کشمیر پر اداروں نے وزیراعظم کو سپورٹ نہیں کیا

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وزارت خارجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو بہت آگے لے کر گئے ہیں لیکن ہمارے اداروں خصوصاً وزارت خارجہ پوری طرح وزیراعظم کو سپورٹ نہیں کرسکی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے جس بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے، بدقسمتی سے ہمارے اداروں خصوصاً وزارت خارجہ نے اس طرح سے وزیراعظم کی کوششوں میں مدد نہیں کی جس طرح سے وہ کرسکتے تھے، صرف بیانات کافی نہیں بلکہ دفتر خارجہ کو اس سے زیادہ کچھ کرنا ہوگا اور سفارت کاری کی روایتی پالیسی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے کشمیر پر کچھ نہیں کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے متعدد بار کشمیر کے حوالے سے بیانات آئے، سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، یورپی یونین نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی، آزاد کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے، ہمیں اقوام متحدہ کی امن فورس مقبوضہ کشمیر لگانے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین اور بچوں کے عالمی فورمز پر کشمیر کے مظالم اٹھانے چاہئیں ،جنرل اسمبلی سے 5 اگست کے بعد کی صورت حال پر ایڈوائزری قرارداد لینی چاہیے، اقوام متحدہ قرار دے چکی ہے کہ متنازع حصے کی حیثت نہیں بدلی جاسکتی، ہمیں مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی امن فورس کی تعیناتی کا مطالبہ کرنا چاہیے، ہماری طرف اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ کشمیر کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے، اقوام متحدہ کی رجسٹری بنائی جائے کہ کس کس کشمیری کو ووٹ کا حق ملے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کررہی ہے، بھارت کشمیریوں پر جو سلوک کررہا ہے اس کی تشہیر کرنی چاہیے، اس حکومت نے دنیا سے منوایا ہے کہ مودی ظالم ہے، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے آر ایس ایس اور نازی ازم کی سوچ بے نقاب کی، وزیراعظم نے مودی کو جدید دور کا ہٹلر قرار دیا، مودی کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے رکھا گیا۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سیاست کرے مگر کشمیر پر سیاست نہ کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button