کوئٹہ: دھماکا دو پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق

کوئٹہ کے علاقے شارع اقبال پرپریس کلب کے نزدیک اہلسنت والجماعت کی ریلی میں دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکا ضلع کچہری کے قریب ہوا جہاں متعدد سرکاری عمارتیں موجود ہیں، دھماکے کی زد میں متعدد گاڑیاں اور راہگیر بھی آئے۔ کوئٹہ میں واقعہ کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوراً قریبی اسپتال منتقل کیا، ترجمان سول اسپتال نے دھماکے میں 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں میں مزید افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر شواہد اکھٹے کرنا شروع کردئیےہیں۔
دوسری طرف ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ احتجاجی ریلی کے شرکاء تھے،ایک کم عمر نوجوان پیدل آیا، ریلی میں شامل ہونا چاہتا تھا، پولیس نے روکا تو خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے کوئٹہ دھماکے کی ابتدائی تحقیقات بارے بتایا کہ دھماکا عصر کی نماز کے بعد ہوا۔ دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سے لگتا ہے کہ نشانہ ریلی کے شرکاء تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلی کے شرکاء کو سکیورٹی دی گئی تھی اور علاقہ بند کیا ہواتھا۔ ایک کم عمر نوجوان پیدل آیا جس کو پولیس نے روک لیا اور آگے نہیں جانے دیا، حملہ آور ریلی میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن پولیس نے روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار اور زخمیوں کو بہترین طبی امدادکی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ میں بم دھماکے کی مذمت کی اور قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد سخت ترین سزا کے مستحق ہیں جب کہ شہر کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنایا جائے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے دھماکے کی مذمت کی اور جانی نقصان پرافسوس کا اظہار کیا ہے
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں 9 فروری کو بم دھماکے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ایک اہلکار شہید اور دیگر 5 زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے قبل 10 جنوری کو بھی کوئٹہ کے علاقے سٹیلائٹ ٹاؤں کی مسجد میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) امان اللہ سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔
