کشمیر ایکشن کمیٹی کیخلاف درج تمام ایف آئی آرز بحال، نوٹیفیکیشن جاری

آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق واپس لی گئی ایف آئی آرز بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت کے خلاف درج 177 مقدمات دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات کے حوالے سے جاری سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لیتے ہوئے تمام متعلقہ ایف آئی آرز دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاستی رٹ اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے مختلف فوجداری عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات سے متعلق چار سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ 5 جون 2026 کو منعقدہ آزاد کشمیر کابینہ کے 41ویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔
واپس لیے گئے نوٹیفکیشنز میں نمبر LD/Litigation/763-83/2024 مورخہ 7 دسمبر 2024، نمبر LD/Litigation/25/227/2025 مورخہ 15 دسمبر 2025، نمبر LD/Litigation/25/227-A/2025 مورخہ 26 دسمبر 2025 اور نمبر LD/Litigation/25/1-227-A/2025 مورخہ 31 دسمبر 2025 شامل ہیں۔
اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے جے اے اے سی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تنظیم کے ساتھ نہ اس وقت کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ مستقبل میں بات چیت کا ارادہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ معاہدوں کے تحت واپس لی گئی ایف آئی آرز کو معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق جے اے اے سی کے خلاف درج 177 مقدمات، جو چند ماہ قبل مذاکرات کے بعد واپس لے لیے گئے تھے، ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی قانونی ذمہ داری تنظیم کی قیادت پر عائد کی گئی ہے۔ ریاست نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ مذاکرات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور متعلقہ افراد کو قانون کے سامنے پیش ہو کر سرنڈر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تازہ پیش رفت کو حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے جے اے اے سی کے خلاف اب تک کا سخت ترین مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد خطے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال میں مزید کشیدگی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
