’کورونا‘ سب سے زیادہ کہاں پھیل رہا ہے؟

دسمبر 2019 کے وسط سے چین کے شہر ’ووہان‘ سے شروع ہونے والا کورونا وائرس 11 مارچ 2020 کی سہ پہر تک دنیا کے 118 ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 133 افراد متاثر ہو چکے تھے اگرچہ اب بھی متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ چین میں ہے تاہم حیران کن طور پر گزشتہ 2 ہفتوں سے چین میں کورونا وائرس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
ابتدا میں چین سے یومیہ ایک سے تین ہزار افراد کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اب وہاں سے 40 سے 50 افراد کے متاثر ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور چین حکومت نے کورونا وائرس پر تقریبا قابو پانے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں کورونا وائرس چین سے مسلسل کم ہورہا ہے، وہیں مذکورہ وائرس دوسرے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
چین میں ریکارڈ مریضوں کی وجہ سے اگرچہ براعظم ایشیا اب تک کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے سرفہرست ہے تاہم گزشتہ 2 ہفتوں سے اس وائرس کو ایشیا کے بجائے ’یورپ‘ اور ’امریکا‘ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کورونا وائرس یورپی ملک اٹلی اور امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور کچھ ہی دن میں دونوں ممالک میں اندازوں سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب چین کے بجائے اٹلی میں یومیہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں جب کہ امریکا میں بھی معمول اور اندازوں سے زیادہ مریضوں کے سامنے آنے سے وہاں خوف پھیل چکا ہے۔اٹلی میں 11 مارچ کی سہ پہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار 149 تک جا پہنچی تھی جب کہ امریکا میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار 30 تک جا پہنچی تھی۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ چند دن کے کیسز کو دیکھنے سے اندازا ہوتا ہے کہ کورونا وائرس اب براعظم ’یورپ‘ اور ’امریکا‘ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اگرچہ یورپ میں سب سے زیادہ مریض اٹلی میں ہین، تاہم دیگر یورپی ممالک جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سویڈن، بلیجیم، ڈنمارک اور آسٹریا‘ جیسے ممالک شامل ہیں، وہاں مسلسل کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔یورپ میں کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ’اٹلی، دوسرے نمبر پر فرانس، تیسرے نمبر پر اسپین، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈ‘ ہے۔
اٹلی کے علاوہ یورپی ملک جرمنی، فرانس اور اسپین میں ڈیڑھ ہزار یا اس سے زائد مریض سامنے آ سکے ہیں، جب کہ باقی تمام ممالک میں 500 سے کم اور 10 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور تقریبا یورپ کے ہر ملک میں کورونا کے مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔یورپ کے علاوہ امریکا میں بھی تیزی سے کورونا پھیل رہا ہے کیوں کہ تین ہفتے قبل ہی یہ وائرس امریکا میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں مریضوں کی تعداد 1100 کے قریب پہنچ گئی اور وہاں اس سے 31 تک ہلاکتیں ہونے سے خوف پھیل گیا۔
امریکا میں جہاں کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے میوزیکل پروگرامات منسوخ کردیے گئے ہیں، وہیں وہاں پر کئی شہروں کے مارکیٹس بھی بند کردیے گئے ہیں۔امریکی ریاست نیویارک میں تو کورونا وائرس کے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر قرنطینیہ میں موجود افراد کی حفاظت اور انہیں اشیا پہنچانے کے لیے فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔کورونا وائرس کے انٹرنیشنل لائیو میپ کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، علاوہ ازیں ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہا، جتنی تیزی سے یورپ و امریکا میں پھیل رہا ہے۔
ایشیا میں چین کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض ایران میں ہیں، جہاں 11 مارچ کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہزار42 تک جا پہنچی تھی، تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے جہاں مریضوں کی تعداد 7 ہزار 755 تک جا پہنچی تھی۔اگر ایشیا میں جنوبی ایشیائی خطے کی بات کی جائے تو اس خطے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار یورپ سے کم ہے اور یہاں مجموعی طور پر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، سری لنکا اور بھوٹان‘ کے مجموعی مریضوں کی تعداد 100 سے بھی کم ہے۔
جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سوا ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک بھارت میں ہے، جہاں 11 مارچ کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی تھی، دوسرے نمبر پر پاکستان ہے جہاں مریضوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی تھی۔افغانستان میں 5، ، بنگلہ دیش میں 3، سری لنکا میں 2، بھوٹان میں ایک اور نیپال میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
جنوبی ایشیا میں جہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر خطوں سے کم ہے، وہیں اس خطے میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی بہت کم ہوئیں اور اس خطے میں کورونا وائرس کے صرف 4 مریض ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔جنوبی ایشیا کے علاوہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی امریکا اور یورپ میں ہے۔
