کراچی: طوفانی بارشیں، سیلابی صورتحال، معمولات زندگی تباہ

شہر قائد میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے روز تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں نے نظام زندگی معطل کردیا اور مختلف حادثات کے نتیجے میں 3 نوجوان جاں بحق ہو گئے۔
کراچی میں شادمان، لانڈھی، کورنگی، ملیر، ڈیفنس، عائشہ منزل، ناظم آباد، گلشن اقبال، لیاری سمیت متعدد علاقوں کی سڑکیں دریا کا منظر پیش کررہی ہیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ کردی.
شہر کے کئی علاقوں میں نالے اور گٹر ابل پڑے اور نالوں کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے علاقہ مکینوں کا قیمتی سامان خراب ہوگیا جبکہ گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔
طوفانی بارشوں کے باعث شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے.کراچی میں مختلف حادثات میں 3 نوجوان جاں بحق ہو گئے.موسلا دھار بارش کے باعث کیبن بھی پانی میں ڈوب گیا . محکمہ موسمیات نے شہر میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا.نکاسی آب کے مسائل کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے.بارشوں کے چھٹے اسپیل نے نظام زندگی معطل کردیا .اگست کے مہینے میں ایک مقام پر مہینے میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے.
موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں حیدرآباد کا اسٹیشن بھی پانی میں ڈوب گیا ہے. شہر میں بارشوں کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کررہی ہیں. مختلف علاقوں میں طغیانی کے بعد شہر قائد کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں.گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں.
ملیر ندی میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر کورنگی کازوے روڈ کو ایک بار پھرٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہرمیں ہونے والے موسلادھار بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس کے پیش نظر کورنگی کازوے کو ایک بار پھر ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ہے ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک کو گودام چورنگی سےجام صادق پُل کی جانب موڑ دیا گیا جبکہ بلوچ کالونی سے جانے والوں کو قیوم آباد جام صادق پل پر بھیجا جارہا ہے۔
بارش کے بعد بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ کے الیکٹرک کے 1800 سو میں سے 700 سے زائد فیڈر متاثر ہیں۔ گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، صدر، اولڈ سٹی ایریا، نارتھ کراچی، سُرجانی ٹاون، ناظم آباد، کورنگی، لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، محمود آباد، قیوم آباد سمیت دیگر علاقے متاثر ہیں۔ سرجانی ٹاؤن اور نیو کراچی کے مختلف علاقوں میں 4 دن بعد بھی بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی۔ جس سے علاقہ مکین سخت اذیت سے دوچار ہیں۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق متعدد مقامات پر حفاظتی انتظامات کے باعث بجلی بند کی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی کا کام جاری ہے۔
موسلادھار بارش کے باعث منگل کی صبح سے ہی کراچی کےتمام اہم تجارتی مراکز سمیت 80فیصد مارکیٹیں بند رہیں اور 90فیصد مارکیٹیں پانی کے نکاس کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سےمتاثر ہوئی ہیں۔ بارش کے باعث شہر کی تمام مرکزی شاہراہیں ڈوبنے سے تاجر اور خریدار مارکیٹوں میں پہنچنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس ضمن میں آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے بتایاکہ موسلادھار بارش سے شہر کے تاجروں کو 4ارب روپےسے زائد کا کاروباری نقصان پہنچا ہے۔
شدید بارشوں سے کراچی سے حیدرآباد کے درمیان مختلف مقامات پر ریلوے ٹریک بہہ گیا ہے۔ جس کے باعث اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریکس بلاک ہوگئے ہیں اور ٹرین آپریشن معطل ہوگیا ہے۔ عوامی ایکسپریس کو کراچی، فرید ایکسپریس کو بولہاری جب کہ کراچی آنے والی رحمان بابا ایکسپریس کو بن قاسم کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔ ٹریک کی بحالی کا کام شروع نہ ہوسکا،مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کی فراہمی جاری ہے۔ کے الیکٹرک نے موقف اپنایا ہے کہ جن علاقوں میں پانی جمع ہے وہاں بجلی بحال کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ شہری بارش کی صورت میں احتیاط کریں، ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہیں، بارش اور کھڑے پانی میں برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا سبب بن سکتا ہے اس کے علاوہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔بارش کے سبب ملیر تھڈو ڈیم میں بھی شگاف پڑگیا
دوسری طرف کراچی میں اگست کے مہینے میں ایک مقام پر مہینے میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔کراچی میں اس ماہ 25 اگست تک 345 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جو اب تک شہر میں اگست کے مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔اس سے پہلے اگست کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش اگست 1984 میں ہوئی تھی جب فیصل بیس پر 298.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔اس کے علاوہ اگست 2007 میں مسرور بیس پر 272 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اگست 1979 میں ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
یہ کراچی میں اس سال اگست کے مہینے میں ہونے والا بارش کا تیسرا اسپیل ہے جہاں اس سے قبل بھی دو مرتبہ شہر میں موسلا دھار بارش سے کئی علاقے زیر آب آ گئے تھے۔گزشتہ روز 24 اگست کو بھی تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش میں مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس سے قبل کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے پانچویں اسپیل کا آغاز 21 اگست کو ہوا تھا جس کے دوران مختلف حادثات کے نتیجے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
پانچویں اسپیل کی بارشوں کے باعث کراچی کے علاقے خصوصاً نیو کراچی سمیت متعدد نشیبی علاقوں میں موجود بارش کا پانی نہیں نکلا جا سکا تھا کہ چھٹے اسپیل کی طوفانی بارش کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 21 اگست کے روز سب سے زیادہ 185.7 ملی میٹر بارش کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ان علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ یوسف گوٹھ ہے جہاں حکومت، پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیموں کی امدادی کارروائیاں کیں تاہم ان علاقوں سے اب تک پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جاسکا۔اس سے قبل رواں ماہ 6 سے 9 تاریخ تک شہر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی جبکہ گزشتہ ماہ کے اوائل سے آخر تک شہر قائد نے 3 مون سون کے اسپیل دیکھے تھے، جس میں شہریوں کو انتظامی عدم توجہی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔رواں ماہ کے شروع میں ہونے والی بارشوں میں شہر کے بیشتر علاقے زیر آب آگئے تھے جبکہ شہر کے کچھ نالوں کی صفائی ہونے کے باعث صورتحال گزشتہ ماہ سے کچھ حد تک بہتر نظر آئی تھی۔
کراچی میں طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصان کی تصویریں جھلکیاں ملاحظہ کریں:
5f452f15b3a20

5f452b3f7f39a

104986 788721427 1

5f452f1502b9d

5f452f152c36f

5f452f1502b9d 1

5f452f14ba32a

5f452f151ade1

5f452b3e9c72e

5f45260b12a2d

5f4524c630a72

5f45253d4f392

5f45283841a42

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button