کراچی کے میڈیا کارکن نے اپنی زندگی کیوں ختم کی؟

انسانی زندگی میں پیسے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں دولت کی ہوس اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب یہ انسانی زندگی سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اب پیسہ ہی سب کچھ ہے، عزت، شہرت، بچوں کا بہتر مستقبل، خاندانی وقار اب پیسے سے جڑ چکا ہے، یہاں تک کے مرنے کے بعد باعزت تدفین بھی پیسے سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے کراچی کے ایک 35 سالہ میڈیا کارکن فہیم مغل نے بھی پیسہ کمانے میں ناکامی کے بعد اپنی جان لے لی۔ ایکسپریس نیوز کے سابق ورکر نے بیروزگاری ہونے کے بعد خودکشی سے قبل اپنی اہلیہ کو بتایا تھا کہ وہ تمام کوشش کے باوجود بچوں کی روٹی کے لیے روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے اور اب وہ انکا سامنا بھی نہیں کر سکتا۔ بعد ازاں اس کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔
فہیم کی اہلیہ شہزادی نے بتایا کہ روزگار حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد فہیم خودکشی کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن انہوں نے اپنے شوہر کو سختی سے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر آپ ہی نہ رہے تو بچوں کا سہارا بھی ختم ہوجائے گا۔ شہزادی کے مطابق فہیم نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے شک تھا کہ فہیم ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب ہو چکے ہیں لہذا میں انھیں ایک ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر گئی تھی جس نے انھیں ذہنی دباؤ سے نکالنے کے لیے انکی ’کونسلنگ‘ بھی کی۔ شہزادی کے مطابق جب میں نے فہیم کو بہت ذیادہ پریشانی میں دیکھا تو انھیں مشورہ دیا کہ آپ اپنے دوستوں سے اپیل کریں کہ وہ آپ کی مشکل وقت میں مدد کریں مگر انکا جواب تھا کہ انکا میڈیا کے شعبے میں ایک نام ہے اور لوگ انھیں جانتے ہیں ایسے میں اگر ’میں نے بیٹیوں کے نام پر غربت کا رونا رویا‘ تو اس سے انکی عزت نفس مجروح ہوگی۔ لہذا میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔
فہیم مغل نے اپنی زندگی کے کئی برس میڈیا کے شعبے میں گزارے۔ ایکسپریس نیوز سے پہلے وہ کراچی کے مقامی اخبارات ’ایمان‘ اور ’آزاد ریاست‘ سے بھی وابستہ رہے۔ تین برس قبل وہ ایک اور اخبار کا حصہ بنے لیکن تقریباً آٹھ ماہ قبل انھیں ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ شہزادی کے مطابق جب فہیم کو اس ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے تو پھر انھیں میڈیا کے شعبے میں کہیں دوبارہ ملازمت نہ ملی۔ اس کے بعد فہیم نے اپنے ایک قریبی دوست سے ایک پرانا آٹو رکشہ قرض پر لیا کہ کم از کم بچوں کا پیٹ تو پال سکیں۔
شہزادی فہیم کا کہنا ہے کہ رکشہ پرانا تھا اور اکثر خراب ہو جاتا تھا۔ یوں جمع پونجی اس کی مرمت میں ہی خرچ ہو جاتی تھی اور بچوں کی دوائیاں، کپڑے اور دیگر خرچے پوری کرنا فہیم کا خواب ہی بن کر رہ گیا تھا۔ ان کے مطابق فہیم نے بینک سے قرضہ بھی لیا مگر پھر بھی حالات بہتر نہیں ہو سکے اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ رواں ماہ مکان کا کرایہ دینے اور تین بچوں کو سکول داخل کروانے کے لیے فہیم نے اپنی بہن سے بھی قرضہ لیا۔ ان کے مطابق اب فہیم کو ہر کام کرنے کے لیے قرض ہی لینا پڑتا تھا جبکہ وہ اپنے دوست کو رکشے کے پیسے بھی ادا نہیں کر پا رہے تھے جس وجہ سے وہ اور بھی پریشان رہتے تھے۔
فہیم مغل کی اہلیہ کے مطابق آخری رات سونے سے قبل ایک بار پھر فہیم نے مشکلات کا ذکر چھیڑ دیا تھا اور کہا کہ جب میں بچوں کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا ہوں تو ایسے جینے کا کیا فائدہ ہے۔ میں نے فہیم کو سمجھایا کہ وہ ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔‘ ان کے مطابق ’فہیم نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اس کے بعد فہیم نے ہمیں کہا کہ آپ سب سو جاؤ کیونکہ میں بھی سونا چاہتا ہوں، لیکن اچانک آدمی رات کو میں نے دیکھا کہ فہیم نے خود کو پھندا لگا لیا ہے‘۔ گھر والوں کو جیسے ہی پتا چلا تو وہ فہیم کو فوری طور پر اسی رکشے میں ہسپتال لے گئے۔ لیکن ہسپتال والوں نے بتایا کہ فہیم کا دل دھڑکنا بند ہوچکا ہے، آپ اگر 20 منٹ پہلے آ جاتے تو شاید انکی زندگی بچائی جا سکتی۔
شہزادی کے مطابق اب فہیم بھی دنیا چھوڑ چکے ہیں اور وہ نہیں جانتیں کہ اپنے بچوں کو کیسے پالیں گی۔
