کامیڈین ماجد جہانگیر کی دکھ بھری زندگی کی کہانی

یوں تو معروف مزاح نگار انور مقصود کے قلم سے نکلے مزاحیہ خاکوں پر مشتمل پی ٹی وی کے تاریخ ساز کامیڈی پروگرام’ففٹی ففٹی‘کا ہر فنکار لاجواب تھا، مگر جب جب اسمٰعیل تارا اور ماجد جہانگیر کی جوڑی سکرین پر آتی، تو لوگ بے اختیار قہقہے لگانے پر مجبور ہو جاتے۔  تاہم اسے محض بد بختی ہی کہا جاسکتا ہے کہ دسمبر 2022ء میں اسمٰعیل تارا دنیا سے رخصت ہوئے اور جنوری 2023ء میں ماجد جہانگیر نے رختِ سفر باندھ لیا۔ البتہ ماجد جہانگیر کی موت کا دکھ یوں زیادہ ہے کہ یہ فنکار آخری دنوں میں بیماری، تکلیف، مصائب اور مالی مسائل کا شکار رہا۔ انتقال سے چند ہی روز قبل ان کا ایک بیان سوشل میڈیا کی زینت بنا، جس میں انہوں نے دو معروف ٹی وی اینکرز پر الزام عائد کیا تھا کہ ان دونوں نے ماجد جہانگیر کے نام پر دس لاکھ روپے کی جو امدادی رقم اکٹھی کی تھی، وہ کبھی ان تک پہنچ ہی نہیں سکی۔ اس الزام میں کتنی حقیقت ہے، اس سے قطع نظر کیا یہ ایک المیہ نہیں کہ ایک ایسا آرٹسٹ جو پورے پاکستان میں پہچانا جاتا تھا، اس نہج پرپہنچ گیا کہ اس کی مالی معاونت کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی نوبت آگئی۔ البتہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ ایک طویل فہرست ہے۔ چند برس قبل معروف کامیڈین فرید خان کا کینسر سے لڑتے ہوئے انتقال ہوا۔ انہیں بھی حکومت اور فروغ فن کے لیے کام کرنے والے اداروں سے شدید شکایات تھیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے ماجد جہانگیر کو درپیش مالی مسائل کی بھی نشاندہی کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس فنکار کی داد رسی کی جائے۔ فرید خان تو چلے گئے مگر ماجد جہانگیر کے حصے میں ابھی کچھ زندگی باقی تھی۔ البتہ اب اس میں قہقہے نہیں رہے تھے۔ چند برس قبل ان پر فالج کا حملہ ہوا، جس نے انہیں گھر تک محدود کردیا۔ زبان میں بھی لکنت آگئی تھی، جس کی وجہ سے جو تھوڑا بہت کام وہ کر رہے تھے، وہ جاتا رہا۔ مالی مسائل اور مہنگے علاج نے انہیں تلخ بنا دیا۔ ان کی امداد کی اپیلوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ اس دوران انہوں نے اپنی اہلیہ کی مدد سے ففتی ففٹی دال چاول کا ٹھیلا لگایا تاکہ کچن کا خرچہ نکل سکے۔ دال چاول ان کی اہلیہ بناتی تھیں اور فروخت ماجد جہانگیر کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر اچانک 2020 میں انکی اہلیہ کا انتقال ہو گیا جو ان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، اس واقعے کے بعد وہ مکمل تنہائی کا شکار ہوگئے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ماجد جہانگیر کراچی چھوڑ کر لاہور میں قیام پذیر ہوچکے تھے۔ انتقال سے چند ہفتے قبل وہ گھر میں بستر سے گرگئے، جس سے انکی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہو گئی۔ وہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہے مگر جانبر نہ ہو سکے۔

ماجد جہانگیر کو پی ٹی آئی دورِ حکومت میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا۔ ان کا پورا نام عبدالماجد جہانگیر تھا۔ انہوں نے شہرِ کراچی میں آنکھ کھولی۔ بچپن میں وہ گانے کی شوقین تھے۔ نور جہاں اور شمشاد بیگم کا انداز کاپی کیا کرتے۔ یہیں سے ایکٹنگ کا شوق پروان چڑھا۔ زندگی نے موقع دیا تو پی ٹی وی جا پہنچے، جہاں معین اختر کے شو میں پہلے پہل پرفارم کیا۔ ’ففٹی ففٹی‘ کا حصہ بننے کے بعد شہرت کو پَر لگے گئے۔ یہ شو 6 برس تک چلا۔ انکے کریڈٹ پر فقط ’ففٹی ففٹی‘ ہی نہیں بلکہ انہوں نے پی ٹی وی کے دیگر ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ماجد 4 فلموں میں بھی نظر آئے، مگر ان پر کامیڈین کی چھاپ لگ چکی تھی، اس لیے انکو محدود کردار ہی ملے۔

1990 میں وہ امریکا چلے گئے اور اگلے 23 برس وہاں رہے۔ ماجد جہانگیر جب 2012 میں وطن واپس لوٹے تو دنیا بدل چکی تھی۔ انہوں نے واپسی کے بعد شوبز انڈسٹری میں کچھ کام کیا مگر وہ بدلے ہوئے اور تیز رفتار سسٹم سے ہم آہنگ نہیں ہوسکے۔ انہیں مالی مسائل نے تو پریشان کر ہی رکھا تھا لیکن پھر بیماری نے بھی آن لیا۔ یوں مسکراہٹیں بکھیرنے والا مایوس ہوگیا۔ 11 جنوری 2023ء کی صبح، جب ملک کے بیشتر علاقے سخت سردی کی لپیٹ میں تھے، یہ خبر نشر ہوئی کہ معروف اداکار ماجد جہانگیر طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے۔ مگر کیا ماجد جہانگیر واقعی معروف تھے؟ کیا آج کی نسل انہیں جانتی تھی؟ سچ تو یہ ہے کہ جس نسل نے ’ففٹی ففٹی‘ دیکھا تھا، اس کی اکثریت یا تو بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے یا پھر دنیا سے رخصت ہوئی۔ پی ٹی وی جس نسل کی سنہری یادوں کا حصہ تھا، وہ غیر متعلقہ ہوچکی ہے۔ اب ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام کا زمانہ ہے۔ ’لہور دا پاوا‘ اور ’میرا دل یہ پکارا آجا‘ کا دور۔ اب یہاں ماجد جہانگیر کسے یاد ہوگا۔ ایک ایسا فنکار، جو جاوید شیخ اور بشریٰ انصاری کی طرح مستقل ٹی وی اسکرین پر نہیں رہا، بیرون ملک چلا گیا اور جب لوٹا تو دنیا بدل چکی تھی۔ اب اس کے پاس صرف بیماری، شکایات اور امداد کی اپیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ تلخ اور شاکی تھا اور اسی تلخی کے ساتھ دنیا سےرخصت ہوا۔

Back to top button