٹ جواد پال کو عدالت عظمیٰ کا رجسٹرار مقرر کردیا ہے جو کہ غیر آئینی عمل ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے رجسٹرار جواد پال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعتراضات پر جواب دینے کی بجائے کہا ہے کہ بطور سرکاری ملازم وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرسکتے، انکا کہنا تھا کہ ویسے بھی یہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت ہی اس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

Back to top button