کریمہ بلوچ کی ہلاکت، 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

بلوچستان کی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بشریٰ رند نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی ہلاکت کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بلوچستان بشریٰ رند نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے ہمیں آزادی کی قدر کا احساس ہوتا ہے۔ بشری رند نے کہا کہ کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی ہلاکت پر بہت افسوس ہے۔ کریمہ بلوچ کینیڈا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔کریمہ بلوچ کو سکیورٹی فراہم کرنا کینیڈا کی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ کریمہ بلوچ کی ہلاکت کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں دو افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کریمہ بلوچ کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات سامنے لائی جائیں۔
واضح رہے کہ 37 سالہ کریمہ بلوچ کی تین روز قبل موت ہو گئی تھی،وہ کینیڈا میں پناہ گزین کی حیثیت سے مقیم تھیں۔ کریمہ بلوچ کو بلوچ خواتین میں سیاسی تحریک پیدا کرنے کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ بلوچ آرگنائزیشن کی ستر برس کی تاریخ میں تنظیم کی پہلی خواتین سربراہ بنیں۔ بلوچستان میں طالبات کو بلوچ تحریک میں شامل رکھنے اور احتجاجوں میں شریک کرانے میں ان کا اہم کردار ہے۔ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کریمہ بلوچ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔
