کراچی میں بارش سے موبائل فون سروس بری طرح متاثر

کراچی میں شدید بارش اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر میں موبائل فون سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
موبائل فون انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ متعدد علاقوں میں 24 گھنٹے سے زائد بجلی بند ہونے کی وجہ سے موبائل ٹاورز پر موجود جنریٹر میں ایندھن ختم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بارش سے بعض ٹاورز اور سوئچ روم کو نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے زیر زمین فائنل آپٹک بھی خراب ہوئی ہے جس سے بھی موبائل سروسز متاثر ہورہی ہیں۔موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی وجہ سے رابطے میں شدید مشکلات پیدا ہورہی ہے جبکہ مختلف کاروباری شعبے جہاں انٹرنیٹ سروس لازمی ہے وہاں کاروباری امور ٹھپ ہوچکے ہیں۔بعض علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس جزوی طور پر بحال ہیں لیکن اسپیڈ میں انتہائی سست ہے۔
اس ضمن میں سیلولر کمپنی جاز کے ترجمان نے بتایا کہ کراچی میں سیلابی صورتحال کے باعث متعدد مقامات پر نیٹ ورک انفراسٹرکچر زیرِ آب آچکا ہے اور بجلی کی طویل بندش کے باعث سروسز کی فراہمی میں عارضی خلل ہے۔انہوں نے صارفین کو ہونے والی تکلیف پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سروسز کی مکمل بحالی کے لیے ٹیکنیکل ٹیمز ایمرجنسی بنیاد پر کام کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز موسلا دھار بارش سے مرکزی شاہراہیں تلاب کا منظر پیش کرنے لگی تھیں اور شہر کے متوسط اور نیم متوسط نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا تھا۔بارش کی تباہ کاری کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی سمیت صوبہ سندھ کے 8اضلاع کو افت زدہ قرار دیا تھا۔کراچی میں طوفانی بارش کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ اگست کے مہینے میں اس سے قبل اگست میں سب سے زیادہ بارش 90سال قبل 298 ملی میٹر فیصل بیس پر ہوئی تھی لیکن اس سال صرف اب تک اگست کے مہینے میں فیصل بیس پر 500 ملی میٹر سے زائد بارش ہو چکی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارشوں سے 89سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔محکمہ موسمیات کے عہدیدار سردار سرفراز نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا تھا کہ رواں ماہ شہر میں 484 لمی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس میں سے 130ملی میٹر بارش صرف جمعرات (گزشتہ روز) ہوئی تھی۔کراچی میں گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس پر ہوئی جہاں 223.5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ سرجانی ٹاؤن میں 193.1 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button