کرپٹ اور نااہل قرار پانے والا عمر شیخ اچھا افسر کیسے بنا؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لاہور کے متنازعہ سی سی پی او عمر شیخ کی تعریف میں ایک تازہ بیان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر موصوف اتنے ہی قابل تھے تو پھر سنٹرل سلیکشن بورڈ نے پچھلے برس انہیں کرپٹ اور نااہل کیوں قرار دیا تھا اور پھر عمران خان نے انہیں اگلے گریڈ میں ترقی دینے سے کیوں انکار کیا تھا. یاد رہے کہ ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں عمران خان نے عمر شیخ کو لاہور کا سی سی پی او تعینات کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پچھلے دو سال سے تمام تر کوسشوں کے باوجود لاہور پولیس سے ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ نہیں چھڑوایا جا رہا تھا لیکن عمر شیخ نے یہ کام چند ہی دن میں سر انجام دے دیا۔
سینئر صحافی انصار عباسی اپنی ایک تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانا عمر شیخ کا وہ کارنامہ بن گیا جس کی وجہ سے وہ عمران خان کی آنکھ کا تارا بن گئے، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے، کوئی اُنہیں تبدیل نہیں کر سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس کارنامے کا ذکر خود وزیراعظم نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کیا اور یہ تسلیم کیا کہ جب وزیراعظم اپنے بہنوئی کی زمین کا قبضہ نہیں چھڑوا سکتا تو عام لوگوں کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ انصار عباسی کے مطابق وزیراعظم نے جو کہا، وہ کارنامہ تو نہیں بلکہ پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کے لیے بھی ایک المیہ ہے۔ اگر وزیراعظم کے کہنے کے باوجود پنجاب حکومت، جو عمران خان کے چہیتے عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس چلا رہے ہیں، اِس قابل نہیں کہ دو سال تک وزیراعظم کے کہنے کے باوجود اُن کے بہنوئی کی زمین کا قبضہ نہ چھڑا سکے تو پھر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام پاکستانیوں کا کیا حال ہوگا؟
سینئر صحافی کے مطابق اگر لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ایسے کیس صرف صوبہ پنجاب میں ہوں گے جہاں قبضہ گروپوں نے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوگا لیکن اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔چلیں اچھا ہوا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ صاحب نے آتے ہی وزیراعظم کے بہنوئی کی زمین کا قبضہ چھڑوا دیا لیکن کیا وزیراعظم نے عمر شیخ صاحب سے پوچھا کہ یہ مہربانی صرف وزیراعظم کے بہنوئی کے ساتھ کی گئی یا لاہور میں عام لوگوں کی زمینوں کو بھی قبضہ مافیا سے چھڑوا دیا گیا؟ چلیں سو فیصد نہیں تو کم از کم پچاس فیصد تو قبضے چھڑوا ہی دیے گئے ہوں گے۔ اگر لاہور میں واقعی قبضہ مافیا کو ختم کر دیا گیا تو پھر صوبے کے باقی علاقوں میں رہنے والوں کو قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے عمران خان اور عثمان بزدار نے کیا سوچا؟ انصار عباسی نے مشورہ دیا کہ پولیس سروس میں وزیر اعظم اور عمر شیخ بھی ڈھونڈیں اور اُن کو ہر ضلع میں لگا دیں۔ لیکن شائد یہ جو ممکن نہیں ہوگا کیونکہ عمر شیخ تو ایک ہی ہے جس کو چند ماہ پہلے ہی سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے کرپٹ اور نااہل ہونے کی بنیاد پر وزیراعظم عمران خان نے ہی ترقی دینے سے انکار کیا لیکن پھر بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے اُن انتہائی منفی رپورٹس کے باوجود اُنہیں سی سی پی او تعینات کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ عمر شیخ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہی اپنے آئی جی کے خلاف، اپنے ماتحت تمام افسروں کے سامنے بات کر دی اور کہا کہ اب صوبہ پنجاب آئی جی کا نہیں بلکہ اُن کا حکم مانا جائے۔ جب آئی جی نے اپنے اختیار کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھیں تو انہوں نے عمر شیخ کی شکایت وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم سے کی جس پر عمران خان نے عمر شیخ کی بجائے آئی جی کو ہی تبدیل کردیا۔
سی سی پی او لاہور تعینات ہونے کے بعد لاہور سیالکوٹ موٹروے سانحہ کے متعلق عمر شیخ نے انتہائی متنازعہ بیان دیا جس سے اوروں کے ساتھ ساتھ عمران خان حکومت کے اپنے وزراء بھی ناراض ہوئے اور اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن خان صاحب ڈٹے رہے۔ عمر شیخ نے ریپ ہونے والی عورت کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ اگر کوئی عورت آدھی رات کو موٹر وے پر سفر کرے گی تو پھر ایسا تو ہو گا۔ تاہم عمر شیخ کے اس بیان کا نوٹس لینے کی بجائے وزیراعظم نے ان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چند جونیئر افسر ایک محنتی آفیسر کے خلاف سازش کر رہے ہیں لہذا سی سی پی او لاہور اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ظاہر ہے معاملہ عمران خان کی حکومت کی ساکھ سے ذیادہ بہنوئی کے پلاٹ کا تھا جس کو چھڑوانے کے لیے عمر شیخ دن رات کوشاں تھے۔
لیکن انصار عباسی نے اپنی تازہ تحریر میں وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر واقعی عمر شیخ اتنے ہی قابل ہیں تو پھر خان صاحب کو چاہیے کہ اُنہیں آئی جی پنجاب لگا دیں بلکہ اگر ممکن ہو تو عثمان بزدار کو ہٹا کر عمر شیخ کو وزیراعلیٰ پنجاب لگا دیں تاکہ جو مہربانی خان صاحب کے بہنوئی کے ساتھ ہوئی، اُس سے پنجاب میں رہنے والے ہزاروں دوسرے متاثرینِ قبضہ گروپ بھی استفادہ حاصل کر سکیں۔
سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب سچ سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں تو حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں بدترین طرز حکمرانی کا راج ہے جہاں کسی افسر کو بغیر کسی ’’بڑے‘‘ کی پشت پناہی کے کسی جگہ ٹکنے نہیں دیا جاتا۔ جتنی بڑی تعداد میں افسروں کو گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پنجاب میں سیاسی وجوہات کی بنا پر تبدیل کیا گیا، اُس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔اِس وجہ سے گورننس کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں، محکموں کے سیکرٹری ہوں یا ضلعوں کے انتظامی اور پولیس افسران، وہ کسی وزیر، مشیر، حکمران پارٹی کے ایم این اے، ایم پی اے اور دوسرے رہنمائوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
عمر شیخ نے وزیراعظم کو خوش کر دیا، چنانچہ اُن کی نوکری توپکی ہو گئی، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہی وہ خرابی ہے جسے دور کرنے کا وزیراعظم وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے، وہ بیوروکریسی اور پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کےعزم کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، اُن کا وعدہ تھا کہ بیوروکریسی میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن اپنے ہی وعدے کے برعکس خان صاحب نے بیوروکریسی اور پولیس کو مزید سیاست زدہ کر دیا اور وہ بھی صرف اپنے بہنوئی کے پلاٹ کی خاطر۔
انصار عباسی نے تو جذبات میں آ کر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ خان صاحب سے درخواست ہے کہ عمر شیخ کو پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی اہم ذمہ داریاں دے دیں کیونکہ وہاں بھی قبضہ مافیا بہت سرگرم ہے، سی ڈی اے کے مختلف سیکٹرز بشمول پارک انکلیو کا بھی اربوں روپیہ عوام سے لینے کے باوجودہ پلاٹوں کا قبضہ اِس لیے نہیں دیا جارہا کیونکہ وہاں بھی کچھ قابضین بیٹھے ہیں اور جن کی زمینوں پر قبضہ ہے ان کی وزیراعظم سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے نہیں۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ عمر شیخ کو وزیراعظم بنا دیں لیکن پنجاب کے ساتھ ساتھ اُن کو اسلام آباد کا آئی جی اور سی ڈی اے کا چیئر مین بھی لگا دیں۔  یہ سب میں اِس لیے کہہ رہا ہوں کہ وزیراعظم کا گورننس ماڈل ہی اب ایسا انوکھا ہو چکا کہ عمر شیخ کو پاکستان کی بیوروکریسی اور پولیس کے لیے رول ماڈل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اگر کوئی سمجھے تو ایک عظیم المیے سے کم نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button