کرونا کیسز میں اضافے پر ملک بھر میں نئی پابندیاں

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے پیش نظر ملک کے اہم شہروں میں 31 اگست تک نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔وزیر اعظم کی جانب سے پابندیوں کی منظوری کے بعد اسد عمر نے اہم شہروں میں نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہو گا ان میں صوبہ پنجاب میں پنڈی، لاہور اور فیصلہ آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا نفاذ رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مثبت کیسز کی شرح برقرار رہتی ہے تو کراچی اور لاہور میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ، آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا آغاز 3 اگست سے ہو گا اور یہ 31 اگست نافذ رہیں گی جبکہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہو گی جنہیں ‘سیف ڈیز’ کا نام دیا گیا ہے البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہو گا کہ وہ کون سے دو دن چھٹی کریں گے۔اسد عمر نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کے اوقات کار رات 10 بجے سے کم کر کے 8 بجے تک کردیا گیا ہے.
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں، اس لیے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے البتہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے لیکن اس کا وقت بھی 2 بجے سے کم کر کے 10 بجے تک کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شادیوں پر بھی یہی قانون لاگو کیا گیا تھا کہ اگر آپ کی ویکسینیشن ہو چکی ہے تو آپ شادی میں جا سکتے ہیں لیکن اس پابندی پر بھی اطلاق نہیں کیا گیا لہٰذا 400 لوگوں سے زائد افراد کو شادی میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
