کراچی: سندھ و وفاقی حکومت کا نالوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کا فیصلہ

سندھ اور وفاقی حکومت کے نمائندوں پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹی نے کراچی میں نالوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی میں نالوں پر قائم تجاوزات سے متعلق کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، وزیر بلدیات ناصر شاہ جب کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اسد عمر، علی زیدی، اور امین الحق اور شریک ہوئے۔
اجلاس میں اسلام آباد سے ویڈیو لنک پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور سیکرٹری پلاننگ نے بھی شرکت کی۔
وفاقی اور سندھ حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی نے اپنے پہلے باقاعدہ اجلاس میں کراچی کے بڑے نالوں سے ‘غیرپختہ تجاوزات’ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اجلاس کے بعدگفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا کہ اجلاس میں کمیٹی نے 2 بڑے مسائل کو اٹھایا، پہلا یہ کہ کمشنر کراچی اور این ڈی ایم اے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نالوں سے تمام غیرپختہ تجاوزات ہٹانے اور انہیں صاف کرنے کے لیے ایک مشترکہ آپریشن شروع کریں گے’۔اسد عمر نے واضح کیا کہ غیرپختہ کی اصطلاح اشارہ دیتی ہے کہ ایسی تجاوازات انسانی بستیاں نہیں ہیں۔ساتھ ہی دوسرے نکتے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘دوسرے معاملے میں ہم نے کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو اٹھایا اور اس سلسلے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کے ترقی و منصوبہ بندی بورڈ کے چیئرمین اور وفاق سے ترقی و منصوبہ بندی کے متھر نواز رانا رابطہ کریں گے اور جلد ہی چیزوں کو حل کریں گے’۔جب ان سے کمیٹی کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا کہ کب تک یہ متوازی باڈی منتخب سٹی کونسل اور بلدیاتی حکومتی نظام کے ساتھ کراچی کے معاملات کو دیکھنے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی تو اس پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کمیٹی صرف وفاق اور سندھ کے درمیان پیدا ہونے والی رکاٹوں کو دور کرنے کے لیے تھی تاکہ کراچی کی ترقی کے کام کی رفتار متاثر نہیں ہو۔
جہاں اسد عمر کی جانب سے یہ کہا گیا کہ یہ کراچی کے منصوبوں پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان رابطے کے لیے ایک کمیٹی تھی وہی سندھ کے وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی نے انڈس ہائی وے کے جامشورو سیہون سیکشن پر سست رفتاری سے کام اور کے بی فیڈر کی لائننگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس میں جامشورو سیہون سیکشن پر کام کو تیز کرنے اور کے بی فیڈر لائننگ ورک کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا’۔کراچی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں نالوں کی صفائی کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ تجاوزات ہٹانے کا کام پیر (کل) سے شروع ہوجائے گا۔وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ نے اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں نالوں پر قائم تجاوزات کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نالوں پر ایسی تجاوزات جہاں پر رہائش نہیں ہے ان کو پیر سے ہٹایا جائے گا جبکہ جہاں لوگ رہائش پذیر ہیں ان کی متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ 19 اگست کو پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی کی ترقی کے لیے 6 شعبوں میں وفاقی و سندھ حکومت کے درمیان تعاون کے لیے ایک رابطہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے متنازع عہدے کے لیے سینئر پارٹی رہنما، معروف شہری منصوبہ ساز اور سینئر ماہر معاشیات کے ناموں پر غور کر رہی ہے جو رواں ماہ کے آخر میں 4 سالہ مدت پوری ہونے پر میئر کراچی وسیم اختر کی جگہ لیں گے۔نئے بلدیاتی انتخابات ہونے تک ایڈمنسٹریٹر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے امور چلائیں گے۔
پارٹی اور سندھ حکومت کے ذرائع نے تصدیق کی کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 3 ناموں کو شارٹ لسٹ کیا ہے جس میں ایک تجربہ کار سیاست دان تاج حیدر ہیں جو پی پی پی کی کور کمیٹی کے رکن ہیں، اس کے علاوہ معروف شہری منصوبہ ساز پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد بھی اس فہرست میں ہیں جو این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ آرکیٹیکچر اور پلاننگ کے چیئرمین ہیں جبکہ آخری نام سینئر ماہر معاشیات اسد سعید کا ہے۔جب پارٹی ذرائع سے عہدے کا انعام کسے ملے گا کہ بارے میں پوچھا گیا تو کہا گیا کہ ‘یہ فیصلہ مکمل طور پر چیئرمین پیپلزپارٹی پر ہے’۔انہوں نے بتایا کہ وہ سنجیدگی سے معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور ہر ایک کی صلاحیت اور خوبیوں پر غور کر رہے ہیں، میں صرف یہ تصدیق کرسکتا ہوں کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی ان میں سے ایک ہوگا، یہ تینوں نام قابل احترام ہیں اور یہ سچے کراچی والے ہیں لہٰذا جس کا بھی انتخاب کیا جائے گا وہ اپنا بہترین دے گا’۔اس سے قبل جمعہ کو بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت ایک اجلاس میں انہوں نے فیصلہ لیا تھا کہ اگلا ایڈمنسٹریٹر کا کراچی کا ہی ہونا چاہیے۔
