کابل میں طالبان آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی تیز


افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں ایک مرتبہ پھر متحرک ہوتی نظر آتی ہیں، جس کا بڑا ثبوت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد حملوں میں تیزی کا عمل ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال اگست، ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والے انٹیلیجنس آپریشنز اور شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں فوج کے 31 سپاہی بشمول ایک افسر اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور دہشت گردی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
پچھلے تین ماہ میں ہونے والے23 دہشت گرد حملوں اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں پولیس کو بھی کافی جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان حملوں میں اب تک 17 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ پاکستان اور خطے کی امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر) ایاز خان کہتے ہیں کہ پاکستان میں بگڑتے حالات کے پیچھے کئی عوامل ہیں جن میں سب سے نمایاں افغانستان میں پیش آنے والےحالات و واقعات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا خدشہ پاکستانی سویلین قیادت اپنے بیانات میں واضح کر چکی ہے۔ ان کا اشارہ وزیراعظم عمران خان کا 24 ستمبر کوایک غیرملکی جریدے کو دیے گئےحالیہ انٹرویو کی طرف تھا، جس میں انہوں نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خطرات کو سخت تشویش کا باعث قرار دیا تھا۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق پچھلے تین ماہ میں پیش آنے والے دہشت گردی کے کل 67 واقعات کے نتیجے میں 15 انٹیلیجنس آپریشنز اور کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے 10 آپریشنز کے نتیجے میں کل 106 شدت پسند ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ حالیہ واقعات سے صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔ اگست سے اکتوبر کے آخر تک کل 67 کارروائیوں میں سے 42 حملے خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جن میں 11 پولیس واکے، چھ ایف سی جوان، ایک لیویز ایلکار اور 31 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسرے نمبر پر متاثرہ صوبہ بلوچستان رہا جہاں پچھلے تین ماہ میں 18 حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ نتیجتاً 55 شدت پسند مارے گئے، جب کہ چھ پولیس والے، 11 فرنٹیر کور وسکے اور چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
اعدادوشمار کے مطابق پچھلے تین ماہ میں پیش آنے والے تین بڑے واقعات میں سے ایک بلوچستان کے ضلع مستونگ سے رپورٹ ہوا تھا جس میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں داعش کے 11 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔ دوسری بڑی کارروائی 28 ستمبر کو شمالی وزیرستان میں کی گئی تھی جس میں بشمول چار کمانڈر دس شدت پسند ہلاک کیے گئے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف تیسرا بڑا واقعہ 15 ستمبر کو رپورٹ ہوا تھا جب شمالی وزیرستان میں انٹیلیجنس آپریشن کے نتیجے میں سات فوجی اہلکار اور پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔
شدت پسند رجحانات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صورت حال کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اسی وجہ سے عسکریت پسندی، سرحد پار دہشت گردی، پناہ گزینوں کی آمد اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ وہ سکیورٹی اور تشدد کے حوالے سے افغان تنازع کے ممکنہ نتائج سے نمٹ سکتا ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں ایک غیرمستحکم اور تشدد کا شکار افغانستان یقینی طور پر پاکستان میں پرتشدد بنیاد پرست اور انتہا پسندانہ بیانیے اور تحریکوں کی حوصلہ افزائی کرے گا، جن سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کی جانب سے جون 2021 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں اس وقت 6000 تک تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو موجود ہیں۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغان جیلوں سے ہزاروں کی تعداد میں ٹی ٹی پی کے افراد جن میں باجوڑ کے مولوی فقیر محمد بھی شامل ہیں، رہا کیے جا چکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان میں بیشتر واپس طالبان کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ پاکستانی حکام کو شک ہے کہ یہی لوگ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی وجہ ہوسکتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو ملنے والی حالیہ افرادی قوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے طالبان کو عام معافی کے بیان کو طالبان نے صاف ٹھکرا دیا تھا اور اسکا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ معافی ان لوگوں کو دی جاتی ہے جنہوں نے کوئی جرم کیا ہو اس لیے اگر حکومت پاکستان ہم سے معافی مانگے تو ہم اسے معاف کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ 2001 میں افغانستان پر امریکی قبضے میں اور 2021 میں وہان سے انخلا کے دوران پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے عناصر کا سدباب کرے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف کمزور پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کا خمیازہ پاکستان کو آج بڑھتے ہوئے جانی ومالی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Back to top button